بند کریں
بدھ ستمبر

قاتل ریاست۔۔۔ نیازی،شجاع ، گوڈیل

سید شاہد عباس :

کالم کے عنوان سے ہی شاید لوگوں کی تنقید بناء پڑھے شروع ہو جائے گی ۔ مجھے مکمل احساس ہے کہ عنوان میں شدت پسندی شامل ہے۔ لیکن ہم صرف لفظوں میں شدت پسندی ظاہر کر سکتے ہیں۔ یا پھر ملک دشمن عناصر وطن عزیز کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں شدت پسندی دکھا سکتے ہیں۔ انصاف کی فراہمی میں ریاست ہرگز شدت پسندی نہیں دکھا سکتی ۔ نہ دکھا پا رہی ہے۔ اور اب تو سرخ آندھیوں نے بھی اپنا رستہ بدل لیا ہے کیوں کہ ایک آدھ ناحق قتل پہ تو سرخ آندھیاں مقتول کی گواہی بن سکتی ہیں۔ لیکن جہاں قتل عام ہو وہاں آندھیاں ریات کی طرح منہ پھیر لیتی ہیں۔
انصاف کا ایک نیازی اسمبلی میں واپس جانے کی تیاریوں میں تھا تو انصاف کے دوسرے نیازی کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ صد افسوس کے ایوان میں واپس جانے والے نیازی کو بریکنگ نیوز بنا دیا گیا۔ لیکن سپرد خاک ہونے والے نیازی کو جو حقیقی معنوں میں انصاف کا قتل ٹھہرا پس پردہ چلا گیا۔ اخبارات نے دو کالمی خبروں پہ اکتفا کیا تو الیکٹرانک میڈیا پہ چند لمحوں کے ٹکرز کے بعد صورت حال آگے نہ بڑھ سکی ۔ اور ماضی کو سامنے رکھیں تو چند دن بعد لوگ اس واقعے کو بھول کر زندگی میں مگن ہو جائیں گے۔
طاہر خان نیازی صاحب کو گھر میں گھس کا نہ صرف ان کی زندگی کی سانسیں ختم کر دی گئیں۔ بلکہ ہچکیاں لیتے انصاف کو بھی وقت نزع تک پہنچا دیا گیا۔ شنید ہے کہ JIT بنے گی ۔ یا کچھ آگے بڑھ کر کمیشن بھی بنا دیا جائے۔ کیوں کہ ہم کمیشن بنانے میں خود کفیل ہیں۔ بلکہ شایدزائد الکفیل ہیں۔ انصاف کے اس قتل کی ریاست ذمہ دار اس لیے ہے کہ ریاست تب تک حرکت میں نہیںآ تی جب تک 150 بچے خون میں نہ نہلا دیے جائیں۔ ریاست اس وقت پہلوتہی برتتی ہے جب تک کم و بیش پندرہ سو ہزارہ کو گاجر مولی کی طرح کاٹ نہ دیا جائے۔ ریاست اس وقت تک مجرمانہ خاموشی سادھے رکھتی ہے جب تک ہر فرقے کی مساجد و امام بارگاہوں کے در و دیوار سرخ نہیں کر دیے جاتے ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ، ایک منظم شخص ، اور ایک بہترین انسان۔ دن دیہاڑے گھر میں خون میں نہلا دیا گیا ۔ اب تک یہ ہی پتا نہیں چل پایا کہ حملہ آور ایک تھا یا دو۔ حفاظت کا اتنا بہترین انتظام تھا کہ عینی شاہدین کے بقول حملہ آور نے خانزادہ صاحب سے ہاتھ ملایا اور دھماکہ کر دیا یہ عالم ہے ایک شورش زدہ صوبے کے وزیر داخلہ کی حفاظت کا۔ اب چاہے انہوں نے خود سیکیورٹی نہیں لی یا کوئی اور وجوہات تھیں ایک بہادر انسان بہرحال منوں مٹی میں چلا گیا۔ لیکن دعوے برقرار ہیں ۔ جنگ جیتنے کے بھی اور جنگ لڑنے کے بھی ، شاید ہواؤں میں۔
گوڈیل صاحب ریاستی نااہلی کی تازہ ترین مثال ہیں۔ جو زندگی و موت کی کشمکش میں ہیں۔ سرِ بازار گولیوں نے ان کے سینے کی آزمائش کر ڈالی وہ تو قسمت اچھی تھی کہ ان کا مضبوط سینہ گولیوں کا بوجھ جھیل گیا اور سانسوں کی ڈور ابھی بندھی ہے ورنہ اب تک نہ جانے۔۔۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں ۔ لکھنے پہ آئیں تو ایسے ایسے واقعات سامنے آتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
