بند کریں
جمعہ اپریل

موت تقسیم کرتے ناقص سلنڈر: چیف جسٹس نظر کرم فر مائیں!

حافظ ذوہیب طیب :

حکمرانوں سے تو کیا شکوہ ، بیو رو کریسی کی طاقتور سیٹوں پر براجمان افسر شاہی لوگوں کی زندگیوں کو عذاب بنا نے کی کوششوں میں ان سے کئی آگے دکھائی دے رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کا ضمیر حرام کا مال کھا کھا کر مردہ ہو گیا جو اپنے چند ٹکے کے مفاد کے لئے ظالموں کو موت بانٹنے کا سر ٹیفیکٹ دے دیتے ہیں ۔ لوگ مرتے ہیں تو مریں ان کی جیبیں تو بھر رہی ہیں ، ان کے گھر تو آباد ہیں ، ان کے بیوی بچے ہائی سٹینڈرڈ کی زندگی سے تو لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔

صرف یہ ہی نہیں بلکہ کچھ روپوں کی خاطرضمیر فروش اور ایمان فروش لوگوں کو موت باٹنے کے پر منٹ جاری کر نے مین بھی ان کا کوئی ثا نی نہیں ہے ۔
جس کی تازہ مثال کچھ رو ز پہلے کی ہے جب ننکانہ کے نو احی علاقے ما نا نوالہ میں کار اور ایل۔پی۔جی سے بھرے گیس کنٹینر میں خوفناک تصادم کی وجہ سے 19افراد زندہ جل گئے جبکہ33 زخمیوں کی حالت بھی تشویشناک ہے ۔

ذرائع کے مطابق ایل ۔پی۔جی سے بھرے ٹینکرسے ایک مقامی شہری کی کار سیفٹی وال سے آٹکڑائی جس کی وجہ سے فوراََ گیس لیک ہو نا شروع ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک زور دار دھماکہ ہو اجس سے آگ بھڑک اٹھی ۔ دھماکہ اتنا زور دار تھاکہ کچھ دیر پہلے تک زندہ و جاوید لوگوں کے جسم کے حصے کئی دور تک گرے ۔
اس افسوسناک واقعے کے پیچھے بھی ان لوگوں کی پیشہ وارانہ غفلت اور حرام خوری سے پردہ اٹھا ہے ۔

استعمال شدہ یہ ٹینکر ایران سے در آمد کیا گیا جس کے سیفٹی وال بھی اپنی عمر پوری کر چکے تھے ۔ ماہرین کے مطابق ایک معیاری ایل۔پی۔جی ٹینکر کے سیفٹی وال کے ارد گرد کئی ایسے سیکورٹی فیچرز ہوتے ہیں جو کسی چیز کے ٹکرانے سے لیک نہیں ہوتے ۔ اس سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ ایٹم بم جتنا تبا ہ کن مواد اپنے اندر رکھے ایسے کتنے ہی ناقص ٹینکرز ہیں جو سڑکوں پر گھوم رہے ہیں لیکن بڑی بڑی سیٹوں پر براجمان لوگوں کی بڑی بڑی” چولیوں “کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کیا جاتا بلکہ پورے دھڑلے کے ساتھ انہیں سڑکوں پر گھومنے کے حکم نامے جاری کر دئیے جاتے ہیں
قارئین کرام ! ایل ۔

پی ۔جی کا ایندھن پوری دنیا میں فرینڈلی فیول کے نام سے جانا جا تا ہے اور یورپ کے بیشتر ملکوں میں صرف ایل ۔پی۔جی کا فیول ہی استعمال کیا جاتا ہے ۔ چونکہ ایل۔پی۔جی بہت تیزی سے آگ پکڑ نے والی گیس ہے اس لئے اسکو بھر نے کے لئے اعلیٰ قسم کی سٹیل کی چادر استعمال کی جاتی ہے جو کہ انٹر نیشنل سٹینڈرڈ کے مطابق ہو تی ہے ۔ پاکستان میں بالخصوص سوئی گیس کی بندش کی وجہ سے ایل۔

پی ۔جی سلنڈر بہت سے گھروں کی ناگزیر ضرورت بن چکے ہیں ۔ لیکن یہاں ان جونکوں کی وجہ سے جو ”اوگرا“ نامی ادارے کی بڑی بڑی سیٹو ں پر بیٹھے ہیں، جن کا کام لوگوں میں موت بانٹتے نا قص سلنڈروں کی روک تھا م ہے ، ان کی آشیر باد کی وجہ سے شہروں، محلوں اور گلیو ں میں جگہ جگہ نا قص سلنڈر بنا نے والے کار خانے کھل گئے ہیں جو کہ انتہائی ناقص مٹیریل استعمال کر کے سلنڈر کی جگہ ایٹم بم بنا رہے ہیں ۔


ابھی کل ہی ایل۔پی۔جی ایسو سی ایشن کے چئیر مین عرفان کھوکھر جو خود بھی اس مافیا کے خلاف بر سریپکار ہیں مجھے ایک دوکاندار کا قصہ سنا رہے تھے کہ اس کے بقول ایک شخص 2کلو وزن کے سلنڈر میں 14کلو گیس بھروانے آیا جبکہ 12کلو گیس کی فلنگ کے لئے سلنڈر کا وزن 14.50کلو ہو نا چاہئے.۔مجھے یہ بات جان کر بھی حیرت ہوئی کہ ”اوگرا“ کی طرف سے پورے پاکستان میں صرف10کارخانے ہیں جو کہ سٹینڈرڈ کے مطابق سلنڈر بنا رہے ہیں جبکہ غیر قانونی طریقے سے سلنڈر بنا نے والی فیکٹریوں کی تعداد 600کے قریب جا پہنچی ہے اور ان میں سے زیادہ تر گو جرانوالہ میں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ناقص اور گندے مٹیریل کے استعمال کی وجہ سے سلنڈروں کا پھٹنا اور اس کے نتیجے میں معصوم لوگوں کی روزانہ کی بنیادوں پر4، 5ہلا کتیں معمول بن چکی ہیں ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ قانون کے مطابق ہر پانچ سال بعد گیس سلنڈروں کی انسپکشن و مر مت کرائی جانی چاہئے لیکن اوگرا کی منظور شدہ فیکٹریوں میں سے صرف 3فیکٹریاں یہ کام کر رہی ہیں ۔


قارئین ! 2007سے اب تک کئی چیف جسٹس بشمول اعلیٰ عدلیہ کے ججوں نے موت تقسیم کرتے ناقص گیس سلنڈروں کی فیکٹریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کئے لیکن ہمیشہ کی طرح کچھ دوکانوں کو سیل کر کے اپنی کالی کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کی کا میاب کو شش کی جاتی ہے اور ان فیکٹریوں کے خلاف حقیقتاََ کوئی ایکشن نہیں لیا جا تا۔ اب بھی سیاسی لوگوں سے ان کے خلاف ایکشن کی امید رکھنا بے کارو بے سود نظر آتی ہے لیکن اگراعلیٰ عدلیہ کے چیف جسٹس صاحبان اس بارے غور فر مائیں تو اس مافیا کے گرد گھیرا تنگ کر کے ،سالانہ سینکڑوں لوگوں کی جانوں کو بچا یا جا سکتا ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2016-02-15

: متعلقہ عنوان


کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-