بند کریں
جمعہ ستمبر

جو سمجھنا ہی نہیں چاہتے

اے وحید مراد :

ابھی رہنے دیں، کچھ دن صبر کرلیں، سوچنے سمجھنے کیلئے فرصت درکار ہوتی ہے، ابھی لبرل اور بنیاد پرستوں سمیت سوشل میڈیا کے جہادی ماڈل ایان علی کے لیکچر پر ایک دوسرے سے بھڑے ہوئے ہیں۔ یہ بہت اہم معاملہ ہے، اس کے حل ہوئے بغیر ملک میں پہیہ جام ہوجائے گا۔ ابھی اگر کچھ کام کی بات ہوگی تو لوگ توجہ نہیں دیں گے۔ سارے ننھے منے دماغوں والے دانش ور اس نہایت سنجیدہ مسئلے پر غور فرمارہے ہیں کہ ایان علی کے کراچی یونیورسٹی میں دیے گئے لیکچر کے کیا اثرات ہونگے۔ سب کو فکر کھائے جارہی ہے کہ یہ معاشرہ کہاں جارہاہے۔ سوشل میڈیا کے نابالغ اذہان کراچی یونیورسٹی کے نونہالوں کیلئے پریشان ہیں، اس لیے ابھی دیگر معاملات کو نہ چھیڑیں، مگر کیا کریں ہم اتنے اہم معاملے پر نہیں لکھ سکتے اس لیے کچھ اور بات کرتے ہیں۔
بات مگر پھر وہیں چلی جائے گی۔ آئیے ایان علی سے ہی شروع کرتے ہیں۔ منی لانڈرنگ یا غیر ملکی کرنسی غیر قانونی طورپر باہر لے جانے کی کوشش میں پکڑے جانے سے مشہور ہونے والی ماڈل گرل کو جب عدالت نے ضمانت پر رہا کیا تو نونہال جہادی تو رہے ایک طرف، اچھے خاصے پڑھے لکھے بعض سنجیدہ لوگ بھی ججوں اور عدالت پر چڑھ دوڑے۔ سپریم کورٹ جہاں کبھی ایان علی کا مقدمہ ہی نہیں آیا اس کے چیف جسٹس کی تصاویر لگا کر گالیں دی گئیں۔ کیا ان سب لوگوں کو نہیں معلوم کہ عدالتیں فیصلے کرتی ہیں تحقیقات نہیں۔ عدالتوں کے فیصلے تحقیقاتی افسروں کی رپورٹ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ ایان علی کے مقدمے میں تفتیش کرنے والے ادارے چار ماہ کے دوران تفتیش ہی مکمل نہ کرسکے۔ کیا کسی بھی ملزم کے کوئی حقوق نہیں ہوتے؟۔ اگر ایان علی کی بجائے وہاں عدلیہ کو گالیاں دینے والوں کی کوئی رشتہ دار ہوتی تو وہ نہ کہتے کہ چار ماہ میں تفتیشی افسر عدالت کے سامنے چالان ہی پیش نہیں کرپایا اس لیے ملزمہ کو ہر صورت رہا ہونا چاہیے؟۔ عدالت قانون کے مطابق چلتی ہے اور قانون کہتاہے کہ فیصلے تفتیش کی بنیاد پر ہونگے اور عدالتیں خود سے تفتیش نہیں کرتیں۔
تفتیشی ادارے کس قدر خودسر ہیں، یہ ان پر نظر رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں۔ پولیس، ایف آئی اے اور قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے تفتیش کار کیا گل کھلاتے ہیں یہ عدالتوں میں بیٹھنے والے جج اور مقدمات لڑنے والے وکیلوں کے ساتھ رپورٹنگ کرنے والے صحافی اچھی طرح جانتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اوگرا کے سابق چیئرمین کی توقیر صادق کے تقرر اور مبینہ بدعنوانی کا نوٹس لیا تو نیب کو کارروائی کیلئے کہا گیا۔ ملزم توقیر صادق نیب کے دفتر میں اس کے ڈائریکٹر کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، تفتیشی افسر وارنٹ لے کر پہنچا تو ڈائریکٹر نے ’معزز مہمان‘ کی شان میں گستاخی سمجھی۔ تفتیشی افسر سے وارنٹ لے کر پھاڑ دیا۔ اور پھر ملزم کو بیرون ملک فرار کرادیاگیا۔ عدالت دو برس تک مقدمہ سنتی رہی اور ملزم کو بیرون ملک سے پکڑ کر واپس لایا گیا۔ اس طرح لاکھوں روپے قومی خزانے سے خرچ ہوگئے۔ عدالت نے حکم دیاکہ ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ای سی ایل میں نام ہونے کے باوجود ملزم توقیر صادق پاکستان سے باہر کیسے گیا اس کی تحقیقات کی جائیں۔ ڈیڑھ برس بعد نیب نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ ہم نے تحقیقات کرلی ہیں، تین افسران پر الزام تھا ، ثابت نہ ہوسکا اس لیے صرف ایک ڈائریکٹر کو واپس ان کے اصل محکمے میں بھیج دیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ معاملے میں مزید کارروائی کی ضرورت نہیں۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے انکوائری رپورٹ میں ایک غلطی پکڑ لی کہ جب کسی پر الزام ثابت نہیں ہوسکا تو ایک افسر کو واپس اس کے محکمے میں کیوں بھیج دیا گیا؟۔ نیب کا پراسیکیوٹر جنرل اس سوال کا جواب دینے میں ناکام رہا۔ ججوں نے دس بار سوال دہرایا مگر لاکھوں کی تنخواہ لینے والے پراسیکیوٹر خاموش رہے۔ اب بتائیے عدالت کیا کرے؟۔ قانون کے مطابق تفتیش نیب نے کرنی ہے عدالت نے نہیں۔ نیب کے افسران نے ملزم کو فرار کرایا، پھر واپس لائے گئے ملزم کے ساتھ ملے ہوئے تمام افسران کو بے گناہ قرار دیا۔ عدالت صرف یہی کرسکتی ہے کہ اس پر کمیشن بنا کر تحقیق کرے۔
