بند کریں
اتوار دسمبر

کوئی ہے

اسرار احمد راجہ :

پرانی کہاوت ہے کہ شہر میں بڑی آسودگی تھی، دور دراز سے آنیوالے قافلے شہر میں رکتے تھے اور نئی نئی چیزیں شہریوں کے ہاتھ بیچتے تھے ۔ شہروالے ان چیزوں کے بدلے میں اپنی مصنوعات تاجروں کو فروخت کرتے اور خوب منافع کماتے تھے۔ یہ شہر زمین پر جنت کا ٹکڑا تھا ۔ ہر سو ہریالی تھی،پہاڑ جنگلات سے بھرے تھے، اونچی چوٹیوں پر برفباری ہوتی تھی اور شہرکے اردگر سینکڑوں میل پر پھیلی خدا کی زمین سرسبز کھیتوں ، پھلدار باغوں اور پھولوں سے مزین تھی۔

بارش رکتی تو درمیانی پہاڑیوں اور ٹیلوں پر عجب منظر آمڈآتا ۔ سرسبز پہاروں اور ٹیلوں پر سفید اور بھوری گائیں ، بھیڑیں ، بکریاں اور گھوڑے چرنیں چلے آتے ۔ مال مویشی ان چراگاہوں پر ایسے نظر آتے جیسے قدرت نے سبز زمین پر رنگ برنگے نقش گاڑھ دیے ہوں ۔ ڈھلتے سورج کی کرنیں ان ٹیلوں پر الودعیٰ شعاعیں بکھیرتیں تو نورورنگ کا حسین منظر دیکھنے والوں کو مبہوت کر دیتا ۔

کہتے ہیں کہ شہر بے مثال کے جنوب میں صحرا تھا اور پھر سمندر تھا جہاں دنیا بھر سے تجارتی جہاز آکر رکتے اور پھر قافلوں کی صورت میں اپنا تجارتی سامان شہر تک لاتے ۔
شہر کا حاکم ر عایا پرور تھا ۔ شہر اور اردگر کی بستیوں میں قانون کی حکمرانی تھی اور داروغہ شہر کسی ظالم اور جابر کو سخت ترین سزا کے بغیر نہ چھوڑتا تھا ۔ عدل و انصاف کے لیے قاضی مقرر تھے۔

جو بروقت اور درست فیصلے کرتے تھے ۔ صحرا میں کئی نخلستان تھے اور ہر نخلستان شہر سے بڑا تھا ۔یہ نخلستان عادل حکمران کے والد کے دور میں آباد ہوئے اور ہزاروں لوگ ان نخلستانوں میں جا کر آباد ہوگئے ۔ حاکم شہر جہاندیدہ اور مستقبل کی خبر رکھنے والا تھا ۔ اسے سمجھ تھی کہ اگر شہر کی آبادی ایک حد تک تجاوز کر گئی تو شہر کی خوشحالی اور امن متاثر ہوگا۔

سٹرکیں اور گلیاں تنگ ہو جائیگی ، پانی کی کمی ہوگی اور زرعی زمینیں آہستہ آہستہ ختم ہو جائیگی ۔ جگہ جگہ غلاظت کے ڈھیر ہونگے اور بیماریوں کا نہ رکنے والا سلسلہ رعایا کی صحت اور ذہنی آسودگی کو متاثر کر دیگا ۔
حاکم نے شہر کی آسودگی اور حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے پہاڑوں سے آنیوالے دریاوں کو بند باندھ کر انکارُخ صحرا کی طرف موڑ دیا ۔

صحرا میں بڑے بڑے تالاب بنوائے اور ہر تالاب کے گرداگر بیس ہزار کھجور کے پودے لگوائے ۔ کہتے ہیں کہ کھجور کا ایک درخت ایک انسانی زندگی کو خوارک مہیا کرتا ہے ۔ عاقل بادشاہ نے ان نحلستان میں بیس ہزار لوگوں کو بسنے کی دعوت دی تو شہر کی نصف آبادی نخلستانوں میں منتقل ہو گئی ۔ لوگوں نے نخلستانوں میں مزید شجر کاری کی ، کھیت بنائے اور غلے کی اسقدر بہتات ہوئی کہ اردگر کی ریاستوں سے لوگ غلہ خریدنے شہر بے مثال اور اس کے نخلستان کی منڈیوں کا رُخ کرنے لگے ۔


