بند کریں
اتوار مئی

کیا نیو ورلڈ آرڈرکی تکمیل ہونے جارہی ہے!!

یونس مجاز :

صاحبو !سرد جنگ کے زمانے میں جب دنیا کی دوبڑی طاقتیں روس اور امریکہ آمنے سامنے تھے تو امریکہ نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ کے ساتھ عالم ِ اسلام خصو صاْ پاکستان سعودی عرب ایران اور دیگر عرب ممالک کو ہوا دیکھا یا اپنا اتحادی بنایا روس کی افغانستان میں مداخلت کی غلطی کا فائدہ اٹھاکر افغانیوں کو جہاد کے نام پر جنگ کا ایندھن بنایا عربوں کے وسائل اور پاکستان فوج کی حکمت عملی سے اس جنگ میں روس کو تو شکست ہوئی مگرامریکہ دنیا کا واحد تھانیدار بن گیا مغرب کی ہمراکابی میں نیو ورلڈ آرڈرتشکیل دیا جو دراصل عالم اسلام کے خلاف ہی تھا جسے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور اہل مغرب اپنے لیے نیا خطرہ سمجھتے ہیں اور پھرکمال عیاری کے ساتھ مسلمان حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشیوں ذاتی مفادات اور نااہلیوں کا فائدہ اٹھا کر آپس میں ایسا دست و گریباں کیا کہ بقول شاعر ؛۔


ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں
اب تو ہی بتا کس کو کس سے جدا کریں ہم
صدام کی پیٹھ ٹھونکی عراق کو ایران سے لڑوا دیا آٹھ سالہ لا حاصل جنگ نے کشت وخون اور معاشی تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا یہ مسلمانوں کی کشتی میں نیو ورلڈ آرڈ کا پہلا چھید تھا مغرب کی پشت پناہی کے بل پوتے پرصدام جب ایران سے پنجہ آزمائی کے بعد مغرب کو ہی آنکھیں دکھانے اور اترانے لگا تو امریکہ کی چال میں آکر عراق کویت پر چڑھ دوڑاامریکہ نے پینترا بدلا عربوں کوساتھ ملایا اور کویت کو عراق کے قبضہ سے چھڑانے اور خطرناک ہتھیاروں کی تلاش کا بہانہ بنا کر نہ صر ف عربوں کے وسائل پر قابض ہو گیا بلکہ صدام کو بھی عبرت کا نشان بنا دیا عراق جو صدام کے زمانے میں سنی اسٹیٹ تھی ایک سازش کے تحت شیعہ کمیونٹی کے حوالے کر دی گئی یہیں پر القاعدہ اور پھر داعش کا راستہ ہموار ہوا القاعدہ کے نام پر نائن الیون کو بہانہ بنا کر افغانستان پر اسامہ کی تلاش اورطالبان کا قلا قمع کرنے کی خواہش میں امریکہ کو جہاں چڑھ دوڑنے کا موقع ملا وہاں وسطی ایشیا کی ریاستوں کے وسائل پر نظر رکھتے ہوئے روس ،چین ،ایران اور پاکستان کو کاوٴنٹر کرنا مقصود تھا لیکن افغان طالبان نے امریکہ کے سارے خواب چکنا چور کر د ئیے البتہ دہشت گردی کی آگ پاکستان کے گلے میں ڈال دی جس سے پاکستان آج بھی نبرد آزما ہے لیبا کے کرنل قزافی کو اس کے بیٹے سیف قزافی کے ذریعے رام کیا پھر دنیا ہی سے فارغ کر دیا اب لیبا جنگ و جدل کا شکار ہے اس کے بعد مصر میں جو کھیل کھیلا گیاعالم اسلام کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے پہلے شام میں حافظ لا سدکے خلاف بغاوت کر وائی اب ترکی کو شام میں پھنسایا جا رہا بلکہ روس سے بھی لڑوایا جا رہا ہے سعودی عرب دیگر عرب ممالک کو پہلے یمن میں پھنسایا اب 34ممالک جو اب37 ہو چکے ہیں کا داعش کے خلاف اتحاد بنوا کر اسے سنی اتحاد کانام دلوانے میں امریکہ اور اس کے حواری سعودی عرب کی پیٹھ ٹھونک رہے ہیں امریکی وزیر دفاع ایش کارٹرنے یہ بات کہہ کر واضح کردیا ہے کہ یہ الائنس امریکی حکمت عملی کے عین مطابق ہے
د اعش کے موجودہ سربراہ ابو بکر البغدادی نے عراق پر امریکی حملے کے بعد ایک عسکری تنظیم جماعت جیش اہل َسنت ولجماعت کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا البغدادی ۲۰۰۶ میں مجاہدین شہری کونسل کا حصہ بن گیا اور۹ ۲ جون ۲۰۱۴کواس گروپ نیانام دولت اسلامیہ رکھ لیا اور خلافت قائم کرنے کا اعلان کر دیاجس کا خلیفہ ابو بکر البغدادی کو بنایا گیا داعش کے امیر ابو عمر البغدادی کے قتل کے بعد ابو بکر ۱۶ مئی ۲۰۱۰داعش کے امیر مقرر ہوا البغدادی کو ایک دوسرے نام ابراہیم بن عوادد کے نام سے بھی متعارف کروایا گیا امریکی محکمہ دفاع کے ریکارڈ کے مطابق البغدادی ۲۰۰۴ میں گرفتار کیا گیا تھا اس کی برین واشنگ کر کے میدان میں اتارا گیا حالیہ ایران سعودی عرب کشیدگی بھی امریکہ اور اس کے حواریوں کے سازشی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت مسلم دنیا کو شیعہ سنی دو بلاک میں مکمل طور پر تقسیم کیا جا رہاہے جس کے بعد پوری مسلم امہ دست و گریباں ہو جائے گی اگر ترکی ،پاکستان ،ایران اور سعودی عرب نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو نیوورلڈ آرڈر کی تکمیل کو ئی نہیں روک سکے گا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ داعش جس کی تخلیق اور بڑھوتری میں امریکہ اور اس کے حواریوں کا ہاتھ ہے ایک طرف امریکہ نے پہلے داعش کے خلاف 65ممالک کا اتحاد بنوایا اور اب سعودی عرب کی سربراہی میں بھی37 ممالک اتحاد بنوا دیا جسے وہ سنی اتحادکا نام دیتا ہے جبکہ شام ،عراق ،ترکی ،ایران اور روس پہلے ہی داعش کے خلا ف بر سرِ پیکار ہیں لیکن پھر بھی چند لاکھ داعش کے دہشت گرد ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے اگر واقعی ان کا خاتمہ ہی مقصود ہے تو اکھٹے ہو کر لڑنے میں کیا امر مانع ہے 2014میں جب امریکی صدر اوباما نے داعش کو اپنے لیئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے کر اس کے ٹھکانوں پرفضائی حملوں کا اعلان کیا تھا اور دولت اسلامیہ کے بارے میں کہا تھا کہ دولت اسلامیہ اسلامی ہے نہ ریاست،اور ساتھ ہی عرب ممالک سے عسکری تعاون بھی طلب کیا جس پر دس عرب ممالک نے تعاون کا یقین دلایا لیکن اس وقت ترکی اور روس نے اس حکمت عملی کی نہ صر ف مخالفت کی بلکہ ترکی نے امریکہ کو اپنے ہوائی اڈے بھی دینے سے انکار کر دیاتھا لیکن چند ماہ بعد امریکہ نے ایسی چال چلی کردوں