بند کریں
پیر اگست

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات

حافظ ذوہیب طیب :

افسوس کہ بے حسی کی تمام حدیں بطور قوم ہم پار کرتے چلے جا رہے ہیں۔اپنے آپ کو انسان اور دوسرے کو حیوان سے بھی بد تر سمجھنا ہمارا وطیرہ بن چکا۔ یہی وجہ ہے کہ معا شرے میں مظلومین کی تعداد روز بروز بڑھتی جبکہ ظالموں کو قوت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ایسا معلوم ہو تا ہے جیسے انسانیت ہم سے روٹھ گئی ہے ۔بھیڑیوں کا ہجوم ہے جو انسانی چہرہ لے کر گھوم رہے ہیں۔پھر اپنی تما م تر ذمہ داریاں، حکومت اور دوسرے لوگوں پر ڈال کر حالات کی ستم ظریفیوں کا روتا نظرآتے ہیں۔
قارئین ! سڑکوں، گلیوں اور محلوں میں روز ہی ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں کہ اہل وطن کسی ظالم کے ظلم کو شکار بن رہے ہوتے ہیں، لیکن کسی کو یہ توفیق نہیں ہو تی کہ کوئی آگے بڑھے اور ظالم کا ہاتھ روکے۔ بلکہ ہمارا اجتماعی رویہ تو یہاں تک جا پہنچا ہے کہ لوگ ٹریفک حادثات کا شکار ہو کے سڑکوں پر مدد کے لئے پکار رہے ہوتے ہیں لیکن ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو گونگے، اندھے اور بہرے بن کے یہاں سے گذر جاتے ہیں۔
ابھی کل ہی شہر کی ایک معروف شاہراہ پر سفاک دل لوگوں کی گاڑی کی زد میں آکے ، بیچ سڑک ،خون میں لت پت، زخموں سے چور، ماما بشیر ، جو دن بھر کی تھکا دینے والی مزدوری کے بعد اپنے بھوکے بچوں کا پیٹ بھر نے کے لئے راشن اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے تھا، اور ہر گذرنے والے کو اپنا مسیحا سمجھتے ہوئے ، لرزتے ہاتھوں کے ساتھ ہسپتال لیجانے کی التجا ء کر رہا تھا، لیکن اسے کیا معلوم کہ سینے میں دل کی جگہ پتھر رکھنے والے یہ لوگ صرف چند لمحے کو اس کا تماشہ دیکھنے کو کھڑا ہوتے اور پھر اپنا رستہ لے لیتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی تونہیں کہ کوئی ہمت کر کے ما ما بشیر کو اپنی گاڑی میں ڈال کر مقامی ہسپتال لے جائے ۔کچھ ہی دیر میں شدید کرب کو سہتے سہتے وہ زخموں کی تاب نہ لا تے ہوئے اپنی جان جان آفرین کے نام کرجاتا ہے۔مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہاں لکھنا پڑ رہا ہے کہ جو کچھ درد دل رکھنے والے لوگ جن کی وجہ سے معاشرہ زندہ ہے وہ کسی کی مدد کر نا چاہیں تو ہمارے پولیس والوں نے اتنے بیرئیر کھڑے کر دئیے ہیں کہ وہ ان پولسیوں کے شر سے بچنے کے لئے چاہ کر بھی مدد نہیں کر پاتے۔یہاں محکمہ پولیس کے حکام اور ملازمین بھی اتنے ہی بڑے مجرم ہیں جنہوں نے نیکی کے رستے میں اتنے بڑے بڑے پتھر لا کھڑے کر دئیے ہیں۔
حالیہ سانحہ قصور بھی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کئی سالوں سے درندگی کا یہ کھیل جاری تھا، لیکن ہر ایک اپنے گھر کو بچانے کے لئے دوسروں کے بچوں کو درندگی کا نشانہ بنتے ہوئے خاموش رہا اور اس خاموشی کا نتیجہ یہ نکلا کہ گاؤں کا کوئی بھی بچہ اس درندوں سے محفوظ نہ رہا ۔اب جبکہ پانی سر سے گذر چکا اور کتنے معصوموں کی معصومیت کو ختم کر دیا گیا ، یہ لوگ چیختے چلاتے، بین کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔
ابھی کچھ روز قبل اچھرہ کے ایک پلازے میں ہونے والی آتشزدگی کے واقعے میں جب ایک نوجوان نے اپنی جان بچانے کے لئے پانچویں منزل سے چھلا نگ لگائی، 10منٹ تک وہ بالکونی نے لٹک کر نیچے کھڑے ہجوم کو دیکھتا رہا اس امید کے ساتھ شاید نیچے کھڑے لوگ میری مدد کریں گے۔ لیکن اسے کیا معلوم کہ یہ لوگ بھی اسی ہجوم کا حصہ ہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے جب چھلانگ مارنے کے بعد درد کی شدت کی وجہ سے یہ تڑپ رہا تھا تو یہاں موجود انسان نما حیوانوں نے اس کی لاش کے ساتھ سلفیاں بنوائی اور مووی بنا کر اپنے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر اپلوڈ بھی کردیں۔
کچھ عرصہ پہلے اچھرہ کے ہی علاقے میں ہی گھر میں آگ لگنے کی وجہ سے تین کمسن بچیوں کے زندہ جلنے والا دلخراش واقعہ سامنے آیا تھا جہاں اہل محلہ نے اپنی ذمہ داری کا ثبوت دینے کی بجائے ریسکیو ٹیموں اور ڈاکٹروں کو اس کاذمہ دار قرار دے دیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہاں بھی ایک دوسرے پر الزام لگانے سے کی بجائے محلے دار اپنے اپنے گھروں مین سے پانی جمع کرتے اور آگ پر ڈال دیتے، اپنے گھروں سے پرانے کمبل لاتے اور بھڑکتی آگ کو قابو کرتے، کوئی ریت کا انتظام کرتا اور بچیوں کو اپنی لپیٹ میں لینے والی قاتل آگ کو ٹھنڈا کریے، لیکن نہیں۔ یہاں بھی لوگ تین معصوم بچیوں کو زندہ جلتے دیکھتے اور ان کی چیخوں کو سنتے رہے، تصویریں بناتے رہے اور پھرسر کاری مشینری کو اس کا ذمہ دار ٹہراتے رہے۔
قارئین! یاد رہے کہ اگر ہم نے اپنی اس روش کو ترک نہ کیا تو کل کو ہمارا بھائی بھی ٹریفک حادثے میں زخموں سے چور کسی چوراہے پر پڑا ہو گا اور کوئی اس کی مدد کو نہیں آئے گا۔ ہمارے بچے درندوں کی درندگی کا شکار بن رہے ہوں گے اور ہمارا کوئی مدد گار نہیں ہو گا، ہمارے گھر والے زندہ جل رہے ہوں گے لیکن ہماری چیخ و پکار پر کوئی توجہ کر نے والا نہیں ہو گا۔کیو نکہ اقبال رحمة اللہ علیہ نے برسوں پہلے ہی فر ما دیا تھا
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-08-27

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-