حاکم نے خدائی احکامات پیروی میں قدرت کے چار اُصول اپنائے اور روگردانی کرنے والوں کو سخت سزائیں دیں۔ اول زمین کی طرف متوجہ ہواتاکہ عوام الناس کو اچھی ، عمدہ اور صحت مند غذا سستے داموں ملے ۔ اس اصول کے معاون اصولوں کے تحت زراعت کی تعلیم ، ہنر اور اوزار مہیا کرنیوالے کارخانے لگوائے تاکہ لوگ اس اصول سے فیض یاب ہو سکیں۔ اسی اصول کے تحت کپڑا بننے ، رنگنے اور اسے خوشنمابنانے کے لیے دور دراز کے ملکوں سے کاریگر منگوائے اور کارخانے لگائے۔

خوارک اور لباس کے اصولوں کیساتھ رہائش کے اصول کو اولیت دی تاکہ لوگ کشادہ اور ہوا دار مکانوں میں رہ سکیں ۔ غذا، لباس اور رہائش کے اصولوں پر کام مکمل ہوا تو حاکم نے تمام اصولوں اور صنعتوں پر فضلیت والے اصول سیاست پر توجہ دی تاکہ عوام الناس باہمی میل ملاپ ، اخوت ، محبت ، مساوات اور بھائی چارے کی فضاء میں ایک ایسے معاشرے سے منسلک ہوں جسے کسی اندرونی خلفشار او ربیرونی حملے کا خوف نہ ہو۔

شہریوں نے اس اصول کے تحت علم ،عقل اور شعور رکھنے والوں کو اپنا سردار منتخب کیا جو لالچ ، ہوس اور بد اعمالیوں سے نہ صرف مبرا تھے بلکہ عام لوگوں کو بھی ان قباحتوں سے بچنے کی تلقین کرتے تھے۔ عقل و شعور اور ایمان کامل سے مزین ان افراد نے حاکم وقت کی مدد کی اور قدرت کے متعین کردہ دیگر اصولوں میں پرمبنی قوانین بنائے تاکہ عام لوگ علم ، عدل ، تجارت اور دیگر شعبوں میں بے خوف ترقی کر سکیں۔


ترقی ، خوشحالی اور امن کا یہ سلسلہ چند نسلوں تک چلا اور پھر رفتہ رفتہ شہر کی رونقیں ماند پڑنے لگیں ۔ عادل حکمران کی رحلت کے بعد پڑوسی ملک کے حکمران نے ایک ایسی چال چلی جس نے شہر بے مثال کو بے حال کر دیا۔ دشمن ملک کے ایجنٹوں نے تاجروں ، صنعت کاروں اور استادوں پر توجہ مذکور کی اور انہیں تحائف دیکر ایسے اصولوں او رقوائد پر ترغیب دی جو سراسر شیطانی وسوسوں پر مبنی تھے۔

علماء نے قدرتی اصولوں اور الہٰی احکامات کو پس پشت ڈال کر مادی اصولوں کا پرچار اس حکمت سے کیا کہ معاشرے کی اقدار ہی بدل گئیں۔
پڑوسی ملک نے سچائی اور حکمت کو قریب قرار دیکر اسے علماء کی ایک جماعت پید ا کی جو چرب زبانی میں کوئی ثانی نہ رکھتی تھی۔ ان علماء نے عوام کو اسقدر فریب زدہ کیا کہ وہ علمائے حق کے دشمن ہوگئے ۔ فریب زدہ عوام نے عادل بادشاہ کے ولی عہد کے خلاف بغاوت کی اور اسے سارے خاندان سمیت قتل کر دیا ۔