ریاست تب تک خواب غفلت میں رہتی ہے جب تک باوردی جرنیل سڑکوں پر شہید نہ کر دیے جائیں۔ ریاست اس وقت تک اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں اٹھاتی جب تک کسی سابق وزیر اعظم کو ابدی نیند نہ سلا دیا جائے۔ ریاست اس وقت تک پلوں اور سڑکوں کی تعمیر میں ہی مصروف رہتی ہے جب تک کہ نوبت اس نہج پر نہ پہنچ جائے کہ مجرموں کو تختہ دار پر لٹکانے کی جرات کرنے کے بجائے پولیس مقابلوں میں مار دیا جائے۔
ریاست جب جب کمزوری دکھاتی ہے تب تب خونِ انساں ارزاں ہوتا ہے۔ کافی عرصہ گزرا ایک ننھی کلی کا ریپ کر دیا گیا۔ اس پہ ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا " پاکستان کا ریپ" شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ اخبارات نے شائع تک کرنے سے انکار کیا کہ کالم کے عنوان میں اچھا تاثر نہیں جا رہا۔ اب مجھے سمجھ نہیں آتی ایک ننھی کلی جس نے کل کو ماں بن کر پاکستان کی نئی نسل کی امین بننا تھا اس کو مسل دینے کو پاکستان کا ریپ نہ گردانا جائے تو کیا کہا جائے؟
جو ریاست اپنی حساس اداروں تک کی حفاظت کرنے سے قاصر ہو اس ریاست میں طاہر خان نیازی جیسے دلیر جج کو گولی سے بھون دینا بھلا کیونکر آسان نہ ہوتا۔ قاتل حسب معمول دنددناتے ہوئے آئے طاہر خان کو گولی ماری اور چلتے بنے وہ بھی بیچ شہر میں۔ نامعلوم افراد آئے۔ نامعلوم گولی انصاف کا خون کر گئی۔
فوجی عدالتوں کے حق میں فیصلہ آنا یقینا ملکی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے۔ اور اعلیٰ عدلیہ بھی ملکی وقار میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ لیکن نہ تو اعلیٰ عدلیہ تک عام آدمی کی پہنچ ہے نہ ہی فوجی عدالتوں میں غریبوں کی رسائی ہو گی ۔ عام آدمی کی رسائی تو طاہر خان نیازی جیسوں تک ہی ہوتی ہے۔ شو مئی قسمت کہ نچلی عدالتوں میں جج کوئی نیازی جیسا بیٹھا ہو تو عام لوگوں کو بھی جلد انصاف کی امید لگ جاتی ہے۔ انصاف کی بنیاد نچلی عدالتیں ہیں ۔ منصف انصاف تب کرئے گا جب اس کا اپنا تحفظ یقینی ہو گا۔آپ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ جب ایک جج کو گھر میں گھس کر بآسانی قتل کر دیا جائے۔ اور فرار کی راہ میں کوئی رکاوٹ ، کوئی ناکہ نہ آئے تو بچ جانے والے جج صاحبان کیسے انصاف کے تقاضے پورے کر سکتے ہیں۔
انصاف کے بناء معاشرے جنگل بن جاتے ہیں جہاں ہر کسی کا اپنا قانون ہوتا ہے۔ اور ایک کی اپنی عدالت۔ کیوں کہ جب معاشرے میں صوبوں میں وفاق کی علامت کو قتل کرنے والے ہیرو کا درجہ پا لیں تو پھر انصاف پہ فاتحہ ہی پڑھی جا سکتی ہے۔ ایک شخص کو مارنے والا قاتل کہلاتا ہے اسی طرح جو ریاست تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے وہ کیوں کر "قاتل ریاست " کہلوانے سے بچ پائے گی؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-09-02

کالم نگار     :     سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-