بند کریں
اتوار دسمبر

کو نسی اور کیسی جمہوریت؟

حافظ ذوہیب طیب :

ترکی میں فوج کے ایک گروپ نے بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور ملک میں مار شل لا ء نافذ کردیا ۔لیکن عوام کی زبردست مزاحمت کی وجہ سے باغیوں کے اس گروہ کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس واقعے سے لیکر اب تک ہمارے میڈیا کے کچھ جا ہل دانشورجنہیں اپنے علم اور معلومات پر بہت غرور ہے ، اس واقعے کو پاکستان کے حالات کے ساتھ ملا رہے ہیں ۔ ان عقل کے اندھوں کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ جس جمہوریت کے وہ نعرے لگا رہے ہیں وہ کس چڑیا کا نام ہے؟ترکی میں قائم جمہوریت حقیقی معنوں میں جمہوریت ،جبکہ ہمارے ہاں قومی خزانے اور عوام کے پیسوں کی لوٹ کھسوٹ ، عوام کو ذلیل وخوار کرنا اور ملک کا بیڑہ غرق کرنے کو جمہوریت کا نام دیا ہوا ہے ۔

ترکی کی سیاسی صورتحال پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے یہاں پر قائم جمہوری نظام ہم سے یکسر مختلف ہے ۔ معروف کالم نگار جناب فرخ سہیل گوئندی نے اپنے ایک کالم میں جس پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بڑی خوبصورتی کے ساتھ اس فرق کو واضح کیا ہے ۔
قارئین !آپ ملک عزیز کے پچھلے 3، عشروں کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو کسی بھی عام انتخابات کے بعد صرف خاندانی حکومت کا قیام ممکن ہوا۔

اپنی عیاشیوں کو فروغ دینے اور اپنے خاندان کے ہر فرد کو کھلی چھوٹ دیتے ہوئے ملک کی دولت کو اپنے باپ کی دولت کی طرح ہضم کر نے والے طریقہ کار کو جنہوں نے جمہوریت کا نام دے دیا ۔ہمارے ہاں جمہوریت کی تاریخی جڑیں بر طانوی کلو نیل نظام سے ابھری ہیں ۔ جس کا آغاز محدود جمہوریت سے ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ 1935کے بر طانوی کلونیل ایکٹ پر قائم پاکستان کا ریاستی ڈھانچا ایک حقیقی جمہوریت کو یہاں پنپنے ہی نہیں دے سکتا ۔

یہاں صرف مخصوص خاندانوں کی بادشاہت کو جمہوریت کا نام دے کر عوام کو بے وقوف بنا یا جا رہا ہے ۔
ترکی کی جمہوری روایات پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جمہوریت کی تاریخ کئی زیادہ شان دار ہے ۔ یہ تیسری دنیا کی واحدیسی جمہوریت ہے جو کسی کلونیل ریاست کے بطن سے قائم نہیں ہوئی ۔ برصغیر پاک و ہندسے یکسر مختلف جہاں جمہورتیں خاندانوں، موروثیت کلونیل اور فیوڈل مزاج کے ارد گرد گھوم ر ہی ہے ترکی کی جمہوریت اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر تک قائم ہوتی چلی گئی جسکے نتیجے میں ایک ایسا نظام رائج ہوا جہاں حکمران اپنی ذاتی خواہشوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے ملک اور عوام کے بارے سوچتے اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرتے ہیں۔


قارئین کرام !ہمارے ہاں جمہوری روایات کا یہ حال ہے کہ اقتدار کی مسندوں پر بیٹھے ، حکمرانی کی نشہ میں مست جس کا بھی دل چاہتا ہے ، حرام خوری، کرپشن اور بعض دوسرے طریقوں کے ذریعے ملکی خزانے کو لو ٹتا ہے اور اپنے سرے محل، آف شور کمپنیاں اور سوئس اکاونٹس کو آباد کرتا ہے ۔ ان کے آلہ کار بھی کرپشن کی دوڑ میں ان سے آگے نکلنے کی کوششوں میں ایسے ایسے ریکارڈ قائم کرتے نظر آتے ہیں جس کی مثال حالیہ دنوں میں سندھ اور بلوچستان میں ہمیں نظر آتی ہے ۔