ان حالات سے فائدہ اُٹھا کر اس شہر بے مثال کے ایک بڑے صنعت کار اور ڈاکوؤں کے سردار نے باہمی مشاورت سے دشمن ملک کے بادشاہ کی ایماء پر ایک ایسی جماعت تیار کی جو لوٹ مار اور دیگر جرائم کی ماہر تھی۔ ڈاکوؤں کے سردار نے ایک شاطر اور بے رحم ڈاکو کو دروغہ شہر مقرر کیا ۔
پولیس کی جگہ ایک ڈاکو فورس تیار کر لی۔ اس طرح عدلیہ ، انتظامیہ اور دیگر شعبوں میں ایسے لوگ بھرتی کیے جو نہ صرف عوام دشمن تھے بلکہ پڑوسی دشمن ملک کے ایجنٹ بھی تھے۔

ڈاکواور صنعت کار نے ایک طرف ملکی وسائل کو لوٹنا شروع کیا تو دوسر ی طر ف عوام کو نفسیاتی طور پر نقلی علماء اور دشمن کی ایما ء پر مفلوج کر دیا۔ صنعت کار نے چھوٹے صنعت کاروں سے کام چھیں لیا اور سارے شہر کے صنعت پر قابض ہو کر اسے اپنے بھائیوں ، بیٹوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا۔
ڈاکونے خزانے کو ہی نہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی لوٹا اور سب کچھ شہر بے مثال سے ہزاروں میل جزیرے میں منتقل کر دیا ۔

ان دونوں کی دیکھا دیکھی بہت سے جرائم پیشہ لوگوں نے یہی روش اختیار کی چونکہ عدالتوں نے ایسے قوانیں کی پیروی شروع کر دی جو ان ہی جرائم پیشہ لوگوں نے اپنی سہولت اور لوٹی ہوئی دولت کے تحفظ کے لیے بنائے تھے۔ یوں عوام عدالتوں سے مایوس ہو کر جرائم پیشہ عناصر کی حکمرانی کو تسلیم کرنے اور اُن کی غلامی قبول کرنے پر مجبور ہوگئے۔ عادل بادشاہ کے دور میں شہر بے مثال اور اس کے دیہاتوں ، قصبوں ، بندرگاہوں اور نخلستانوں کی حفاظت کے لیے ایک جری اور بہادر فوج معرض وجود میں آچکی تھی مگر کشمکش اور فریب زرہ ماحول میں فوج کئی وجوہات کی بنا پر خاموش رہی۔

فوجی جرنیلوں کا خیال تھا کہ ان کی ذمہ داری ملکی سرحدوں کی نگرانی ہے نہ کہ اندرونی معاملات درست کرنا ہے۔ یہ کام علمائے سیاست ،مد برین اور منتظمین کا ہے۔ انہیں پتہ تھا کہ علمائے سیاست ، مدبرین اور منتظمین اغیار کے ہاتھوں بک چکے ہیں اور ملکی دولت لوٹ کر دور دراز جزیروں میں منتقل کر چکے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ خاموش رہے ۔
جن دنوں شہر بے مثال بد اعمال اور عیاش ٹولے کے ہوش و حرص کے نشانے پر تھا ان ہی دنوں دشمن ملک کے ہنر مندوں اور کاریگروں نے کمال مہارت سے شہر بے مثال کی زمینوں اور نخلستانوں کو سیراب کرنے والے دریاؤں کا رخ اپنی طرف موڑ لیا ۔

پڑوسی ملک کے ایجنٹوں نے ساحلوں اور بند ر گاہوں پر موجود آبادی کو بھی اپنا ہم خیال بنا لیا اور اُن کے سرداروں کو بھاری رشوت دیکر ساحلی علاقوں میں بغاوت کروا دی۔ ساحل اور بندر گائیں ویران ہو گئیں تو لالچی صنعت کاراور ڈاکو خاندان نے تجارت اور صنعت پر اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کے تحت پڑوسی دشمن ملک کی اجارہ داری تسیم کر لی۔ ان قوانین کے تحت مال تجارت پڑوسی دشمن ملک کے تاجر سستے داموں خرید کر دوسرے ملکوں کو مہنگے داموں بیچنے لگے تو شہر بے مثال کے خوشحال عوام بد حال ہوگئے۔

