بند کریں
پیر مئی

مودی21ویں صدی کا ہٹلر

خالد ارشاد صوفی :

آپ کو یاد ہوگا کہ مودی کے اقتدار میں آنے سے چند ماہ قبل ’عام آدمی پارٹی‘ کے وزیراعلیٰ دہلی اروند کجریوال اور ان کی کابینہ نے 15فروری 2014ء کوصرف 49 روز اقتدار میں رہنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھااور دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سے کہا تھا کہ ” اسمبلی تحلیل کر کے نئے انتخابات کرائے جائیں“۔ یاد رہے کہ ریاست دہلی میں یہ بحران کرپشن کے خلاف ایک بل پیش کیے جانے کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا۔

کجریوال کا کہنا تھاکہ” کانگرس نے تحریری طور پر ’جن لوک پال بل‘ کی حمایت کا وعدہ کیا تھا “…لیکن جب 15فروری 2014ء کو بل پیش کرنے کی کوشش کی گئی تو کانگرس اور بی جے پی دونوں اس کے خلاف متحد ہو گئیں۔ دونوں کے ارکان اسمبلی نے اتنا ہنگامہ کیا کہ وزیراعلیٰ کجریوال کے لیے تقریر کرنا بھی مشکل ہو گیا۔ اسمبلی کے 70 ارکان میں سے کانگرس اور بی جے پی کے 42 ارکان کی مخالفت نے ’عام آدمی پارٹی‘ کے رہنما کو یہ کہنے کا موقع فراہم کیا کہ” کانگرس اور بی جے پی کرپشن کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں، دونوں پس پردہ ملک کو لوٹ رہی ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں ان کا حقیقی چہرہ سامنے آ گیا ہے، جمہوری نظام میں سرمایہ دار طبقہ سیاسی پارٹیوں کو مالی وسائل فراہم کرتا ہے، اسے کوئی عیب نہیں سمجھا جاتا“ لیکن کجریوال نے جو سیاست میں آنے سے پہلے اعلیٰ سول افسر رہ چکے تھے، بعض بڑے سیاستدانوں اور سرمایہ داروں کا نام لے کر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ 2 بڑی سیاسی جماعتوں میں شامل سیاستدانوں کو بھاری رشوتیں دیتے ہیں۔

انہوں نے ایک بڑی کاروباری شخصیت مکیش امبانی کا نام لے کر کہا کہ ” وہ اس ملک کی حکومت چلا رہا ہے، وہ کہتا ہے کانگرس میری دکان ہے، میں جو چاہوں اس سے خرید سکتا ہوں، وہ 10 برس سے حکمران اتحاد یوپی اے کی سرپرستی کر رہا ہے، اور گزشتہ ایک برس سے مکیش امبانی گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کی بھی پشت پناہی کر رہا ہے۔ نریندر مودی جو ہیلی کاپٹروں میں اُڑتا پھرتا ہے اور بھاری جلسے کر رہا ہے تو اس کے پیچھے بھی مکیش امبانی ہی ہے۔


ہر انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی منشور سرتاپا پاکستان دشمنی کا مظہر ہوتا ہے…2004 ء اور 2014ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے منشور میں واشگاف الفاظ میں متعصب ہندو رائے دہندگان کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اکھنڈ بھارت کی بحالی اور قیام کیلئے مقامی و بین الاقوامی سطح پرہمہ جہتی مساعی بروئے کار لانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی ،نیز یہ کہ ’ خطے میں رام راج کا غلبہ ہمارا خواب ہے ‘۔

اس سے قبل انتخابات میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی میں پاکستان دشمنی کارڈ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ بھارت دنیا کاوہ واحد ملک ہے، جہاں تقریباً گزشتہ اڑھائی عشروں سے پاور پالیٹکس کوانتہا پسند ہندو سیاست اور قیادت نے یرغمال بنارکھاہے۔
کون نہیں جانتا کہ مودی کے برسر اقتدار آتے ہی بھارت کی تمام انتہا پسند ہندو تنظیمیں متحرک ہو گئیں۔

جن میں شیوسینا پیش پیش ہے۔مودی دور کا آغاز ہوتے ہی بھارت میں انتہا پسندوں نے مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہندو استھان میں صرف اور صرف ہندووٴں ہی کو رہنے کا حق ہے، اگر مسلمان بھی یہاں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنا مذہب ترک کرنا ہو گا‘۔ کچھ عرصہ بعد مسلم لڑکیوں کی ہندو لڑکوں سے شادی کا ناٹک رچایا گیا۔

دیکھتے دیکھتے پورے بھارت میں گائے ذبح کرنے کے الزام میں مسلم نوجوانوں کا قتل شروع کر دیا گیا۔ بات مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مظاہروں سے آگے بڑھی اور اس نے دلتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ انہیں زندہ جلایا گیا۔ تھانوں میں ان پر غیر انسانی تشدد کیا گیا ۔ اس پر جب احتجاج کیا گیا تو مودی کابینہ کے ایک وزیر جو بھارت کے سابق آرمی چیف بھی رہے ہیں، نے دلتوں کے قتل کو کتوں کے مارے جانے سے تشبیہ دی۔

