بند کریں
جمعرات مئی

کیا اس کہانی کا انجام بھی وہی ہو گا؟؟

حافظ ذوہیب طیب :

میڈیا پر آجکل عزیر بلوچ کی گرفتاری ، اس کے انکشافات اور اس کے نتیجے میں ہو نے والی تبدیلیاں موضوع بحث بنی ہوئی ہیں جسکے نتیجے میں سیاسی، سماجی اور مذہبی تقریباََ ہر محفل میں یہ قصہ کافی شہرت حاصل کر رہا ہے بلکہ اجتماعیت سے نکل کر انفرادیت کو متاثر کرتے ہوئے ہر شہری اس بارے بات کرتا اور سوال کرتا ہو ا دکھائی دیتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق لیاری گینگ وار کے سر غنہ عزیر بلوچ نے دوران تفتیش بے نظیر بھٹو کیس کے اہم ترین گواہ خالد شہنشاہ اور لیاری میں اپنے مخالف گروپ کے سر براہ ارشد پپو سمیت 400سے زائد افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے اس نے کئی اہم راز فاش کرتے ہوئے بتایا کہ لیاری کے علاقے گھاس منڈی میں چلنے والے جوئے کے اڈے سے حاصل ہو نے والی آمدنی کا ایک بڑا حصہ پولیس افسران اور حکومتی شخصیات کو بھی جا تا تھاجبکہ لیاری گینگ وار کے کارندے وارداتوں کے لئے پولیس کی گاڑیاں بھی استعمال کرتے تھے اس کے علاوہ لیاری میں کالعدم تنظیموں کے کارندوں کو رقم کے عوض پناہ دینے کا بھی اعتراف کیا ہے ۔


سیکورٹی اداروں کو ریکارڈ کرائے گئے اپنے تفتیشی بیان میں اس نے پردے کے پیچھے چہروں کو بے نقاب کرتے ہوئے بتا یا کہ ایک سابق وزیر داخلہ کے کہنے پر اس نے متعدد افراد کو قتل کیا اور اغواء کر کے بھتے بھی وصول کئے، لیاری کے تما م بلڈرز اس کے سہولت کار ہیں جو اسے رقم فرا ہم کرتے ہیں جس سے وہ نہ صرف اسلحہ خرید تا ہے بلکہ یہ رقم اپنے جرائم پیشہ کارندوں میں بھی تقسیم کر تا ہے ۔

بلوچ نے متعدد سیاسی و لسانی جماعتوں کے رہنماؤں کے ناموں کا بھی انکشاف کیا ہے کہ ان کے کہنے پرا س نے کس کس کو قتل کیااور اس جیسے بیسیوں دل دہلا دینے والے سنسنی خیز انکشافات ہیں جو منظر عام پر نہیں لا جا سکتے۔
یہی وجہ ہے کہ سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت حواس باختہ دکھائی دیتی ہے لیکن یہ امر بھی قابل غور ہے کہ عزیر بلوچ کی گرفتاری ایسے وقت میں کی گئی جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے اعلیٰ عہدیداران کی طرف سے ایک دوسرے کو نوازے جانے کے الزامات کی بو چھاڑ ہو رہی تھی ۔

اسمبلی کے ایوان مک مکا کی سیاست کے نعرہ مستانہ سے گونج رہے تھے ۔ یہاں تک کہ اپنے وزیر داخلہ جن کی نیک نامی میں کسی قسم کا شک نہیں کیا جا نا چاہئے وہ بھی اس مک مکا کی تصدیق کرتے نظر آئے ۔ خورشید شاہ اینڈ کمپنی کو فائدہ دینے کے ان کے اس بیان نے حکومت کے لئے بھی ایک بہت بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے اور جس کا جواب یقینا انہیں دینا ہو گا ۔ لیکن اس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ ایان علی ، ڈاکٹر عاصم اور ماضی میں معزز قرار دئیے جانے والے ”قومی مجرموں“ کو چھوڑ دینا یا انہیں محفوظ راستہ دینا اسی مک مکا کی بدولت ہے ۔


قارئین کرام! مجھے نا معلوم کیوں آج صولت مرزا یاد آرہا ہے ؟ پھانسی سے کچھ روز قبل حکومتی اعلی قیادت کو لکھے گئے اس کے خط کے وہ الفاظ ابھی تک میری یاد داشت کا حصہ بنے ہوئے ہیں :”میں مر گیا تو سوالوں کے جواب کون دے گا؟اس کے بیانات اور اعترافات پر سنجید گی سے غور کیا جائے “دلچسپ بات تو یہ ہے کہ صولت مرزا نے بھی یہ الزام عائد کیا تھا کہ ایم کیو ایم کے قیدیوں کو پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران سہولت دی گئی۔

، سیاسی پارٹی سے وابستگی، سیاسی لوگوں کے کہنے پر قتل عام اور شہر میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر نے کے ساتھ صولت مرزا اور عزیر بلوچ کیس میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔
صو لت مرزا نے بھی اپنی قیادت کے کہنے پر کراچی الیکٹرک کارپوریشن کے ایم۔ ڈی شاہد حامد ان کے ڈرائیور اور محافظ سمیت کئی افراد کو قتل کیا، 1998سے 2015تک کسی کو یہ زحمت گوارہ نہیں ہو ئی کہ اس کے اقبالی بیان پر ان لوگوں کے خلاف ایکشن لیا جاتا جنہوں نے اسے استعمال کیا بلکہ پھانسی سے کچھ روز پہلے تک تو وہ چیخ چیخ کر ان لوگوں کے نام لیتا رہا جو اس کے گناہ میں برا بر کے شریک تھے ۔

جس کے نتیجے میں ایک بار پھر وفاقی حکومت کے حکم پر ایک جوائنٹ انٹرو گیشن ٹیم تشکیل دی جس نے مچھ جیل جا کر مرزا کا بیان قلمبند کیا لیکن” مک مکا“ کے چکروں میں ہمیشہ کی طرح اس رپورٹ کو بھی کاغذوں کے قبرستان میں دفنا دیا گیا۔
قارئین کرام !اگر سیا سی رہنماؤں سے امید رکھی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اس بار بھی ایک نئے ” مک مکا“ کی وجہ سے عزیر بلوچ کیس کا حال بھی صولت مرزا سے کچھ مختلف نہ ہو گا ۔

جس سے ایک بار پھر گھٹیا اور فرسودہ سوچ رکھنے والے رہنماؤں کا لبادہ اوڑھے غداروں کا مکروہ چہرہ اور کالی کرتوت عوام کے سامنے نہیں آسکیں گی۔یہ لوگ پھر سے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں ”میثا ق مک مکا“کے ڈاکومنٹ پر دستخط کر کے صولت مرزا اور عزیر بلوچ جیسے کرداروں کو پیدا کر کے اپنے گھنا ؤنے عزائم پورے کراتے رہیں گے اور لوگوں کے سامنے معزز ٹہرتے رہیں گے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2016-02-09

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-