دریا اور ڈیم خشک ہوگئے ، نخلستان اُجڑگئے ، بند ر گاہوں پر آنیوالے جہاز پڑوسی دشمن ملک کی بندر گاہ پر لنگر انداز ہونے لگے ۔ کھیت ویران ہوگئے اور عوام الناس پینے کے پانی کو بھی ترسنے لگے ۔ دیہاتوں ، قصبوں اور نخلستانوں کی آبادی نے شہر کا رخ کیا تو لوگ روٹی کے ٹکڑے اور پانی کی بوند کو ترسنے لگے ۔ چند ہزار لوگ جو ڈاکوؤں کے سردار اور لیٹر ے صنعت کار کے دست و بازوں تھے اپنے خاندانوں سمیت اپنے اپنے جزیروں پرچلے گئے ۔

قدرت کے اصولوں اور قوانین الہی سے انحراف نے شہر بے مثال کو اجڑے دیا ر میں بدل دیا۔ شہر اجڑ گیا ، بستیاں ویران ہوگئیں ، نخلستان پھر صحرا میں بدل گے اور بندر گاہ پر مچھیروں کی چند بستیاں باقی رہیں۔
کثیر آبادی موت کی وادی میں چلی گئی اور جو بچ گئے وہ پڑوسی ممالک کی طرف چلے گئے ۔ بہت سے راستوں میں مر گئے اور جو بچ نکلے انہیں پڑوسی ممالک نے اپنی غلامی میں لے لیا ۔


فوج البتہ اپنی چھاؤنیوں میں محفوظ رہی چونکہ چھاؤنیوں کے کنوؤں میں ابھی تک وافر مقدار میں پانی تھا اور خوراک کی بھی کمی نہ تھی۔ فوجی جوان اب بھی سرحدوں کی حفاظت پر مامور تھے اور کسی حملہ آور کو شہر بے مثال کی طرف آنے کی جرات نہ تھی۔ کہتے ہیں کہ کئی ماہ تک چیلیں ، گدھ اور جنگلی جانور شہر بے مثال میں ڈیرے ڈالے رہے اور پھر تھک کر چلے گئے بد بو اور تعفن ختم ہوا تو دوسرے ممالک کے سیاح شہر بد حال کا نظارہ کرنے آنے لگے ۔

کہتے ہیں کہ عرصہ بعد شہر کے کھنڈرات کے درمیان باقی بچے بلند مینار پر ایک عورت نمودار ہوئی اور زور سے پکار ا کہ کوئی ہے؟؟
مگر وہاں کوئی نہ تھا ۔فوج دورسرحدوں پر واقع چھاؤنیوں اور قلعوں میں تھی ،غیر ملکی سیاح بربادی کا نظار ہ کر کے جا چکے تھے، جنگلی جانوروں اور درندوں کی ضیافت کا کوئی سامان باقی نہ تھا۔ عظمت رفتہ کا گواہ ایک مینار اور بچ جانیوالی ایک بوڑھی عورت باقی تھی۔

وہ ہر رات مینار سے پکارتی کہ کوئی ہے مگر کوئی جواب نہ آتا۔ چند روز بعد وہ بوڑھی عورت بھی مر گئی ۔
کیا کوئی جو میر ی آواز سن سکتا ہے اور اس ملک بے مثال کو چوروں ، ڈاکوؤں اور ان کے ہم خیالوں سے بچا سکتا ہے؟ اگر کوئی ہے تو جلدی کرے ورنہ رات ہو جائے گی اور آخری بوڑھی عورت کی آواز آئے گی کہ کوئی ہے؟ مگر یہاں کوئی نہ ہوگا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2016-06-27

کالم نگار     :     اسرار احمد راجہ

اسرار احمد راجہ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-