بند کریں
جمعہ فروری

پی آئی ائے نجکاری فائدہ یا نقصاں؟

ڈاکٹر اویس فاروقی :

یہاں سرکاری ملازمیں کام کرنا ہی نہیں چاہتے اور جب چیک اینڈ بیلنس کی بات کی جائے تو ہڑتالوں پر چلے جاتے ہیں یا قلم چھوڑ دیتے ہیں، دنیا بھر مین ادارئے ترقی کرتے ہیں لیکن ہماری بد قسمتی دیکھیے ہمارے تمام سرکاری ادارئے تنزلی کی طرف جارہے ہیں وجہ جاننے کے لئے کسی ارسطو کے ذہن کی ضرورت نہیں، کام چوری وقت پر کام پر نہ آنا اور اپنا کام ایمانداری اور ذمہ داری سے سر انجام نہ دینا بنیادی وجوہات ہیں ۔

نااہل افراد کی بھرتی جیسی وجوہات کے ہوتے ہوئے اہل افراد بھی اپنے فرائض منصبی ادا نہیں کر پاتے اور نتیجہ اداروں کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے حکومت کو اس ضمن میں بری الذمہ اس لئے قرار نہیں دیا جاسکتاکہ یہ اسی کا کیا دھرا ہے جو اس نے چیک اینڈ بیلنس کیساتھ جواب دہی کے عالمی تصور کو یہاں رائج نہیں کیا یوں سرکاری ملازمیں کوکھلی چھٹی مل گئی ان کا جو جی چاہے وہ کرتا پھرئے پی آئی آئے جو کبھی ایک منافع بخش ادارہ تھا آج یہ پوری قوم پر بوجھ بن چکا ہے کبھی اس ائیر لائن پر ترقی یافتہ ملکوں کے صدرو اور عمائدین سفر کرنا باعث فخر سمجتھے تھے اور آج عام آدمی بھی اس کی سروس اور کارکردگی سے شاکی دکھائی دیتا ہے ایسے حالات میں حکومت کے پاس نجکاری کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوتا ویسے بھی دنیا بھر میں جو ادارئے نجی ملکیت میں کام کر رہے ہیں وہی ترقی کرتے بھی پائے جاتے ہیں اور کامیاب بھی جبکہ جو حکومتی سرپرستی میں چلتے ہیں ان کا حال پی آ ئی ائے ،پی ٹی سی ایل، اومنی بس سروس (مرحوم) واپڈا اور ریلوئے جیسا ہو جاتا ہے۔


پی آئی اے میں کل ملازمین کی تعداد تقریباً پندرہ ہزار سے زائد ہے جبکہ اس کے پاس 38 جہاز ہیں جس میں سے نو جہاز مختلف وجوہات پر استعمال نہیں کیے جا رہے۔ یوں ایک جہاز کے لیے تقریبا 700 ملازمین ہیں۔شامی فضائی کمپنی سیرین ایئر کے بعد پی آئی اے میں فی طیارہ انتہائی تعداد میں ملازمین کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ جو دنیا کا عملے سے طیارے کا دوسرا بدترین تناسب ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی 40 معروف ترین بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کی تازہ ترین کارکردگی پر حالیہ ریسرچ کے مطابق انہوں نے دنیا کے 15 ہزار شہروں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھا ہے۔ ایاٹا کے مطابق دنیا بھر کی 75 فیصد ایئر لائنز کی اکثریت نجی شعبے کی ملکیت میں ہے۔ 750 ارب ڈالرز یا عالمی جی ڈی پی کا ایک فیصد فضائی ٹرانسپورٹ پر خرچ ہوتا ہے۔پی آئی اے 38 طیاروں اور 14847ملازمین پر مشتمل ہے۔

پی آئی اے کے ملازمین اورطیاروں کی قطعی تعداد کا انکشاف ڈائریکٹر کارپوریٹ پلاننگ امیر علی نے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کو بریفنگ میں کیا گیا تھا۔ اگر یومیہ اجرت پر ملازمین کو شامل کرلیا جائے(جن کی قطعی تعداد کا علم نہیں ہے) تو فی طیارہ عملے کا تناسب 500 سے 700 تک پہنچ جاتا ہے۔ یاد رہے کہ 22 جنوری 2013 کو اس وقت کے وزیر مملکت دفاع سلیم حیدر خان نے سینیٹ کو بتایا تھا کہ 38 میں سے صرف 25 طیارے ہی آپریشنل ہیں۔