بلوچستان میں سابقہ اور حالیہ وزیروں کے صندوقوں سے ملکی خزانے کی لوٹے ہوئے اربوں روپے بر آمد ہو رہے ہیں ۔ سندھ کی بات کی جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ یہاں آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے ۔ وزیر اعلیٰ سے لیکرچوکیدار تک ، ہر شخص کسی نہ کسی طرح کرپشن میں ملوث ہے ۔ حال ہی میں سر کاری ٹھیکوں میں اربوں روپے کی کرپشن اور جرایم پیشہ افراد جن میں سے سیکورٹی اداروں کی طرف سے 8، ملزموں جن کے سروں کی قیمت مقرر ہے ، کی معاونت میں ملوث وزیر داخلہ سند ھ کے بھائی کے فرنٹ مین کو حساس اداروں کی تحویل سے چھڑوا کر کراچی فرار کرادیا گیا اور جہاں اب سے دوبئی بھجوانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔


ایسی ہی ایک خبر چند روز پہلے دیکھنے کو ملی جس میں چیف سیکریٹری پنجاب کے بلے کو چوری کی روداد تھی۔ بلے کو لے کر متعلقہ تھانے کے ایس۔ایچ۔او پر اتنا پریشر تھا کہ وہ پہلے تو کئی روز تک ان کے ذاتی ملازمین سے تفتیش کرتا رہا اور اس کے علاوہ سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں کو شہر میں موجود پرندہ و جانور مارکیٹ میں تعینات کئے رکھا جو دوکانداروں اور گاہکوں سے تفتیش بھی کرتے رہے ۔

لیکن جب پریشر مزید بڑھا تو ایس۔ایچ۔او، اس سے ملتے جلتے بلے کو حاصل کر کے چیف سیکریٹری کے پاس حاضر ہوااور اپنی کار کردگی پر اظہار مسرت کر تے ہوئے کہا: حضور!میں نے دن رات ایک کر کے بلے کو بازیاب کرا لیا ہے ۔ جب صاحب بہادر نے بلے کو غور سے دیکھا تو ایس۔ایچ۔او کا جھوٹ پکڑ کے اس کی خوب تواضع کی ۔ لیکن اسی شہر میں بادامی باغ سے 4، بچوں کا اغواء ہوتا ہے ، کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔

اگر کوئی ننھے اور معصوم بچوں کو کم از کم بلے کو بازیاب کرنے کی ہی کوشش کر لیتا تو عمیر نامی بچے کی بوری بند لاش نالے سے نہ ملتی۔
قارئین کرام !جہاں عوام ضروری اشیا ء زندگی کے لئے ترستے ہوں، جہاں ان کو علاج کے لئے گھنٹوں ذلیل ہو نا پڑے،جہاں گھروں میں کئی کئی روز سے فاقے ہوں، جہاں لوگوں کے جگر گوشوں کی بوری بند لاشیں ملتی ہوں، جہاں انصاف چند لوگوں کے گھر کی باندی ہو، جہاں امیرمزید امیر اور غریب کا استحصال ہو، جہاں کرپشن کی کمائی کھانے والا معزز اور صبح سے شام اور شام سے صبح محنت مزدوری کر نے والوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جائے وہاں پھر لوگ کسی اور نظام کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں اور وہ نظام جو بھی ہو عوام اس کے آنے پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے جشن مناتے ، مٹھائیاں تقسیم کرتے اوراسے اپنی خوشحالی کے دور کا آغاز سمجھتے ہیں ۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2016-07-19

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-