بند کریں
اتوار فروری

بینظیر بھٹو کا قاتل کون؟

مبشر میر :

18اکتوبر 2007سے لے کر 27دسمبر 2007تک، 72دنوں کے واقعات پر بحث و مباحثہ زور و شور سے جاری ہے اور محترمہ بینظیر بھٹو کے قاتل تلاش کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ 27اکتوبر 2015ء آچکا۔ کئی پہلو زیر بحث آچکے، کئی سوال اٹھائے گئے اور بہت سے سوالات ابھی اٹھائے جانے باقی ہیں۔ لیکن جس جواب کا سب کو انتظار ہے وہ ابھی کسی کی زبان پر سرعام نہیں آرہا۔ آج ایک مرتبہ پھر میرے ذہن میں بھی چند سوال اٹھ رہے ہیں۔

اگر اس کے جواب کسی کے پاس ہوں تو براہ مہربانی استعفادہ کرنے کا موقع دے۔
سابق صدر جنرل پرویز مشرف سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ آپ محترمہ بینظیر بھٹو کے 18اکتوبر 2007کو وطن واپس آنے کے کیوں مخالف تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے دسمبر 2007میں تشریف لانا تھا اور 31دسمبر کی رات بلاول ہاوٴس میں سال نو کی پارٹی میں شرکت کی دعوت بھی دے دی گئی تھی جسے بقول جنرل صاحب نے اسے قبول کرلیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ آخر جنرل پرویز مشرف محترمہ بینظیر بھٹو کو انتخابی مہم سے باہر کیوں رکھنا چاہتے تھے۔ اور آخر کار محترمہ نے انتخابی مہم چلانے کا فیصلہ کیوں کیا!۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ یو ایس اے کونڈا لیزا رائس نے محترمہ بینظیر بھٹو کو الیکشن سے پہلے وطن واپس آنے پر قائل کیا۔ کیا محترمہ بینظیر بھٹو کو یہ خدشہ تھا کہ ان کے ساتھ ڈبل گیم ہوگی۔

لیکن امریکا اور ان کے یو اے ای کے دوست اگر گارنٹی دے چکے تھے تو پھر محترمہ بینظیر بھٹو خدشات کا شکار کیوں تھیں؟۔
بعض باخبر ذرائع کے مطابق صوبہ پنجاب میں قومی اسمبلی کی 130نشستوں میں سے مسلم لیگ ق نے کم از کم 100نشستیں حاصل کرنے کی ایسی منصوبہ بندی کی تھی کہ ایک تو پنجاب میں ان کی حکومت بنتی اور قومی اسمبلی میں اکثریتی پارٹی بھی ہوتے اگر محترمہ کو بحیثیت وزیراعظم چنا جاتا تو مسلم لیگ ق کے ساتھ اشتراک سے وہ انتہائی کمزدور وزیراعظم ہوتیں۔

اس منصوبہ بندی کا علم ہونے کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو نے معاہدے کو نظر انداز کرتے ہوئے 18اکتوبر 2007ء میں وطن واپسی کا اعلان کیا ان کو یہ توقع تھی کہ وہ ملک میں طوفانی دورے کرکے پانسہ پلٹ دیں گی اور آئی بی کے سربراہ اعجاز شاہ اور مسلم لیگ ق کے چوہدری پرویز الٰہی کی منصوبہ بندی خاک میں مل جائے گی۔ وہ جانتی تھیں کہ پیپلز پارٹی کی سیکنڈ لائن قیادت میں اتنی صلاحیت نہیں کہ ایسی منصوبہ بندی کا مقابلہ کرسکے۔

فریق قیاس یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو پر ممکنہ حملوں سے کسی حد تک آگاہ تھے اس لئے وہ نہیں چاہتے تھے کہ بینظیر بھٹو خود کو خطرے میں ڈالیں کیونکہ جنرل صاحب جانتے تھے کہ اگر محترمہ بینظیر بھٹو کو کچھ ہوا تو اس کا ملبہ ان پر ہی گرے گا اور ایسا ہی ہوا۔ یہ بات بھی باعث حیرت ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو الیکشن کے نتائج کے حوالے سے اتنی خوفزدہ تھیں کہ انہوں نے اپنا نام خواتین کی مخصوص نشستوں کے لئے بھی سرفہرست رکھا تھا۔


سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا کوئی ایسا خفیہ ہاتھ کارفرما تھا جو ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہ رہا تھا کہ جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو دونوں کو منظر نامے سے ہٹایا جائے۔ اگر دونوں مل کر کام کرتے تو حالات یکسر مختلف ہوجاتے۔ سازش کے اس گورکھ دھندے میں ہر کوئی ایک دوسرے کیلئے ٹریپ (Trap)بناتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جنرل پرویز مشرف، محترمہ بینظیر بھٹو کو وزیراعظم بنانے کیلئے آمادہ تھے لیکن کمزور وزیراعظم رکھنے کی منصوبہ بندی میں بھی شامل تھے۔

سیاست کھیل ہی ایسا ہے کہ کوئی کسی سے کتنا مخلص ہے اس کا اندازہ لگانا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ 18اکتوبر کو شاہراہ فیصل کار ساز بم دھماکے بعد محترمہ بینظیر بھٹو کی جان تو بچ گئی لیکن 150سے زائد افراد نے جان دے دی۔ چند روز بعد امریکی سفیر نے کراچی میں بینظیر بھٹو سے ملاقات کی تو محترمہ نے اپنی سیکورٹی کے متعلق بات کی تو انہوں نے بھی سیکورٹی کو پرویز مشرف سے تعلقات کی نوعیت سے جوڑا جو حیران کن ہے۔

اگر قتل منصوبے پر عمل کرنے والے گروپ بیت اللہ محسود کے بارے میں بات کی جائے تو حالیہ اطلاعات کے بعد قتل منصوبے پر عملدرآمد کرنے والا پورا گروپ ہی ہلاک ہوچکا ہے۔ پہلے تو یہ اطلاعات تھیں کہ یہ لوگ عورت پر حملہ نہیں کرتے اگر یہ نظریہ تھا تو پھر محترمہ بینظیر بھٹو پر حملہ کیوں کیا گیا یا یہ لوگ کس کے کرایے کے لوگ تھے۔ یہ بات باعث دلچسپی ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کو بہت سے لوگ خطرات سے آگاہ کررہے تھے پرویز مشرف بھی ان کو خطرات سے آگاہ کررہے تھے، انہیں خود بھی اندازہ تھا اور دبئی میں انہیں یو اے ای کی اعلیٰ شخصیت نے بھی خطرات سے آگاہ کیا لیکن چھپے ہوئے اصل دشمن کے بارے میں کسی نے آگاہ کیا یا نہیں۔

اس سوال کا جواب کبھی مل سکے گا؟۔ لیکن محترمہ بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھی شیریں رحمان، امین فہیم، ناہید خان یا پھر آصف علی زرداری اس بارے میں جانتے ہیں۔ محترمہ کے سیکورٹی انچارج رحمان ملک کو تو اصل دشمن کی خبر ہونی چاہئے۔ اگر محافظ اصل خطرے سے آگاہ نہ ہو تو حفاظت کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں جنرل اشفاق پرویز کیانی طاقت کا ایک بڑا سرچشمہ تھے خاص طور پر جب وہ آئی ایس آئی کے سربراہ بن گئے۔

ایک سوال پیپلز پارٹی کے حلقوں سے کیا جاسکتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے پاس ایک سیاسی گروہ بھی تھا جسے ان کے قریبی رفقاء سمجھا جاتا تھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف سے مذاکرات کے لئے جنرل کیانی کے ذریعے بات چیت کرنے کو ترجیح کیوں دی۔ کیا یہ محترمہ کی خواہش پر ہوا یا جنرل پرویز مشرف کی طرف سے جنرل کیانی کو ذمے داری سونپی گئی۔

یہ بھی ممکن ہے کہ جنرل کیانی ہی ان مذاکرات کے اصل محرک ہوں۔ اگر جنرل کیانی نے بطور سربراہ آئی ایس آئی محترمہ بینظیر بھٹو کو سیکورٹی کے حوالے سے مطمئن کیا تھا اور معاہدے پر عملدرآمد میں معاونت فراہم کرنے کی دامے ، درمے، قدمے اور سخنے ذمے داری لی تھی جبکہ وہ 29دسمبر 2007ء کو چیف آف آرمی اسٹاف بن چکے تھے تو جنرل پرویز مشرف سے بھی طاقتور شخصیت تھے۔

اس دوران انہوں نے اپنا کردار ادا کرنے کی کیا کوششیں کیں اس کا جواب بھی حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔
ایک واقعہ سب کے لئے چونکا دینے والا تھا کہ افغان صدر حامد کرزئی آخر کس کے اشارے پر اچانک اسلام آباد آئے اور محترمہ بینظیر بھٹو سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ جو لوگ اس ملاقات میں موجود تھے انہوں نے اس ملاقات کا احوال بیان کیا ہے جو میں نے بھی کسی حد تک سنا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد انہوں نے اس ملاقات کو اپنے لئے ایک پیغام سمجھا کہ اب ان کے لئے راستہ صاف ہے۔

