بند کریں
ہفتہ فروری

انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس

مبین رشید :

اس سال رمضان المبارک میں جمعتہ المبارک کے روز ایک ڈھلتی شام میں جب میں ایک کاغذ پر انٹرنیشنل میڈیا کانفرنس کے انعقاد اوراس میں شرکت کرنے کے لئے ممکنہ نامور اینکرز کے نام لکھ رہا تھا تو مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ منفرد آئیڈیا اگلے چند دنوں میں اس قدر مقبولیت حاصل کرے گا کہ برطانیہ اور پاکستان میں میڈیا سے دلچسپی رکھنے والا ہر شخص اس کانفرنس کے متعلق گفتگو کر رہا ہو گا۔

اب جبکہ کانفرنس کے انعقاد میں محض چند روز باقی رہ گئے ہیں تو میرے پاس خدائے بزرگ و برتر کا شکر بجا لانے اور اپنے دوستوں کی والہانہ محبت کا شکریہ ادا کرنے کے لئے کوئی الفاظ نہیں جس نے اس ناچیز کو اس قدر عزت و وقار سے نوازا۔
زندگی کے اتار چڑھاؤ مجھے پاکستان کی شب وروز کی صحافیانہ مصروفیات اورزندہ دلان لاہور شہر سے ہزاروں میل دور لندن لے آئے مگر دل مضطرب ہمیشہ کچھ انوکھا اور بڑا کام کرنے کے لئے تڑپتارہا۔

اسی سال 28 مارچ 2015ء کو برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستانی اور برطانوی وکلاء کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کر کے پہلی انٹرنیشنل لاء کانفرنس کا انعقاد یقینی بنایا جو اس لحاظ سے یادگار تجربہ تھا کہ برطانیہ کے چھوٹے بڑے شہروں سے خاص طور پر300سے زائدممتازسولیسٹرز اور بیرسٹرز نے شرکت کی جبکہ پاکستان سے 5 انتہائی مقبول اور سینئر وکلاء میری درخواست پر لندن تشریف لائے جن میں جناب حامد خان، جناب علی احمد کرد، جناب جسٹس (ر) سعید الزمان صدیقی، جناب ایس ایم ظفر اور ڈاکٹر خالد رانجھا شامل ہیں۔


برطانیہ میں سوا لاکھ سے زائد سولیسٹرز موجود ہیں جن میں سے ساڑھے تین ہزار سے زائد سولیسٹرز پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ برطانوی زندگی کے سفر کے آغازہی میں میری کچھ پاکستانی سولیسٹرز پرنسپلز(لاء فرم کے مالکان) سے دوستی ہو گئی تھی۔ ان سے گپ شپ کے دوران ہی یہ خیال آیا کہ کیوں نہ پاکستانی اور برطانوی وکلاء کو ایک چھت تلے اکٹھا کیا جائے۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان میں مختلف درسگاہوں میں برطانوی قوانین ہی پڑھائے جاتے ہیں جبکہ پاکستان سے ہرسال میں بڑی تعداد میں طلباء ایل ایل ایم اور بیرسٹری کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے برطانیہ آتے ہیں۔ جسٹس (ر) سعیدالزمان صدیقی کے صاحبزادے بیرسٹر افنان صدیقی بھی یہیں کے فارغ التحصیل ہیں اور وہ خاص طور پر اپنی والدہ کے ہمراہ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔

اسی طرح ایس ایم ظفر صاحب اپنی زوجہ، صاحبزادے بیرسٹر علی ظفر (جو اس وقت سپریم کورٹ بار کے صدارتی الیکشن میں امیدوار ہیں) بہو اور صاحبزادی روشان ظفر (جو کشف بینک کامیابی سے چلا رہی ہیں) کے ہمراہ خاص طور پر کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے۔ ڈاکٹر خالد رانجھا صاحب 1964ء سے لندن کی گلیوں سے آشنا ہیں وہ بھی اس کانفرنس میں شرکت کے لئے اپنی بیٹی اور داماد کے ہمراہ تشریف لائے۔

حامد خان صاحب اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود صرف 18 گھنٹوں کے لئے لندن آئے اور ہماری کانفرنس کو بے پناہ عزت بخشی جبکہ علی احمد کرد صاحب سے تو ایسی محبت کا تعلق بنا کہ جس ہفتے ان سے پاکستان بات نہ ہو، یوں لگتا ہے کہ جیسے کوئی بہت بڑی بھول ہو گئی ہو۔ ان کے بار ہا کہے گئے یہ الفاظ اکثر میرے کانوں میں گونجتے رہتے ہیں۔
”مبین رشید… تم زندگی میں بہت آگے جاؤ گے، بہت ترقی کرو گے“۔

میں نے زیرلب مسکراہٹ کے ساتھ اسے روایتی تبصرہ سمجھ کے شکریہ اداکیا تو فرمایا:
”یہ ایک درویش کے الفاظ ہیں۔ اسے مذاق نہ سمجھنا۔ میں نے دنیا دیکھی ہے۔ میں اغوا بھی ہوا ہوں اور میں نے جیل بھی دیکھی ہے۔ میں نے تمہاری آنکھوں میں غیرمعمولی چمک اور کشش دیکھی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تمہیں دنیا کی کوئی طاقت کامیابی سے نہیں رو ک سکتی“۔


