بند کریں
ہفتہ دسمبر

کہ اس اندھیر نگری کا کہیں تو انت ہو نا ہے!!!

یونس مجاز :

صاحبو ! پاناما لیکس نے سب کو ننگا کرد یا ہے اب صرف ایک دوسرے کو کپڑے پہنانے کی کوشش کی جا رہی اس ملک پر کئی دھائیوں سے حکمرانی کرنے والی دوبڑی سیاسی پارٹیوں کو ہی لیجئے کل پیپلز پارٹی نے اگر ملکی خزانے کو لوٹ کر بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کاسرے محل بنایا اور پھر اس کو چھپانے اورہضم کرنے کے لئے جو ہا ہا کار مچائی تھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں آج مسلم لیگ ن کے میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے مئے فئیر فلیٹ کا چرچا پاناما لیکس کے ذریعے ہوا ہے تو بین ہی پیپلز پارٹی کے ڈھنڈورچیوں کی طرح مسلم لیگ ن کے ڈھنڈروچی بھی اپنی قیادت کی لوٹ مار کو چھپانے کے لئے ٹی وی چینلز پر ایسا ایسا جھوٹ نکال کر لا رہے ہیں کہ خدا کی پنا ہ چونکہ اس دھول کے پیچھے ڈھنڈروچیوں کی لوٹ مار بھی حصہ بقدرِ جسہ چھپی ہوئی ہے پیپلز پارٹی نے اگر سوئس اکاوٴنٹ میں پڑے اپنی قیادت کے اربوں ڈالرز بچانے کے لئے اپنے دو وزیراعظم کی قربانی دی ہے توآف شورکمپنیو ں کے ذریعے سامنے آنے والے میاں صاحب کے بچوں کے اربوں ڈ الرزبچانے کے لئے جو گرداڑائی جا رہی وہ بھی یہ بلکھڑ قوم دیکھ رہی ہے جو شائد میاں برادران کے اقتدار کی قربانی کی خواں ہے پاناما لیکس کی پہلی قسط میں بے نظیر بھٹو ،عبد الرحمنٰ ملک پی پی، جہانگیر خان ترین ،حلیم خان پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے میاں نواز شریف کے بچوں حسین نواز ،حسن نواز اور مریم نواز سمیت دوسو جب کہ دوسری قسط میں سیف اللہ خاندان سمیت چارسو پاکستانیوں کے نام شامل ہیں جس میں بیورو کریٹ، تاجر سرمایہ دار اور سیاستد ان سبھی شامل ہیں پی ٹی آئی نے اس ایشو کو لے کر سڑکوں پر آنے اور وزیر اعظم کے استیفعٰے کا مطالبہ کیا تو پیپلز پارٹی نے موقع غنیمت جانتے ہوئے آگے بڑھ کر پاناما لیکس پر احتجاج کرنے والی پارٹیوں کی قیادت سنبھال لی تا کہ ڈاکٹر عاصم سمیت دیگر کرپشن کیسسز پر حکومت سے بہتر بارگینگ کی جاسکے ادھر مسلم لیگ ن نے حفاظتی اقدامات کے تحت پہلے ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل کمیشن بنانے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی جلسوں کے ذریعے اپنے ننگے پن کو چھپانے کی کوشش کی لیکن بات نہ بنتی دیکھ کر چیف جسٹس کو کمیشن بنانے کے لئے خط لکھ دیا لیکن جن ٹی او آرز کے تحت حکومت کمیشن بنانے کی متمنی تھی کہ پاناما لیکس سمیت قرضے معاف کرانے ،منی لانڈرنگ اور دیگر ہر طرح کی کرپشن پر 1947سے احتساب کیا جائے یعنی نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی لیکن اپوزیشن اس پر بھی راضی نہ ہوئی کہ یہ پنڈھورا بکس کھل گیا تو جہاں سب کی گردنیں شکنجے میں آجائیں گی وہاں میاں صاحب کو چلتا کرنے کا مقصد پورا ہونے کے بجائے میاں صاحب اپنا ٹینور پورا کر جائیں گے سو اپوزیشن نے اپنے ایک اجلاس میں جہاں پیپلز پارٹی کی خواہش پر وزیراعظم کے استیفعٰے کا مطالبہ گول کرتے ہوئے اپنے پندرہ نکات پر مشتمل ٹی او آرز پیش کر دیئے لیکن میاں نواز شریف کی جلسوں میں اپوزیشن کے لئے استعمال کی گئی زبان ” مجھے یہ گھر بھیجیں گے؟ یہ منہ اور مسور کی دال “ سے یہ اندازہ لگا نا مشکل نہیں تھا کہ تم بھی اتنے ہی اس حمام میں ننگے ہو جتنا میں، سو اپوزیشن ایک قدم اور پیچھے ہٹتے ہوئے اس مطالبہ پر آگئی کہ وزیر اعظم نواز شریف پارلیمنٹ میں آ کر اپوزیشن کے نو سوالوں کے جوابات ے دیں تو بات ختم ہو جائے گی پہلے تو وزیر اعظم نے لیت و لعل سے کام لیا اور اپوزیشن کے سوالوں کے جواب میاں صاحب کے نو رتنوں نے میڈیا کے ذریعے دینے کی کوشش کی لیکن پیپلز پارٹی کے ساتھ پسِ پردہ معاملات طے ہونے پر وزیراعظم نے پہلے توجمعہ کو پارلیمنٹ میں آکر جوابات دینے کی حامی بھر لی لیکن پھر یہ معاملہ صوموار تک موخر کر دیا شائد وزیر اعظم کچھ اور ریلیف چاہتے ہیں جو انھیں مل جائے گا؟ ادھر سپریم کورٹ نے حکومتی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکومتی خط کے جواب میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے موقف اختیار کیا کہ ( الف) 1956کے ایکٹ برائے تحقیقاتی کمیشن کے تحت بننے والے کمیشن کا بڑا محدود سکوپ ہے اس کے نتیجے میں ایک بے اختیار کمیشن بنے گا جس سے کوئی مفید مقصد حاصل نہیں ہوگابجز اس کے کمیشن کے حصے میں بدنامی آئے (ب) اس اعلامیے کے ساتھ جو ضوابط کار شامل کئے گئے ہیں وہ اس قدر وسیع اور تحدید ہیں کہ بظاہر کمیشن کو اس پر اپنی سماعت مکمل کرنے میں ہی برسوں لگ سکتے ہیں چنانچہ مطلوبہ انکوائری کمیشن کی تشکیل یا عدم تشکیل سے متعلق کوئی بھی رائے بنانے سے پہلے ان تمام افراد ،خاندانوں ،گروپس اور کمپنیوں کی تمام تر تعداد کے ساتھ تمام متعلقہ دستاویزات کے ہمراہ فہرست درکار ہو گی جن کے خلاف ضوابط کار کے پیراگراف نمبر ایک (الف) اور (ب) کے تحت انکوائری کی کاروائی مقصود ہے دوسری چیز یہ ہے کہ جب تک یہ معلومات اور کوائف فراہم نہ کر دیئے جائیں اور کمیشن کی تشکیل کسی موزوں قانون سازی کے ذریعے کئے جانے کے معاملے پر دوبارہ سے غور کر کے طے نہ کرلیا جائے اس وقت تک آپ کے خط پر کوئی حتمی ردِعمل فراہم کرنا ممکن نہیں، مگر اپوزیشن خصوصا پیپلز پارٹی اس گند پر جلد از جلد مٹی ڈالنا چاہتی جسے یہ خوف ہے کہ کہیں میاں صاحب کی نا عاقبت اندیشیوں کے سبب جمہوری تماشہ لپیٹ ہی نہ دیا جائے اور پھر حقیقی احتساب شروع ہو گیا تو” نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری “ لیکن ضرب عضب سمیت اندرونی اور بیرونی چیلنج سے نبرد آزما عسکری قیادت بظاہر اس پوزیشن میں نہیں کہ ایسا کچھ کر سکے کیونکہ ان کے پیشِ نظر ملک کی سلامتی مقدم ہے جبکہ کرپٹ سیاسی قیادت کے پیشِ نظر ذاتی مفادات اور دولت کی ہوس ہے سو مقتدر قووتوں کی نظریں فی الحال عوام پرہے جن کے سامنے ان کے ووٹ کی حامل سیاست دان ایک کے بعد ایک ننگے در ننگے ہو رہے ہیں اور اپنے اپنے ستر کی پردہ پوشی کے لئے ایک دوسرے کے دستِ بازو بنے ہوئے ہیں لیکن ”بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی “اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے آج نہیں تو کل ان کی گردنیں شکنجے میں جکڑی جائیں گی ”دیر ہے اندھیر نہیں “ کہ انکی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے جس کا ادراک ان لٹیروں کو بخوبی ہو چلا ہے پیپلز پارٹیجو ایک طر ف بیک ڈور چینل کے ذریعے اپنی شرائط حکومت سے منوانے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے تو دوسری جانب اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے ہوئے اپنی مرضی کے ٹریک پر احتجاجی تحریک کو چلا رہی ہے کیونکہ مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی کی آف شور کمپنیوں کی حامل محترمہ بے نظیر اور رحمنٰ ملک سمیت دیگر کے خلاف لب کشائی کرنے کے بجائے پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف گرد اڑا رہی ہے کہ ان کے ہاتھ عمران خان کی آف شور کمپنی کا ایشو آگیا ہے جس کی وضاحت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ ہاں انھوں نے 1982میں اپنی کاوٴنٹی کرکٹ کے ذریعے کمائی جانے والی رقم سے وکیل کے کہنے پر آف شور کمپنی بنائی تھی تاکہ اس ملک کو ٹیکس نہ ادا نہ کرنا پڑے جس کے وہ شہری نہیں اور جو فلیٹ خریدا گیا اسے 2003میں بیچ کر رقم حبیب بینک کے ذریعے پاکستان لے آیا باجوداس کے کہ عمران خان کسی سرکاری عہدے پر نہیں رہے اور نہ ہی مزکورہ رقم پاکستان سے کما کر باہر لے جائی گئی حکومت اپنا گند چھپانے کے لئے گرد اڑا رہی ہے لیکن قوم لٹیروں کو جان چکی ہے پشاور کا ضمنی الیکشن جیتنے والے یہ مت بھولیں پیپلز پارٹی تمام تر ریکارڈ کرپشن کے باجود اپنے دور میں ضمنی انتخابات ڈنکے کی چوٹ پر جیتتی رہی ہے لیکن 2013 کے انتخابات نے پیپلز پارٹی کو نشانِ عبرت بناتے ہوئے صرف سندھ تک محدود کر کے رکھ دیا کیونکہ عوام نے ووٹ بہترین انتقام ہے کا آپشن اپنا لیا تھا جو پیپلز پارٹی کی قیادت سے بئیموں سینما سے سوئس بینک اکااوٴنٹ اور سرے محل تک سفر کی روداد اور حساب کی طالب ہے اگر یہ حکومت اپنی تمام تر حماقتوں کے باوجود 2018کے انتخابات تک پہنچ بھی گئی تو عوام ایک بار پھر وہی آپشن استعمال کر سکتی ہے کیونکہ حکومت جتنا مرضی ہے چالاکیاں کر لے پاناما لیکس نے ان کی پارسائی کی ردا کو بیچ چوراہے میں تار تار کر دیا ہے قوم میاں خاندان کو 1985سے اب تک اپنے ووٹ کے ذریعے اختیار دینے کے بعد یہ سوال کر نے میں حق بجانب ہے کہ ایک لوہے کی بھٹی سے تیس سے زائد انڈسٹریوں کی قطار در قطار ،مئے فئیر فلیٹ ودیگر146 جائیدادیں اور آف شور کمپنیوں میں پڑھے اربوں ڈالر کا سفر کیسے طے ہوا ؟قوم ان کے عزیز وزیر خزانہ اور چنن دین عرف بودی سائیکل پنچر والے کے بیٹے اسحٰق ڈار سے بھی غضب کرپشن کی عجب کہانی سننے کے لئے بے تاب ہے کہ اس اندھیر نگری کا کہیں تو انت ہو نا ہے ۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2016-05-18

کالم نگار     :     یونس مجاز

یونس مجاز کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-