بند کریں
پیر جولائی

کمی نہیں ہے۔۔۔ کمی ہے

سید شاہد عباس :

کمی نہیں ہے۔۔۔ کمی ہے۔۔۔ دونوں باتیں حقیقت پہ بھی مبنی ہیں اور مفروضے پہ بھی ۔ پریشان نہ ہوں اور نہ ہی پاگل خانے والوں کو فون کیجیے گا کہ راقم کا دماغی توازن مشکوک ہو گیا ہے ۔ نہ ہی میں بالوں میں مٹی ڈالے کوئی ایسا فلسفی ہوں جس کہ نہ صبح کا ہوش ہو نہ ہی رات کا۔ نہ پتا چلے کب سورج نے دیدار کروایا نہ یہ علم ہو کہ کس لمحے چاند نے روشنی بکھیرنا شروع کر دی ۔

یہ دونوں پاکستانی عوام پہ بطور قوم اور اجتماعی رویوں کے صادق آتی ہیں۔ پاکستانی قوم ہر حادثے ، واقعے یا معاملے کے مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کو رگیدتی ہے۔ حیران ہرگز نہ ہوں یہ سوچ کا انداز بہتری کا اشارہ اس لیے بھی نہیں کرتا کیوں کہ ہم اچھوں کو برا اور بروں کو اچھا ثابت کرنے پہ تلے رہتے ہیں۔ دوسرا سب سے بڑا ہمارا قومی مسلہ ہے کہ ہم پیٹھ پیچھے بات کرنے میں ماہر ہیں اس سے بھی زیادہ ہم لوگ مردہ لوگوں کو متنازعہ بنانے میں بھی ماہر ہیں۔

ابھی کچھ دن ہی ہوئے امجد صابری کو لہو لہان کیا گیا تو پوری دنیا اُس کو خراج عقیدت پیش کر رہی تھی اور ہم اپنی ذہانت و فطانیت اس پہ صرف کر رہے تھے کہ وہ نعت خواں تھا یا سنگر۔ ایک فریق راگ الاپ رہا ہے اُس میں یہ کمی تھی۔۔۔ دوسرا بضد ہے کوئی کمی نہیں تھی۔ لاحاصل بحث۔۔۔
کچھ ایسا ہی ایدھی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ایدھی سے سب سے بڑی غلطی زندگی میں یہ ہوئی کہ اُس نے جھگڑا دیکھا۔

پہلا شخص زخمی ہوتے دیکھا۔ لوگوں کو تماشہ دیکھتے ہوئے پایا اور دل میں ٹھان لی کہ جنہیں کوئی نہیں اُٹھائے گا انہیں میں اُٹھاؤں گا۔ جن کو کوئی غسل دینے والا نہیں ہو گا اُن کو میں غسل دوں گا۔ جن کو دفنانے والا کوئی نہیں ہو گا اُن کو میں دفناؤں گا۔ جن کو لوگوں کوڑے پہ ڈال کے بے نشاں کر دیں گے اُن کا باپ بھی میں بنوں گا اور ماں بھی۔ اُس کولوگوں کی ہوس کو اپنا نام دینے پہ تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن وہ اپنے کام میں جتا رہا۔

لوگ صرف باتوں میں اس کی مثالیں دیتے رہے کہ یہ دو جوڑے کپڑوں میں رہتا ہے ۔ اور وہ عمل میں جتا رہا۔ لوگ اُس کے ساتھ تصویریں بنوانے کو ترجیح دیتے رہے اور وہ لاوارثوں کا وارث بننے میں مصروف رہا۔ حتیٰ کہ جب وہ بستر مرگ پہ تھا تب بھی لوگ اس کے ساتھ بنائی گئی تصاویر کو اپنی کامیابی کی ضمانت بنا رہے تھے۔ لیکن اس نے کسی کو منع نہیں کیا۔
آج ایدھی کو دنیا سے گئے ایک ہفتہ ہونے کو آیا ہے ۔