تمام رکاوٹیں آہستہ آہستہ ختم ہوتی جائیں گی۔ لیاقت باغ کے جلسے میں محترمہ بینظیر بھٹو کا اعتماد اور خوشی دیکھ کر اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اس ملاقات سے پہلے 26دسمبر کی رات آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ندیم تاج سے محترمہ بینظیر بھٹوکی ملاقات کا تذکرہ بھی آتا ہے کہ وہ انہیں لیاقت باغ کے جلسے میں جانے سے روکنے کا مشورہ دے رہے تھے۔

اگر انہیں خدشہ تھا کہ بینظیر بھٹو پر شدید حملہ ہوسکتا ہے تو وہ اس حملے کو روکنے کے اقدامات کیوں نہیں کررہے تھے یا اگر انہوں نے اقدامات کئے تو کس نوعیت کے تھے کہ اس کے باوجود حملہ ہوا اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کردی گئیں۔
بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد لگتا ہے کہ پلان ”B“ پر عملدرآمد کا آغاز ہوگیا تھا، پیپلز پارٹی کو حکومت ملی اور بالآخر جنرل پرویز مشرف اور جنرل کیانی کے تعلقات میں دراڑ آنے کی صورت میں ملک کی صدارت بھی مل گئی۔

بعض معتبر ذرائع کے مطابق ملک کے اعلیٰ ترین حساس ادارے نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو بینظیر بھٹو قتل کے حوالے سے اپنی تفتیش کی مکمل بریفنگ دی تھی۔ اس پر ان کا کیا ردعمل تھا اس پر کسی نے لب کشائی نہیں کی۔
اگر پاکستان میں وزیراعظم لیاقت علی خاں قتل، حسین شہید سہروری کی بیروت ہوٹل میں پراسرار موت، جنرل ضیاء الحق طیارہ کیس کی صحیح معنوں میں تفتیش کے بعد عوام کے سامنے حقائق لائے جاتے تو شاید کسی خفیہ طاقت کی طرف سے ملک کی مقبول لیڈر محترمہ بینظیر بھٹو کو قتل کرنے کی کوشش ناکام ہوسکتی تھی۔

آج موجودہ حکومت کے لئے ایک چیلنج ہے اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے انتخابی جلسوں میں بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں تاکہ ملک آئندہ ایسے حادثات سے محفوظ رہ سکے۔ اس قتل کی سازش کو بے نقاب ہونا چاہئے۔
کسی ملک کو کمزور یا ختم کرنے کی کوشش کرنے والوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ملک کی مقبول قیادت کو منظر نامے سے ہٹا دو تو باقی کام آسان ہوجائے گا۔

شاید کچھ ایسی ہی سوچ پاکستان کے ان دشمنوں کی تھی جنہوں نے پاکستان کو ختم کرنے کی تاریخ بھی مقرر کررکھی تھی جن لوگوں کا پاکستان کی بقاء پر ایمان نہیں تھا انہوں نے اپنی دولت کا کثیر حصہ بیرون ملک محفوظ پناہ گاہوں میں رکھ لیا تھا اور آج بھی ایسا کرنے سے دریغ نہیں کررہے ۔ وقت نے کروٹ لی اور قدرت نے اپنا فیصلہ نافذ کرنا شروع کیا اور آج پاکستان دفاعی نقطہ نظر سے زیادہ محفوظ اور مضبوط ملک نظر آرہا ہے۔


قیام پاکستان سے لے کر آج تک جتنے بڑے سانحات ہوئے ان کا محرک اور ہمارا خفیہ دشمن ایک ہی ہے جو پاکستان کو توڑنے میں معاون تھا۔ کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کررہا ہے، یہ بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ ہمارے دشمن کو ہم میں سے ہی ایسے لوگ میسر آتے ہیں جو گھر کے بھیدی ہوتے ہیں۔ اور نشیمن پر بجلیاں گرانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ ان کی سازشیں اب بھی جاری ہیں لیکن پوری قوم کو بیدار رہنے کی ضرورت ہے تاکہ صفوں میں گھسے ہوئے قاتلوں کو پہچان سکیں اور آئندہ نسلوں کو محفوظ بناسکیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-12-30

: متعلقہ عنوان


کالم نگار     :     مبشر میر

مبشر میر کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-