اب پورا ہندوستان نفرت کی لپیٹ میں ہے۔ اس کا خمیازہ مودی سرکار اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ریاست بہار کے انتخابات میں بھگتنا پڑا۔ گئو ماتا کے پجاری مودی کو ان انتخابات کے بعد یہ جملہ بھی سننا پڑا: ’مودی جی! گائے دودھ دیتی ہے، ووٹ نہیں دیتی‘… یہ امر قابل ذکر ہے کہ مئی 2014ء کے انتخابات میں نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو انتہا پسند رائے دہندگان کی بھرپور تائید و حمایت حاصل رہی اور اس جماعت نے شاندار کامیابی حاصل کی لیکن اُن کی داخلی پالیسیوں اور ناقص حکمت عملیوں کے نتائج 3ماہ بعد ہی سامنے آ گئے جب یو پی اور دوسری ریاستوں کے ضمنی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست فاش ہوئی۔


بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 21 ویں صدی کے ہٹلر کی حیثیت سے اپنا تشخص اجاگر کرنا چاہتا ہے۔ جرمنی کے ہٹلر نے تو جرمنی میں مبینہ طور پر صرف اور صرف یہودیوں کا ناطقہ بند کیا اور مبینہ طور پر ان کا ہولو کاسٹ کیا تھا لیکن 21 ویں صدی کے ہٹلر مودی نے بھارت کی تمام اقلیتوں کے ہولوکاسٹ کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہے۔ پاکستان دشمنی اور مسلم کشی جس طرح 2002ء میں اس کا نصب العین تھی آج نومبر 2015ء میں بھی وہ اسی مشن کو عملی جامع پہنانے کے لیے بہانے ڈھونڈتا اور جواز تلاش کرتا رہتا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اپنے دور میں یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے تھے کہ انہوں نے ہندوستان کو شائننگ انڈیا کا روپ دے دیا ہے لیکن اس شائننگ انڈیا کو مودی سرکارتاریک دور کی بستی بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ انتخابات سے قبل ان کا دعویٰ تھا کہ وہ بھارت کو ڈیجیٹل انڈیا بنائیں گے۔ وہ بھارت کو ڈیجیٹل انڈیا تو نہیں بنا سکے لیکن انہوں نے اسے مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کا سلاٹر ہاوٴس بنا کر رکھ دیا ہے۔

یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ مودی اور اس کے پیروکاروں کے نزدیک گائے کو ذبح کرنا سنگین ترین جرم ہے جبکہ اقلیتوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ کر رکھ دینا ان کا ’آئینی اور جمہوری حق‘ ہے۔
مودی کے اقتدار میں آنے سے 43 برس قبل اندرا گاندھی نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے ایجنڈے کو عملی شکل دی۔ اس کے لیے اگرتلہ میں مشرقی پاکستان اور مغربی بنگال کے ہزاروں ہندووٴں کو فوجی تربیت دی۔

پاکستان بیزار اور پاکستان مخالف عوامی تحریک کے سیاسی عناصر کے لیے مغربی بنگال کے دروازے کھول دیے کہ وہ جب چاہیں یہاں آئیں اور بنگلہ دیش کے قیام کی تحریک کے لیے فکری تربیت حاصل کریں۔ مزید برآں مشرقی پاکستان میں موجود تعلیم ، تجارت اور معیشت پر قابض ہندووٴں کے ذریعے انہوں نے بنگلہ دیش تحریک کو مالی، اسلحی اور عسکری امداد فراہم کی۔

را نے اپنے ہزاروں کارندے مشرقی پاکستان میں داخل کیے۔ 1970ء کے انتخابات ہوئے تو عوامی لیگ کی کامیابی کے لیے بھارتی میڈیا اور ’را‘ کے کارندوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔16دسمبر 1971ء کو جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تواس موقع پر بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے فخریہ لہجے میں کہا کہ ’آج ہم نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے‘۔


سقوط مشرقی پاکستان کے 44 برس بعد جون 2015ء میں نریندر مودی ڈھاکہ پہنچے، وہاں انہوں نے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے حوالے سے اپنے مذموم عزائم کا اظہار کیا اور تسلیم کیا کہ جب بھارت کے ایجنڈے کے تحت مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کی شکل دینے کے منصوبے پر کام ہو رہا تھا تو دہ دہلی میں رام سیوک کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر دو قومی نظریہ کے حوالے سے بھی اپنے نفرت بھرے عزائم کا اظہار کیا۔انہوں نے واضح طور پر بین السطور پاکستان کو پیغام دیا کہ وہ پاکستان کے مختلف صوبوں میں علیحدگی کی تحریکوں کو اسی طرح سپورٹ کریں گے، جس طرح بھارت نے 1970ء میں مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک کی سرپرستی کی تھی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-11-16

کالم نگار     :     خالد ارشاد صوفی

خالد ارشاد صوفی معروف صحافی اور پاکستان میں فروغ تعلیم کے لیے سرگرم فلاحی ادارے کاروان علم فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں

خالد ارشاد صوفی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-