بند کریں
منگل ستمبر

نوٹس پر نوٹس مگر ایکشن کہاں ہے؟

ڈاکٹر اویس فاروقی :

صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں مسائل بھی اس لحاظ سے باقی صوبوں سے زیادہ ہی ہوں گے ایک صوبہ جس کی آبادی دس کروڑ سے زائد ہو وہاں کی ساری آبادی کی داد رسی کے لئے ایک اکیلا وزیر اعلیٰ اور اس کے لئے گئے نوٹسز کیا بہتری لاسکتے ہیں اس کا اندازہ صوبے بھر میں ہونے والی واردتوں اور دیگر سماجی جرائم سے لگا لیں۔

ہم یہ تو دیکھتے ہیں کہ کسی بھی جگہ کوئی بڑا واقعہ ہوتا ہے خصوصا ً کسی کے ساتھ زیادتی کا تو وزیر اعلی وہاں فوراً پہنچتے ہیں جبکہ دیگر واقعات پر ان کے نوٹس لینے کی رفتار اورینج ٹرین کی رفتار سے زیادہ ہی ہے لیکن یہ سوال اپنی جگہ اپنی ہولناکی کے ساتھ موجود ہے کہ ان نوٹسز اور خود پہنچنے کا کوئی فائدہ سماجی سطع پر بھی ہو رہا ہے؟ بادی النظر میں دیکھا جائے تو ایسا فائدہ اور بہتری کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔


اگر ہم کرائم کی صورت حال کو دیکھیں تو ان میں دن بدن اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے خواتین بچے اور بچیوں کے ساتھ ظلم و ستم کی ہولناک داستانیں وزیر اعلی کے نوٹس لینے اور موقع پر پہنچنے کے باوجود بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ پٹرول کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود مہنگائی کا جن عوام کی خوشیوں اور سکون کو غارت کرتا دکھائی دے رہا ہے اسی طرح ملاوٹ ،ذخیرہ اندوزی،قانون کی خلاف ورزی جعلی ادویات کا دھندہ بھی قابو میں آتا دکھائی نہیں دے رہا۔


ہم اور آپ آج کے دور میں کیا کچھ کھا رہے ہیں اور آیا جو کچھ ہم کھا رہے ہیں وہ اصلی اور حلال بھی ہے کیا یہاں کوئی بھی دکاندا اور بڑا سٹور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق صفائی و ستھرائی کے ساتھ اشیا فراہم کر رہا ہے ؟۔پنجاب بھر میں وزیر اعلی اور عائشہ ممتاز کے آئے دن بڑی بڑی جگہوں پر چھاپوں کی خبریں اور ان کی تصاویر میڈیا پر اور سوشل میڈیا پر جاری کی جارہی ہیں ۔

لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں گدھے کا گوشت کھانوں میں اور گدھے کی کھال کاسمیٹکس میں استعمال ہونے کی خبریں بھی پڑھنے کو مل رہی ہیں۔ ملاوٹ کا بازار تو سالوں سے گرم ہے اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی عوام یہ اشیا خریدنے پر مجبور ہیں، بہت سے ان ملاوٹ شدہ اشیا خورد ونوش کھانے کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت بھی ہوچکے ہیں مگر کوئی ایکشن نہیں۔
چھاپے عائشہ ممتاز یا دیگر سرکاری اہلکار ماریں، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کے لئے گئے نوٹسز کے باوجودگائے بکروں کے گوشت میں پانی کے علاوہ مرغی کے گوشت اور مرغی کی فیڈ میں ملاوٹ جاری ساری ہے کیا یہاں ہم کوئی بھی چیز اعتماد سے آنکھ بند کرکے کھا یا پی سکتے ہیں اور اس کو حلال اور ملاوٹ سے پاک کہہ سکتے ہیں؟
افسوس ناک امر تو یہ ہے کہ ملاوٹ سبزیوں اور فروٹ کی پیداوار میں بھی کی جارہی ہے ، زیادہ پیدوار لینے کے لئے کیمیکل والی کھاد سے فصلیں اگائی جاتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔

آڑوں، اناروں کا سائز کیا غیر فطرتی نہیں کیا یہ کھاد کا کمال نہیں ایک کلو میں صرف 3 یا 4 آڑو تْلیں یا پھر 3 سے 2 انار آپ گھر لے آئیں تو یقیناً یہ بھی تو صحت کے لیے نقصان دہ ہوں گے اور سبزیوں کا بھی یہی حال ہے۔
گٹر کے زہریلے پانی سے سبزیاں اگائی جا تی ھیں اور اس پرکہیں توجہ دکھائی نہیں دیتی اب تو میڈیا کا دور اور مخلتف چینلز اپنے پروگرامز میں ان کا کچا چٹھا کھول کھول رہے ہیں کہ کس طرح ملاوٹ کی جاتی ہے سبزیوں اور پھلوں کو کیسے مصنوعی رنگوں سے رنگ کر جازب نظر بنا کر فروخت کیا جارہا ہے۔

کیمیکل کھاد کے نقصانات سے عوام کو آگاہ کرنا اور بچانا کس کی ذمہ داری ہے ، صرف چھاپے مارنے سیل کرنے یا نوٹس لینے سے مسائل حل نہیں ہوں گے اشیا خورد و نوش کی قیمتیں بھی چیک کی جانی چاہئیں کہ آیا جس قیمت میں وہ یہ اشیا فروخت کر رہے ہیں آیا وہ قیمتیں مناسب بھی ہیں یا نہیں؟
حکومتی نظام اور گورنس کو بہتر کیا جائے متعلقہ اداروں کے اہلکاروں سے بااز پرس کرنے کے ساتھ ان کی ذہنی کیپسٹی بلڈنگ کی جائے انہیں حرام و حلال کے ساتھ ملاوٹ زدہ اشیا کے نقصانات سے آگا کیا جائے بلکہ انہیں وہ اشیا کھلائی جائیں تاکہ اپنے تن لگے تو دوسروں کے مسائل کا اندازہ ہو۔


عوام کو صحت مند اشیا خورد نوش ادویات کے ساتھ ہر چیز معیاری ملنی چاہیے جس کے لئے حکومت ہی اپنا بہتر کردار ادا کر سکتی ہے جو دوائیں انسانی جان کے لیے ضروری ہیں وہ انسانوں کی جان نہ لے سکیں اور جعلی دواوٴں کے کاروبار کرنے والوں کے خلاف اسی طرح کے فوری ایکشن کی شدید ضرورت ہے جہاں جہاں جعلی دوائیں بن رہی ہیں۔ان جگہوں کو فوری طور پر سیل کرنے کے ساتھ ملوث افراد کو قرار واقعہ سزا دئے بغیر ان برائیوں سے جان نہیں چھوٹنے والی ، انسانی جانوں سے کھیلنے اور اعتماد کو مجروح کرنے والے کسی رو رعایت کے مستحق نہیں ہیں ۔

بڑے بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے چھوٹے دیہات اور گاوٴں میں بھی اصلی ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔صحت مند زندگی کے حامل افراد ہی ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انسانی صحت سے کھلواڑ کرنے والوں کو سر عام سزا دینے سے معاشرہ ان لعنتوں سے پاک ہو سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پاکستان بھر کے تمام صوبوں میں صحت عامہ کے حوالے سے تمام کھانے پینے کی اشیا کے مضر اثرات اور ناقص صفائی کو دور کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں اور دیانت داری سے اس کام کو انجام تک پہنچانا بہت ضروری ہے صرف نوٹس لینے اور چھاپے مارنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے اس کے لئے ایکشن ضروری ہے جس کے لئے حکومت کو حکومتی نظام درست کرنے پر توجہ دینی ہوگی ادارئے درست نہج پر کام کر رہے ہوں گے تو پھر کسی کو بھی نوٹس لینے اور چھاپے مارنے کی ضرورت نہیں پڑئے گی۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2016-04-24

کالم نگار     :     ڈاکٹر اویس فاروقی

ڈاکٹر اویس فاروقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-