بند کریں
جمعرات ستمبر

صحت مند اور مہذب معاشرہ کی پہچان

ڈاکٹر اویس فاروقی :

کسی بھی معاشرے یا ملک کے ترقی کے اشارئیے دیکھنے ہوں تو وہاں کے نظام تعلیم، سماجی و معاشی حالت کے ساتھ صحت کی مجموعی صورت حال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ تعلیم، صحت اور غربت کی خستہ حالت کسی بھی ملک اور معاشرے کی پہچان کے بنیادی پیمانے ہیں جو ملک اور معاشرے ان شعبوں کو نظر انداز کرتے ہیں وہاں جہالت بیماری اور بھوک گلی گلی ،محلے ،محلے میں نظر آنے کے ساتھ بھکاریوں کی ایک کثیر تعداد نظر آئے گی جبکہ مسائل سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے کمزور اعصاب کے افراد منشیات کا سہارا لیتے ہیں۔
ہم اپنی اس بد قسمتی سے کیسے جان چھڑا سکتے ہیں جو ہمارے حکمرانوں کی صورت ہم پر مسلط ہے جن کے نزدیک محولہ بالامسائل سرئے سے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتے حالانکہ وہ ان مسائل سے آگاہ بھی ہیں۔ موجوہ حکومت کے ماہر معاشیات و اقتصادیات اور جن کے ہاتھ میں خزانے کا قلمدان ہے نے کچھ عرصہ پیشتر بتایا تھا کہ ملک میں غربت کی شرح پچاس فیصد سے زائد ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کی نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔’اس غربت سے ملک کو نجات دلانے کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری حکومت کا پہلا سال آگ بجھانے کی کوششوں میں گزر گیا۔ اب ہم خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں پر توجہ دیں گے اور انہیں رعایتی نرخ (سبسڈیز) دی جائیں گی۔‘انہوں نے غربت کی اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ پاکستانی جس کی روزانہ آمدن دو ڈالر سے کم ہے وہ خط غربت سے نیچے تصور کیا جاتا ہے۔ یہ بات بھی گزشتہ سال کی ہے جب کہ غربت کے سمندر میں غرق ہونے والوں کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔
 غیر حتمی اعدادو شمار کے مطابق اجتماعی طور پر پاکستان میں ہر روز بھوک، غذائی قلت اور غربت ایک ہزار ایک سو 84 بچوں کی جان لے لیتی ہے۔67 لاکھ پاکستانی بچے سکول نہیں جاتے پاکستان کے اقتصادی جائزے 14-2013 کے مطابق ملک میں خواندگی کی شرح تو 60 فیصد ہے لیکن پانچ سے نو سال کی عمر کے 67 لاکھ بچے سکول ہی نہیں جا پاتے۔ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکول نہ جانے والوں میں 39 فیصد لڑکے اور 46 فیصد لڑکیاں ہیں۔سروے کے مطابق بچوں کو پرائمری کی سطح پر تعلیم دلوانے کا سب سے زیادہ رحجان پنجاب میں ہے جہاں 93 فیصد بچے سکول جاتے ہیں جبکہ بلوچستان میں پانچ سے نو سال کی عمر کے سکول جانے والے بچوں کا تناسب 65 فیصد ہے۔بچوں کے سکولوں میں اندارج کے حکومتی منصوبے کے تحت 2013ء سے 2016ء تک پچاس لاکھ بچوں کو سکولوں میں داخل کروایا جائیگا۔پاکستان اپنی خام ملکی پیداوار کا دو فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ 2018ء تک تعلیم کے لیے مختص فنڈ دوگنا کر دیا جائے گا۔سروے میں فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں آٹھویں جماعت تک 1000 طلبہ کے لیے 42 سکول ہیں جبکہ 1000 طلبہ کے لیے صرف ایک ڈگری کالج ہی موجود ہے۔پاکستان میں ڈگری جاری کرنے کا اختیار رکھنے والے اداروں اور جامعات کی تعداد 156 ہے۔ ان میں سرکاری اداروں کی تعداد 88 اور نجی کی 69 ہے۔ ڈگری جاری کرنے والے اداروں میں 12لاکھ 30 ہزار طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ 60 فیصدپاکستانی غربت کے اندھیروں میں گم ۔ جائزہ رپورٹ میں دیے گئے عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 60 فیصد آبادی کی یومیہ آمدن دو ڈالر سے کم ہے ۔پاکستان میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد ایک لاکھ 67 ہزار سات سو 69 ہے۔ یعنی ایک ہزار99 افراد کے علاج معالجے کے لیے صرف ایک ڈاکٹر ہے۔ جبکہ صرف سرکاری ہسپتالوں میں موجود وسائل اس قدر محددو ہیں کہ 1647 افراد کے علاج کے لیے ایک بستر ہے۔اکنامک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ لیڈی ہیلتھ ورکرز ہیں جو گھر گھر جا کر خواتین اور بچوں کو طبی سہولتیں فراہم کر رہی ہیں لیکن ملک میں 1000 نوزائیدہ بچوں میں 66 بچے اپنی پیدائش کے فورًا بعد مر جاتے ہیں۔پاکستان میں صرف52 فیصد بچے تربیت یافتہ طبی عملے کی نگرانی میں پیدا ہوتے ہیں جبکہ ملینیم ڈویلپمنٹ کے اہداف کے مطابق یہ شرح 90 فیصد سے زیادہ ہونی چاہیے۔پاکستان میں خواتین کی اوسط عمر تقریباً 67 برس اور مردوں کی عمر 64 سال ہے۔پاکستان کا شمار دنیا کے چھٹے گنجان آباد ملکوں میں ہوتا ہے اور اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آ بادی 9،1 کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ ملک کی مجموعی آبادی 18 کروڑ 80 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ جن میں 51 فیصد مرد اور 49 فیصد خواتین ہیں۔پاکستان میں کمانے کے قابل افراد کی مجموعی تعداد پانچ کروڑ 72 لاکھ ہے لیکن ان میں سے صرف پانچ کروڑ 60 لاکھ کو ملازمت کے مواقع میسر ہیں۔ اقتصادی جائزے کے مطابق ملک میں بیروزگاری کی شرح 2ء 6 فیصد ہے۔
 سٹاک ہوم سے جاری ہونے والی ایک عالمی ریسرچ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سال 2006ء اور سال 2013ء کے درمیانی عرصہ میں دنیا کے چھ ملکوں نے سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کیا ہے۔ ان چھ ملکوں میں ہندوستان، پاکستان، چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب شامل ہیں ،بتایا گیا ہے کہ ہندوستان نے اگر پچھلے سال کی نسبت ایک سو گیارہ فیصد زیادہ اسلحہ درآمد کیا ہے کہ اس کی ضد میں پاکستان نے پچھلے سال سے ایک سو انیس فیصد زیادہ اسلحہ کی خریداری کی ہے۔
 پاکستانی عوام کے مسائل کا رونا رونے والے دانشوروں کا کہنا ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے تینوں ملکوں میں غربت کی انتہاؤں کو چھونے والے غریبوں کی آبادی باقی ماندہ دنیا کے غریبوں کی آبادی سے کہیں زیادہ ہے۔ ہندوستان کی مجموعی آبادی کا 83 فیصد انتہائی غریب تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے غریب ترین لوگوں کے ملک کی مجموعی آبادی سے تناسب 72 فیصد بتایا جاتا ہے جبکہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اور سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین کی آدھی سے ز یادہ آبادی غربت کی زد میں ہے۔ چین کے غریبوں میں وہ دس کروڑ لوگ بھی شامل ہیں جو ”غیر قانونی“ ہیں۔ چین میں دوسری اولاد کی پیدائش پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کے ذریعے پیدا ہونے والے یہ لوگ چین کے رجسٹرڈ شہری نہیں کہلاسکتے ۔آخر میں صرف ایک سوال جیسے حاصل کالم بھی کہا جا سکتا ہے کہ کیا غربت ،بھوک بے روزگاری ،بیماری اور جہالت کو ختم کئے بنا ہم ایک صحت مند اور مہذب معاشرہ اور ملک کہلا سکتے ہیں؟۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-08-31

کالم نگار     :     ڈاکٹر اویس فاروقی

ڈاکٹر اویس فاروقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-