بند کریں
بدھ فروری

موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید

عارف محمود کسانہ :

تاریخ انسانی میں ہمیشہ حق اور باطل کی قوتوں کے درمیان معرکہ آرائی رہی ہے ۔ تمام انبیاء اکرام اپنے اپنے دور میں باطل اور برائی کی قوتوں کے سامنے حق کا پرچم بلند کرتے رہے۔ حضرت خلیل اللہ  و نمرود، صاحب ضرب کلیم و فرعون اوراسی طرح رسول پاک ﷺنے ابوجہل اور کفار مکہ کے سامنے ثابت قدمی سے حق کا پیغام پیش کیا اورباطل کا بھر پور مقابلہ کیا۔

انبیاء اکرام کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ حضرت امام عالی مقام کا یزید کے سامنے کلمہ حق اسی کا تسلسل تھا جس کا ذکر کرتے ہوئے علامہ اقبال فرماتے ہیں
موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
این دو قوت از حیات آمد پدید
علامہ نے انسانی تاریخ کا اہم فلسفہ ایک شعر میں سمو دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسین  حق اور نیکی کے علمبردار تھے جبکہ فرعون اور یزید باطل اور برائی کے مظہر تھے۔

ان دونوں قوتوں کے مابین یہ کشمکش ہمیشہ جاری رہے گی۔ ہر دور میں دونوں قوتیں موجود ہوتی ہیں یہ ہمیں طے کرنا کہ کس کا ساتھ دینا ہے۔ حق و باطل کی اسی معرکہ آرائی کو علامہ نے مزید وضاحت سے یوں بیان کیا ہے کہ حضرت ابراھیم  کے پیام انقلاب سے یوم فرقان جب حق اور باطل ایک دوسرے کے مد مقابل تھے اور یہی سلسلہ کربلا میں نظر آتا ہے ۔
صدق خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشق
معرکہء وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق
اردو اور فارسی ادب میں بہت ستے ممتاز شعراء نے امام عالی مقام کو اپنے اپنے علم اور فہم کے مطابق خراج عقیدت پیش کیا ہے لیکن جو علامہ کا انداز ہے وہ کسی اور کا نہیں۔

یہ ہو بھی نہیں سکتا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ علامہ کی شاعری کامنبع قرآن ہے۔ انہوں نے قرآن حکیم پر غوروفکر کرتے ہوئے جو کچھ خود سمجھا وہی انہوں نے دوسروں کو سمجھایا۔ حضرت امام حسین کاقرآن سے تعلق بیان کرتے ہوئے کیا خوب لکھتے ہیں کہ
رمز قران از حسین آموختم
ز آتش او شعلہ ہا اندوختم
وہ کہتے ہیں کہ ہم نے قرآنی تعلیمات کا راز حضرت امام حسین  سے سیکھا ہے او ر ہم نے اُن کی جلائی ہوئی آگ سے شعلے لیکر جمع کئے ہیں ۔

امام علی مقام نے اپنے خون سے اللہ کی وحدانیت اور توحید کی گواہی دی اور ہم امام عالی مقام کے دیئے ہوئے درس حریت کی روشنی میں مصروف عمل ہیں۔ علامہ کے فارسی اشعار رموذ خودی سے ہیں ۔علامہ اقبال نے حضرت امام حسین  کوایک طویل نظم درمعنی حریت اسلامیہ و سِرِ حادثہ کربلا میں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ قرآن حکیم کی تعلیمات کی روشنی میں شہادت حسین  پر اس سے بہتر خراج عقیدت میری نظر نہیں گذرا۔

معروف ماہر اقبالیات محمد شریف بقا نے اس طویل فارسی نظم کو آسان اردو میں ترجمہ کرکے اقبال اور ذکر حسین کے نام سے کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے۔ علامہ نے امام حسین اور یزید کو حق اور باطل کی قوتوں کے نمائندوں کی حیثیت سے لیتے ہوئے دونوں کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام عالی مقام نے حق کی خاطر خاک و خون میں لتھڑ گئے اس لیے وہ لاالہ کی بنیادبن گئے ہیں
بہر حق در خاک و خون غلتیدہ است
بس بنای لا الہ گردیدہ است
اردو کلام میں بھی علامہ نے جابجا جناب امام علی مقام  کی عظیم جدوجہد پربہت خوبصورت انداز میں یوں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ معرکہ آرائی ہر دور میں جاری رہی اور مستقبل میں جاری رہے گی ۔ اس کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
حقیقت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی
حکیم الامت نے اسی حق و باطل کی کشمکش اور دین کی تاریخ کو اپنے شعر میں یوں بیان کیا کہ حضرت اسماعیل  کی بارگاہ الہی میں قربان ہونے کی رضا کو نقطہ آغاز قرار دیتے ہوئے شہادت امام حسین  پر اس کا اختتام کیا ۔

وہ فرماتے ہیں کہ
غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل
علامہ اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ حضرت امام حسین نے جو عظیم قربانی دی اُسے مسلمانوں نے فراموش کردیا۔ ملوکیت اور آمریت جس کے سامنے امام عالی مقام نے کلمہ حق بلند کیا لیکن وہی ملوکیت ایک طویل عرصہ تک اسلامی تاریخ پر چھائی رہی اور جہاں جہاں آج بھی مسلمانوں میں جمہوریت ہے بھی وہ بھی موروثیت کے لبادے میں ملوکیت کا عکس ہے اسی لیے وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ
قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے دابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات
اس صورت حال میں وہ یہی پیغام حریت دیتے ہیں حضرت امام عالی مقام کی پیروی کی جائے اور وہی راستہ امت مسلمہ کو دینا میں عروج اور عزت دے سکتا ہے ۔

اس لیے وہ کہتے ہیں عبادات کا مطلب محض رسمی عبادات اور ذکر و فکر نہیں بلکہ اس کے لیے میدان عمل میں آنا ہوگا اور حضرت امام حسین کے راستے پر چلنا ہوگا اس لیے وہ کہتے ہیں کہ
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ دلگیری
جس طرح مولانا جامی باد نسیم کو بارگاہ رسالت ﷺ میں اپنا حال بیان کرنے کی درخواست کرتے ہیں اسی انداز میں علامہ بھی ہوا سے درخواست کرتے ہیں کہ اس صبا تو دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کوپیغام پہنچاتی ہے ۔ تجھ سے التجا ہے کہ ہمارے آنسو نذرانہ عقیدت کے طور پر امام عالی مقام کے روضہ مبارک تک پہنچا دے ۔
اے صبا اے پیک ِ دور افتاد گاں
اشک، برخاکِ پاکِ او رساں
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-10-24

کالم نگار     :     عارف محمود کسانہ

عارف محمود کسانہ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-