ان کے لہجے کی بے پناہ سنجیدگی سے جہاں میرا سینہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا وہاں بہت زیادہ احساس ذمہ داری بھی ڈرائے جا رہا تھا کہ اگر پاکستان کے مقبول ترین ہیرو علی احمد کرد صاحب مجھ جیسے کمزور اور ناتواں شخص کے متعلق اس قدر والہانہ محبت کا اظہار کر رہے ہیں تو مجھ پربھی بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس مرد قلندر کی توقعات پر پورا اتروں۔


دوسری انٹرنیشنل لاء کانفرنس تو انشاء اللہ اگلے سال جولائی 2016ء میں لندن میں ہو گی لیکن طبیعت کی روایتی بے چینی نے 365دن کے ا نتظارکو پہاڑ جیسا کر دیااور کچھ مزید اور نیا کرنے کی خواہش دل میں تلملانے لگی یوں رمضان المبارک میں الحمدللہ اس پروگرام کی داغ بیل رکھ دی۔ یہ یقینا انتہائی منفرد آیئڈیا تھا کیونکہ اس سے قبل پاکستان کے نامور صحافی وقتافوقتا لندن آتے رہتے ہیں لیکن کبھی اتنی بڑی تعداد میں اکٹھے اور پہلے سے اعلان شدہ پروگرام میں شرکت کے لیے نہیں آئے۔

اہل برطانیہ پاکستان اور انڈیا کے سنگرز اور سٹیج ڈراموں کے آرٹسٹوں کو سننے اور دیکھنے کے عادی ہیں لیکن کیا ان لوگوں کو پاکستانی میڈیا کے ہیروز کو دیکھنے اور سننے کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا۔
مجھے اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ 20لاکھ کی اس برطانوی نژاد پاکستانی کمیونٹی میں اتنی گنجائش ضرور موجود ہے کہ پڑھے لکھے لوگ ایک اعلیٰ سطحی علمی گفتگو کوسننا پسند کریں گے البتہ لندن کے ساتھ برمنگھم اور مانچسٹر کے لوگوں کے لئے لندن آنے کی مشکل کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ منصوبہ بندی بھی کر لی کہ ہم اپنے دس سے پندرہ معزز مہمانوں کو درخواست کریں گے کہ وہ زحمت کر کے دوسرے شہروں کے لئے ہمارے شریک سفر بنیں کجا یہ کہ ان شہروں کے 500 لوگوں سے درخواست کی جائے کہ وہ لندن آئیں کیونکہ سنٹرل لندن میں 500 بندوں کی گنجائش کا راؤنڈٹیبل ہال ڈھونڈنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

کافی تگ ودو کے بعد سنٹرل لندن کے لئے پورچیسٹرہال ( Porchester Hall ) کوفائنل کیا۔ اسی طرح مقامی دوستوں کی مدد سے برمنگھم کے لئے ڈگ بیتھ ہال( Digbeth Hall )اور مانچسٹر کے لئے نواب ریسٹورنٹ کو بہترین گردانا گیا۔
الحمدللہ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز میں اسی میڈیا کانفرنس کا چرچا ہے جبکہ برطانیہ کے تمام کاروباری حلقوں اور کمیونٹی میں بھی یہی کانفرنس زیربحث ہے۔

ایک تنہا شخص کی جانب سے دیکھے گئے خواب کو میرا پروردگار اس قدر شہرت اور عظمت سے نوازے گا، میرے کبھی وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ اس انتھک کاوش میں ، میں پاکستان اور برطانیہ میں اپنے درجنوں دوستوں کی والہانہ محبت کا بھی مقروض ہو چکا ہوں جن کا انفرادی شکریہ ادا کرنے کے لئے شاید ایک اور کالم درکار ہو گا۔
اس کانفرنس کے انعقاد کا واحد مقصد پاکستانی کمیونٹی کا پاکستان کے نامور اینکرز کے ساتھ براہ راست رابطے کو یقینی بنانے کی سادہ سی کوشش ہے۔

پچھلے چند برسوں میں پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا ایک مضبوط ترین ستون کے طور پر سامنے آیا ہے۔ برطانیہ میں بسنے والے لوگوں کو احساس ہوسکے کہ پاکستانی میڈیا نے یہ مشکل سفر کتنی محنت اور جستجوسے طے کیا جبکہ پاکستانی میڈیا کے سپرسٹارز بھی برطانیہ میں مقیم لوگوں کے جذبات اور احساسات سے آگاہ ہو سکیں اور سب سے بڑھ کر یورپ کے دل اور بین الاقوامی دارالحکومت لندن میں اس شاندار کانفرنس سے انشاء اللہ پاکستان کا نام روشن ہو گا کہ پاکستان کا میڈیا دنیا کے موٴثر ترین میڈیا میں سے ایک ہے جس نے محض چند برسوں میں 18 کروڑ عوام کو امید اور روشنی کی ایک نئی زندگی عطا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-10-19

کالم نگار     :     مبین رشید

مبین رشید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-