مگر شاید ہی اس ملک میں قانون اور طریقہ کار کی بات کسی کو سمجھ آئے۔ یہاں لوگ اپنی خواہشات پر جیتے ہیں۔ اور خواہشوں کے غلام حقائق کو سمجھنے کی بجائے صرف اپنی بات پر اڑنا جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواہش کے مطابق فیصلہ آئے تو بلے بلے اور جشن۔ مرضی کا فیصلہ نہ آئے تو عدلیہ کو گالی، جج کرپٹ تھا، یا کسی نے خرید لیا۔ صرف این اے 122کے کیس میں دیکھ لیں۔ جج نے فیصلہ سنانے میں دیر کی تو عمران خان کی اہلیہ نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’فیصلے میں تاخیر سے شکوک پیدا ہوتے ہیں‘۔ یہ ان لوگوں کاحال ہے کہ جو خود کو ایک خاص طبقہ سمجھتے ہیں، جو خیال کرتے ہیں کہ ان کی سمجھ بوجھ عام لوگوں سے بہت بہتر ہے۔ یہی فیصلہ اگر ایاز صادق کے حق میں آیا ہوتا تو کچھ ایسی کہانیاں بنائی جاتیں کہ ’جج کو فون آگیا تھا، جج صاحب کسی سے ہدایات لے رہے تھے‘۔مگر یہ کوئی سوچ نہیں ہے کہ پڑھنے سے ختم ہوجائے گی، حقائق جان لینے سے بدل جائے گی۔ یہ دانستہ کی جانے والی حرکتیں ہیں، یہ سیاسی مفادات ہیں، یہ لوگوں کو بے وقوف بنانے کا کھیل ہے، جان بوجھ کر شر انگیزی پھیلانے کا فن ہے، اور یہ فن کار عام لوگوں کے احساسات کے ساتھ کھیلتے ہیں۔
قانون کے مطابق الیکشن ٹریبونل کو انتخابی تنازعے پر 120دن میں فیصلہ کرنا ہوتاہے مگر یہاں اڑھائی برس گزرگئے۔ اس پر رائے زنی تو کیا تنقید بھی کی جاسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کا عملہ اور نادرا کی فرانزک رپورٹ ، ووٹروں کے انگوٹھوں کے نشانات اور شناختی کارڈ کے نمبروں کی تصدیق پر اتنا طویل وقت خرچ ہوگیا۔ اس نظام کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا۔ ایاز صادق فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جاتے ہیں، یہ ان کا قانونی حق ہے، لیکن ایک فریق کو دیکھیں تو اس کو اخلاقیات یاد آجاتی ہیں۔ سپریم کورٹ ملک کی اعلی ترین عدالت ہے اور جس فریق کو بھی ماتحت عدالت کے فیصلے پر تحفظات ہونگے وہ عدالت عظمی سے رجوع کرے گا۔ یہاں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی یا تحریک انصاف کی بات نہیں۔ قانون اور آئین کا معاملہ ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن کے خلاف فیصلہ آئے وہ سپریم کورٹ آتاہے۔ اس لیے اگر ایاز صادق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو قانون کے مطابق کیا۔ تحریک انصاف کے کم ازکم سات ارکان اسمبلی ٹریبونل کے فیصلوں کے خلاف عدالت عظمی آچکے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق کا معاملہ عدالت عظمی میں ہے۔ اور یقینا پہلا مرحلہ ٹریبونل کے فیصلے کی معطلی ہوتی ہے ، ایاز صادق ہویا کوئی اور، سپریم کورٹ میں اپیل آنے پر ٹریبونل کا فیصلہ معطل ہوگا پھر مقدمے کی تفصیلی سماعت ہوگی۔ مقدمات اسی طرح چلتے ہیں، قانون یہی ہے۔ اور یہ سب کیلئے ہے۔ اگر وقتی ابال بیٹھ جائے ، اچھل کود سے تھک جائیں تو اپنے ملک کے نظام کا مطالعہ کرلیں، آئین اور قانون پر نظر ڈال دیں۔ مگر معلوم ہے کہ ایان علی کے لیکچر پر سوشل میڈیا کے جہادیوں کا لیکچر زیادہ اہم ہے۔ پڑھنے سے زیادہ سنی سنائی کی اہمیت ہے، ایک ہفتے میں سپریم کورٹ ایاز صادق کو اپنے حتمی فیصلے تک بحال کردے گی، اس وقت تک ناچ گانا ہوجائے، عدلیہ کو گالیاں دینے کا وقت چار پانچ دن بعد آئے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-08-26

کالم نگار     :     اے وحید مراد

اے وحید مراد کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-