جہاں تک سیرین ایئر کا تعلق ہے، اس کے محض 10 طیاروں پر ملازمین کی تعداد 4 ہزار جو فی طیارہ 400 بنتی ہے۔ طیاروں سے ملازمین کا تناسب کسی بھی فضائی کمپنی کی پیداواری استعداد کو جانچنے کا مناسب ترین پیمانہ ہے۔ اب فرض کریں اگر نواز شریف حکومت پی آئی اے کی نجکاری نہیں کرتی اور مالی صحت بحال کرنے کیلئے ملازمین 50 فیصد تک میں کٹوتی کا فیصلہ کرتی ہے اور بیڑے میں طیاروں کی تعداد بھی نہیں بڑھائی جاتی۔

اسی صورت میں عملے سے طیاروں کا تناسب بین الاقوامی طور پرقابل قبول سطح 195 ملازمین فی طیارے پر آئے گا۔ دوسری صورت میں فرض کیا جائے حکومت پی آئی اے کے ملازمین میں کٹوتی نہیں کرتی اور اس کے بجائے طیاروں کی تعداد دگنی کر دی جاتی ہے جس کا امکان کم ہے تب بھی تناسب 36-195 رہے گا۔ تیسری صورت میں اگر طیاروں کی تعداد 76 اور ملازمین کی تعداد میں 50 فیصد کمی کر دی جاتی ہے تب تناسب حیران کن طور پر گر کر 68-97 ہو جائے گا۔

لیکن یہ محض مفروضے ہیں۔ اگر پی آئی اے میں بڑے پیمانے پر کرپشن کو گھٹا کر 50 فیصد لے آیاجائے تو حکومت کو بڑی تعداد میں ملازمین کو فارغ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اگر بھارتی فضائی کمپنی ایئر انڈیا سے موازنہ کیا جائے تو اس کے طیاروں کی تعداد 133 ہے۔ مارچ 2015 کے آخر میں اس کا طیارے سے ملازمین کا تناسب صرف 114 تھا۔ جو بتدریج کم ہوا۔ 9 اکتوبر 2015 کو ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا میں گزشتہ دو سال کے دوران دو تہائی ملازمین کی تعداد میں کمی کر کے تناسب کو 300 فی پرواز سے 108 پر لایا گیا۔


ہماری حکومتوں کے ساتھ ایک مسلہ ہمیشہ سے یہ چلا آرہا ہے کہ یہ سانپ نکل جانے کے بعد لکیر پیٹتی ہیں یا پانی سر سے اونچا ہو جانے کے بعد بچاو کی تدابیر کرنے کی کوشش میں خود بھی الجھ جاتی ہیں اور مسلہ مذید الجھ جاتا ہے اب یہی دیکھ لیجے پی آئی کی نجکاری کے حوالے سے معاملے کو اس بری طرح سے ہینڈل کیا گیا کہ صرف چند دنوں میں کھربوں کا نقصان ہونے کے ساتھ دنیا بھر میں جگ ہنسا ئی الگ سے ہوئی علاوہ ازیں عوام کی پرشانیوں میں اضافہ کسی کھاتے میں ہی نہیں جاتا جبکہ کاروباری اداروں کی ساکھ بھی برباد ہوئی ۔

پی آئی ، واپڈا جیسے تمام اداروں کی نجکاری وقت کا تقاضا اس لئے بھی ہے کہ ان اداروں کی کار کردگی بھی کوئی مثالی نہیں بلکہ الٹا ملک وقوم کے سرمائے کا ضیائع ہو رہا ہے یہی ادارئے جب نجی ملکیت میں جائیں گے تو یہی لوگ جو آج ہڑتالیں کر رہے ہیں وہاں وقت کی پابندی کے ساتھ اپنا کام انتہائی ایمانداری او جان فشانی سے کریں گے کیوں۔۔۔کہ جواب دہی کے تصور کے بغیر پاکستانی قوم کام کرنا ہی نہیں چاہتی؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2016-02-11

: متعلقہ عنوان


کالم نگار     :     ڈاکٹر اویس فاروقی

ڈاکٹر اویس فاروقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-