بند کریں
منگل اگست

مولوی کے خلاف کھلی جنگ؟

عبدالماجد ملک :

ارے یہ کیا ؟کچھ خواتین لبرل ازم کے پرچار میں کوشاں ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس نعرے کے ساتھ صدائے احتجاج بلند کر رہی ہیں کہ اب ”ملاوٴں کے خلاف کھلی جنگ“ہے۔
ہمارے معاشرے میں مولوی کا خیالی خاکہ یہ ہے کہ جس نے داڑھی رکھی ہوئی ہو،سر پہ ٹوپی یا عمامہ پہنا ہو،مگر اسلامی معاشرے میں مولوی کی تعریف کچھ یوں ہے کہ” جس نے اپنے آپ کو مکمل طور پر اسلام کے سانچے میں ڈھالا ہوا ہو“، جس نے خود کو اسلام کے سانچے میں ڈھال لیا ہو وہ کسی کے لئے کیوں باعث تکلیف ہو گا کیونکہ اسلام تو ایسا خوبصورت مذہب ہے جس میں سب کے حقوق کے ساتھ ساتھ اس کے ماننے والوں پر بھی کافی ساری ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور اسلام پر مکمل طور پر کاربند رہنے والا جسے آپ عرف عام میں مولوی کہتے ہیں وہ کیونکرمبرا ہو سکتا ہے۔


لفظ ’مُلا‘ ایک اصطلاح ہے جو پڑھے لکھے مسلمان کے لئے بولا جاتا تھااور افغانستان میں ”ملا“اس کو کہتے ہیں جو اسلامی تعلیمات اور حدیث پر مکمل عبور رکھتا ہو لیکن ایک خاص ہوا چلی اور یہ اصطلاح بدنام ہو گئی اور ملابجائے عزت و تکریم کے تضحیک کے لئے بولا جانے لگا مگر اہل دل اور باذوق اب بھی اسی پرانی روش کو برقرار رکھتے ہوئے ”ملا“کو تعظیم کے لئے استعمال کر تے ہیں لیکن اس کی بدنام ہوتی ہوئی ساکھ کی وجہ سے شاعر مشرق علامہ اقبال نے کچھ اس طرح بیان کیا #
کار ملا فی سبیل اللہ فساد
یہ تو مولوی اور ملا کی تھوڑی سی تعریف ہوگئی لیکن اصل مدعا تحریر ابھی باقی ہے کہ اس احتجاج کی نوبت کیونکر آئی؟
وہ کون لوگ تھے جنہوں نے مولوی کے خلاف صدائے احتجاج کو بلند کیا؟
اور وہ کون سے عوامل تھے کہ نوبت احتجاج تک جا پہنچی؟
اگر مان لیا جائے کہ جس طرح پولیس نے اپنا امیج ہر کہیں غلط کیا ہوا ہے اور ہر اچھا پولیس والا بھی ہمیں ویسا ہی دکھتا ہے جیسے کوئی برا پولیس والا ہو تو ہم مثال کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندا کر دیتی ہے،اسی طرح اگر کوئی مولوی اگر غلط کرتا ہے تو اس کا الزام تمام مولوی کرام کو نہیں دینا چاہئے مگر پھر سوال یہی جنم لیتا ہے کہ مولوی اگر غلط کرتا ہے تو کیا غلط کرتا ہے؟
وہ اسلام کی تشریح کچھ ایسے بیان کرتا ہے کہ ایسے لگتا ہے سوائے اس کے سب منکر ہیں ،وہ مذہب کو بجائے لچکدار ظاہر کرنے کے اسے سخت ترین بنا دیتا ہے ،وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ جس کا پیروکار ہے وہ تو رحمت العالمین ﷺہیں ،وہ یہ بات بھی محو کر بیٹھتا ہے کہ اس کا رب بھی غفور الرحیم ہے،وہ اسلام کو ایسے بیان کرتا ہے کہ بجائے لوگ اس کی طرف متوجہ ہونے کے الٹا اسلام سے بھی باغی ہو جاتے ہیں اور وہ جو اسلام کے بارے جانکاری کے لئے اس کا مطالعہ کرنا چاہتے تھے وہ اسلام کا نام لیوا ہر اس شخص کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں جیسے اس مولوی نے ان کے سامنے اسلام کا خاکہ کھینچا ہو جو کہ درست نہیں ہے۔


اگر اس مفروضے کو ایک طرف رکھ کر ان لوگوں کی بات کی جائے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کے پیشرووٴں کے خلاف آواز احتجاج بلند کر رہے ہیں تو اسلام کے ماننے والے اور مذہب کے بارے جاننے والے کے ذہن میں فوراَ َسے پیشتر یہی خیال آئے گا کہ یہ ان قوتوں کے ایجنڈے میں اسلام بیزار لوگ ہیں جنہیں مسلمانوں سے زیادہ اسلام کا پھیلنا پھولنا برا لگتا ہے،جو وہ سیدھا اسلام کی بجائے مولوی کے خلاف میدان میں اتر آئے ہیں لیکن ان کی خواہش یہی ہے کہ کسی طرح وہ اسلام کو بدنام کرتے رہیں تاکہ یہ دین اسلام مزید پھلے نہیں لیکن ان کی یہ کوششیں الٹا ہی اثر انداز ہو رہی ہیں کہ جتنا وہ اسلام کو دبانے کی سعی کرتے ہیں اس سے زیادہ اسلام دنیا میں پھیلتا چلا جا رہا ہے ،مسلمان اور اسلام کی بدنامی کے لئے یہ قوتیں بڑی مربوط پلاننگ کے طور پر ہماری نوجوان نسل کے اذہان کو تبدیل کے لئے کوشاں ہیں ،اس کے لئے انہوں نے غیر محسوس طریقے سے اپنے تیر چلانے شروع کر دیئے ہیں اگر ہم غور کریں تو ہم پہ یہ عقدہ کھلے گا کہ بڑے خوبصورت طریقے سے پہلے ہمارے تعلیمی نصاب کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،الیکٹرونک میڈیا سے ہماری ثقافت کو ہم سے دور کیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا سے بھی وہ قوتیں غیر محسوس انداز میں ہمارے اذہان کو مذہب اسلام سے دور کرنے کے لئے تگ و دو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہم بڑے مزے سے ان کے رنگ میں رنگتے چلے جا رہے ہیں،اب ہم سے بھی کوئی دہشت گرد کے تخیلی خاکے کی بابت دریافت کرے گا تو ہمارے دماغ میں اس کا خاکہ کچھ ایسے ہی آئے گا کہ جس نے ڈھیلی ڈھالے کپڑے پہنے ہوں گے ،جس کی لمبی سے زلفیں اور منہ پہ داڑھی سجی ہو گی،اور ایک وقت آئے گا کہ دہشت گردی کا یہ خاکہ ہمارے ذہنوں میں اتنا مضبوطی سے پیوست ہوجائے گا کہ ہم ہر داڑھی والے کو دہشت گرد سمجھنا شروع کر دیں گے پھر ہم ہر اس سول سوسائٹی اور لبرل خواتین کے ساتھ یہ نعرہ لگاتے ہوئے کوئی جھجھک محسوس نہیں کریں گے کہ”ملاوٴں اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے“۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2016-03-28

کالم نگار     :     عبدالماجد ملک

عبدالماجد ملک کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-