کیا ہم نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی کہ ہم نے ایدھی کے مقصد کو کتنا آگے بڑھایا۔ کیا ہم نے ایدھی فاؤنڈیشن کے لیے آج بھی اپنی تجوریوں کے منہ کھولے؟ کیا بیس کروڑ لوگوں میں سے کسی ایک نے بھی عہد کیا کہ ہم اپنے ہاتھوں سے لاوارث لاشوں کو غسل دیں گے؟ کیا ہم میں کوئی ایسا ہے جس نے اپنے دل میں خود سے وعدہ کیا ہو کہ ایدھی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرنے لیے آج میں نہ سہی اپنے گھر میں موجود پرانے فالتوں کپڑوں کو ہی کسی خیراتی ادارے کے دے دوں گا؟ کیا ہم ایدھی کے چلے جانے کے غم میں ایسا سوچ پائے کہ ہم ایدھی ہومز جا کر کسی ایک بچے کو اپنائیں گے؟ کیا ہم میں سے کوئی یہ دعوی کر سکتا ہے کہ اس نے ایدھی کے دنیا سے جانے کے دن کے بعد سے آج تک ایک مرتبہ بھی ایدھی کے کسی ایک کام کی تقلید کرنے کا سوچا بھی ہو؟
یقیناًایسا کچھ نہیں ہوا۔

۔۔ ہم تو اس خوشی میں غرق ہوئے ہی بیدار ہونے کا نام نہیں لے رہے کہ بھئی کراچی میں ایک شاہراہ کو ایدھی سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ ہم اس غم میں ہی گھلے جا رہے ہیں کہ نیو اسلام آباد ائیر پورٹ کا نام ایدھی سے منسوب کر دیا جائے۔ ہمیں یہ دکھ ہی کھائے جا رہا ہے کہ اب تک ایدھی کے نام سے کوئی یادگار کیوں نہیں بن پائی۔ ایک گروہ ایدھی کو شیعہ ثابت کرنے پہ تلا ہوا ہے تو دوسرا اس کو سنی مانے بیٹھا ہے۔

ارئے بھئی ایدھی وہ تھا جو یہ کہتا تھا کہ انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ وہ ہاتھ باندھ کر نماز پڑھنے والوں کو بھی اپنے ہاتھوں سے غسل دیتا تھا اور ہاتھ کھول کر پڑھنے والوں کی تدفین بھی خود کرتا تھا۔
خدارا۔۔۔۔ بھول جاؤ کہ وہ کس فرقے، کسی لسانی گروہ، یا کس تنظیم کے حق میں تھا یا مخالفت میں تھا۔ چھوڑ دیجیے کہ ایدھی میں کیا کمی تھی اور کیا کمی نہیں تھی۔

نکال دو اس بات کو ذہن سے کہ وہ مہاجر تھا یا پنجابی۔ اُس کے کام کو زندہ رکھو۔ شاہراہوں کے نام بھی تبدیل ہوتے رہیں گے اور ہوائی اڈے بھی ایدھی کے نام سے منسوب ہو جائیں گے۔ اگر واقعی ایدھی سے اتنا پیار ہے تو اس کے پیغام کو نئی زندگی دو۔ ایدھی فاؤنڈیشن کو اتنے دل کھول کر عطیات دو کہ انہیں محسوس ہی نہ ہو کہ ایدھی کے بعد لوگوں کی محبت میں کوئی فرق آیا ہے۔

ایدھی سے محبت ہے تو اس کے یتیم خانوں، مردہ خانوں، اولڈ ہومز،کی ذمہ داریاں اپنے ذمے لو۔ یتیموں کی کفالت کرو۔ ایدھی ہومز کی لاوارث بچیوں کی شادیوں کے انتظامات میں ادارے کی مدد کرو۔ لاوارث لاشوں کو اپنے ہاتھ لگاؤں۔ یقین رکھو کہ مردہ کاٹ کھانے کو نہیں آتا۔ صرف ایدھی کے نام سے سڑکیں اور ائیر پورٹ منسوب کروانے پہ ہی ساری توانائیاں خرچ نہ کرو ۔ کچھ اس کی روح کی خوشی کا بندوبست بھی کرو۔ اور اپنی عاقبت بھی سنوارو ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2016-07-21

کالم نگار     :     سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-