بند کریں
بدھ ستمبر

کچھ نہیں سے سب کچھ

حافظ ذوہیب طیب :

مر گئے،ختم ہو گئے، کچھ نہیں اس ملک میں، بیڑہ غرق ہو گیا، سب تباہ ہو گیا،یہاں کوئی مستقبل نہیں اور اس جیسے بیسیوں جملے ہیں جو میں اکثر لوگوں کی زبانوں سے سنتا ہوں۔ مایوسی اور نا امیدی کی ایسی ایسی صدائیں بلند ہو تی ہیں کہ کچھ دیر کے لئے مجھ جیسا انسان ،جو یہ سمجھتا ہے کہ مجھ میں اُمید کا مادہ کوٹ کوٹ کے بھرا ہے ، کچھ دیر کے لئے ان کے جملوں کا اسیر ہو کر یہ بات سوچنے پر مجبور ہو جا تا ہوں کہ کیا واقعی ان باتوں میں حقیقت تو نہیں؟
 لیکن اللہ کا شکر ہے کہ پبلک ریلیشن سے تعلق ہونے کی وجہ سے میری روزانہ ہی ایسے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے جو اسی ملک میں، اسی دھرتی میں اور اِنہی شہروں میں زیرہ سے ہیرو بنے۔ جنہوں نے کچھ نہیں سے بہت کچھ کا سفر ،ہمت اور استقلال کے ساتھ طے کیا اور اب پاک دھرتی کو سرسبزو شاداب اور یہاں کے باسیوں کو مایوسیوں اور ناامیدیوں کے گہری دلدل سے نکال کر امید کا مسافر بنا نے کی سعی میں مصروف ہیں۔
قارئین ! مجھے بہت خوشگوار حیرت ہوئی جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ مارکیٹ میں کامیابی کے موضوع اور کچھ نہیں سے ،سب کچھ بننے کا اعزاز پانے والے ایک پاکستانی کی لکھی ہوئی کتاب آئی ہے ۔ یاد رہے اس سے قبل گوروں کی آپ بیتیاں اور کامیابی کے موضوع پر ان کی تحریر کردہ کتابوں کے علاوہ اور کوئی چیز میسر نہیں تھی۔
نیٹ سول ٹیکنا لوجیز کے سر براہ اور لاہور میں آسٹریلیا کے اعزازی سفارت کار ، سلیم غوری کی کتاب” غوری،کچھ نہیں سے سب کچھ “یہ اعزاز حاصل کر چکی ہے کہ یہ میری زندگی میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کر نے والی کچھ کتابوں میں شامل ہو گئی ہے جنہیں میں نے ایک رات میں ختم کیا ۔ اور پھر روزانہ ہی انسان کو کندن بنا نے کا گُر سکھاتی ان کتابوں کے صفحات کی رو گردانی اور ہر دفعہ ایک نیا راز، ایک نیا سبق اور کامیاب زندگی گذارنے کا نسخہ کیمیا دریافت ہو تا ہے۔
یہ کتاب اس اعتبار سے بھی خا ص ہے کہ یہ بچپن میں پارے کی طرح تھرکتے، جستجو کی لگن اور کچھ گذرنے کی خواہش کو سینے میں سجائے ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو کبھی سعودیہ کے ریگستانوں اورکبھی آسٹریلیا کے نخلستانوں میں دن بھر کی جدو جہد کے بعد ایک کامیاب انسان کے طور پر اُبھر اور پھر اُس کامیابی کو اپنے وطن اور ہمو طنوں کے ساتھ شئیر کرنے کی نیت سے پاکستان واپس آ کر آئی۔ٹی کی فیلڈ میں سوئی ہوئی پاکستانی مخفی صلاحیتوں کو جگا نے کی ٹھانی۔
یہی وجہ ہے کہ کچھ سالوں کی انتھک محنت اور شب و روز جدو جہد کی وجہ سے ان کی کمپنی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پور ی دنیا کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے ۔ عالمی لیول کے بڑے بڑے ادارے اس وقت ان کے کسٹمرز ہیں ۔ کاروبار میں ان کے اعلیٰ اقدار اور سر وسز کو دیکھتے ہوئے آسٹریلیا نے انہیں لاہورمیں اپنا اعزازی سفارت کار بھی منتخب کر رکھا ہے۔
قارئین ! اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہ کتاب کامیابی کے طالبعلموں کے لئے ایک گائیڈ لائن ہے۔ ایک ایسے شخص کی کہانی جس نے زندگی کے سب اتا ر چڑھا ؤ کو بہت قریب سے دیکھا۔ نا ممکنات کو کس طرح ممکنات کے خوبصورت سانچے میں تبدیل کیا اور مشکلات کو ایک چیلنج سمجھتے ہوئے کیسے ان کا سد باب کیا ؟ یہ سب اس کتاب میں موجود ہے ۔
یہ کتاب ایک انسا ئیکلو پیڈیا ہے، ایسے لوگوں کے لئے جو کامیابی کی شا ہراہ کے مسافر بننا چاہتے ہیں ۔ یہ کتاب مایوسیوں کی دلدل میں پھنسے لوگوں کے لئے امید اور یقین کا لنگر تقسیم کرتی ہے۔ یہ کتاب ایک ایسے شخص کی ایسی جامع مگر مختصر سوانح حیات ہے جو کچھ بھی نہ تھا لیکن سب کچھ بنا،یہ کتاب صدا بلند کر ہی ہے کہ عقل کے اندھو ! ملک کو بُرا کہنے والو! تم بھی اس ملک میں کامیاب ہو سکتے اور اس کے لئے کس چیز کی ضرورت ہے اس میں سب کچھ درج ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-09-02

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-