کا مہرہ استعمال کر کے کہ نہ صرف ترکی نے امریکہ کو اپنے اڈے بھی فراہم کر دئیے بلکہ داعش کے خلاف بھی میدان عمل میں آگیا اور تو اور روس جو داعش کے خلاف حملے کر کے ان کے ٹھکانے تباہ کر رہا ہے اس کے ایک جہاز کو ترکی کے ذریعہ گرا کر ترکی اور روس کو بھی جنگ کے دھانے پر لے آیا ہے اور اس آگ کو مزید بڑھکانے کے لئے نا ٹو سیکرٹری جنرل جینز اسٹو لٹنبرگ نے روس کے خلاف ترکی کی مدد کے لئے فوجی دستے بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے امریکہ نے یہ عجب کھچڑی پکائی ہے داعش جو خود شیعہ مخالف تنظیم قرار دے رہی تھی جس نے شیعہ حکمرانی والی ریاستوں شام،عرا ق میں اپنی خلافت کا اعلان کیا ہے لیکن وہ ریاستیں داعش کے خلاف بننے والے اتحاد میں شامل نہیں امریکی وزیر خارہ جان کیری کی عجیب منظق بھی سامنے آئی کہ امریکی سر برائی میں قائم اتحاد میں ایران کی شمولیت ضروری نہیں وہ شامل ہوئے بغیرداعش کے خلاف اہم کردار ادا کر سکتا ہے جس کے جواب میں خامنہ ای نے کہا ہے مجھے ایسے کسی ملک کے ساتھ تعاون کی وجہ نظر نہیں آتی جس کے ہاتھ گندے اور ارادے تاریک ہوں ایرانی مجلس شوریٰ کے اسپیکر علی لا ریجانی نے بھی دورہ پاکستان کے دوران ایک عشائیے میں کہا کہ داعش بڑی طاقتوں کی پیدا وار ہے وہی اس کو ہتھیار فراہم کر رہی ہیں بڑی طاقتیں ایسے گروہ تشکیل دیتی ہیں اور انھیں اپنے مقاصد کے لئے استعما ل کرتی ہیں اور بعد ازاں ان کا خاتمہ کر دیتی ہیں امریکہ محض نام کے بم گرا رہا ہے حالانکہ اسے معلوم ہے کہ چھاپہ مار جنگ کا مقابلہ محض بموں سے نہیں کیا جا سکتا داعش خطے کے ممالک کے لئے خطرہ ہے اور وہی اسے ختم کریں گے روسی صدر کے مشیر الیگزینڈر پروخانوف کے مطابق داعش کے عسکریت پسندوں کو اسرائیل تربیت دے رہاہے مشرق وسطیٰ میں انتشار پھیلانے کے لئے امریکی پالیسی نے داعش کو قائم کیا ہے ایرانی ٹی وی کو دئے گئے اپنے انٹر ویو میں روسی مشیر کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کی خفیہ ایجنسی نے برسوں کا جاسوسی کا تجربہ اور فلسطینیوں پر مظالم سے حاصل ہونے والی مہارت داعش عسکریت پسندوں کو منتقل کرد ی ہے یہی وجہ ہے کہ عسکریت پسند عراق اور شام میں مسلم اور غیر مسلم باشندوں کو جانوروں کی طرح ذبح کر رہے ہیں ادھر سعودی عرب کے مفتی اعظم نے بھی کہا ہے کہ داعش کے لوگ اسلام کی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ درحقیقت یہ اسرائیلی فوج کا حصہ ہیں سعودی اخبار کود ئیے گئے انٹرویو میں مفتی اعظم عبدالعزیز الشیخ کا کہنا ہے کہ داعش کے لوگ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اس لئے انھیں اسلام کا ماننے والا نہ تصور کیا جائے البغدادی کی اسرائیل کے خلاف دھمکی جھوٹ اورفریب ہے غیرجانبدار مبصرین کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لئے امریکہ کے عزائم ہمیشہ مشکوک رہے ہیں ایک طرف تو امریکہ نے داعش کے خلاف فضائی حملوں کا اعلان کر رکھا ہے اور دوسری جانب جدید ترین اور طاقتور امریکی ٹرک جنگجووٴں تک پہنچ چکے ہیں جو ان پر مشین گنیں اور دیگر امریکی جدید اسلحہ لگا کر میدان جنگ میں جھنڈے گاڑ رہے ہیں دراصل امریکہ داعش کا سب سے بڑا حلیف ہے جدید اسلحہ اور بکتر بند گاڑیاں امریکہ ہی کی فراہم کردہ ہیں مجوزہ سنی اتحاد کو جہاں اسلامک ورلڑ وار کا منصوبہ ہے( جس کا گزشتہ کالم میں بھی راقم نے ذکر کیا تھا )وہاں روس ترکی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں د یکھا جائے تو یہ بعید نہیں مستقبل میں اس اتحاد کو روس کے خلاف بھی بر سرِ پیکار کر دیا جائے اس لئے ایران سعودی عرب کی کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے جہاں ترکی اور پاکستان کو آگے آنا چائیے وہاں روس اور چین کو بھی امریکہ کی اس سازش کو روکنے کی سعی کرنی چائیے جبکہ روس اور ترکی کی کشیدگی کے خاتمے کے لئے پاکستان اور چین کو اپنا اثر رسوخ استعمال کرنا ہو گا ورنہ امریکہ اپنے حواریوں سے مل کر اپنی مکاری کے بل پوتے پر اس خطہ میں وہ آگ بھڑکانے جا رہا ہے جس کانتیجہ انتہائی بھیانک ہوگاکیوں کہ یہ خطہ ایٹمی بارود پر بیٹھا ہوا ہے جہاں روس ،چین ،پاکستان اور بھارت اعلانیہ ایٹمی طاقت کی حامل ریاستیں موجود ہیں خطے میں کہیں بھی آگ بھڑکی اور کوئی چنگاری خدا نا خواستہ ایٹمی بارود پر جا پڑی تو پھراس خطہ کی مکمل تباہی کو کوئی نہیں روک سکے گا ۔

© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2016-01-11

کالم نگار     :     یونس مجاز

یونس مجاز کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-