بند کریں
منگل اگست

عدالتی فیصلے اور میڈیا

میاں اشفاق انجم :

26جون 2015کو بڑے میڈیا گروپ کے اردو اور انگریزی اخبارات میں سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کو لیڈ سٹوری کے طور پر شائع کیا گیا ۔ 21اپریل 2015کو سپریم کورٹ کے 3رکنی بنچ کی طرف سے جاری ہونے والے فیصلے کو 66دن بعد 26جون کو تازہ ترین فیصلہ قرار دے کر شائع کرنے پر روزنامہ پاکستان کے ایڈیٹر رپورٹنگ میرے محترم دوست سعید چوہدری نے تجزیے کے ذریعے حقائق بیان کئے ۔ فیصلہ 26 جون کا ہو یا 21اپریل کا اس بحث میں پڑے بغیر اتنا ضرور کہوں گا کہ سپریم کورٹ کا اپنی ماتحت عدالتوں کے حوالے سے تاریخی فیصلہ ہے ۔ 1995میں جب میں نے ایل ایل بی کی ڈگری لے کر ایک سال کالا کوٹ پہن کر اگر وکالت کے پیشہ سے ہمیشہ کے لئے توبہ کر لی تھی اس کے پیچھے بھی ماتحت عدالتوں کا طریقہ کار، وکلاء کی مناپلی اورماتحت عدالتوں کی طرف سے فیصلے صادر کرنے میں کوئی معیاد مقررنہ ہونا تھا ۔ماتحت عدالتوں میں کیا ہو رہا ہے اس پر بحث سے پہلے سپریم کورٹ کے 21اپریل 2015کے 3رکنی بنچ کے فیصلے سے یہ بات کرنی ہے جس کے مطابق سول کورٹ ڈسٹرکٹ کورٹس ہائی کورٹس کو ٹرائل مکمل کرنے کے بعد پابند کیا گیا ہے کہ وہ مقررہ وقت میں فیصلہ جاری کریں۔
سول کورٹ30دن میں فیصلہ دینے کی پابند ہیں۔ ڈسٹرکٹ کورٹ45دن میں فیصلہ دینے کی پابند ہیں اورہائی کورٹ 90دن میں فیصلہ سنانے کی پابند ہیں ۔کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے سخت الفاظ میں سول کورٹ ، سیشن کورٹ ، ہائی کورٹ کوپابند کرنے کی ہدایات جاری کیں اور عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں متبادل طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا۔
ہائی کورٹ کے حوالے سے تفصیلی فیصلہ ہوچکا ہے۔ اگر ہائی کورٹ کسی مقدمہ میں اپنا فیصلہ محفوظ کرلیتی ہے تو 3ماہ میں اسے اپنا فیصلہ سنا دینا چاہیے ۔ اگر 3ماہ سے زیادہ مدت گزر جائے تو متعلقہ بنچ کو دوبارہ سماعت کرنا چاہیے ۔ 21اپریل کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے لئے 90روز کی بجائے120 دن میں فیصلہ دینے کا وقت مناسب قرار دیا ہے ۔کہا ہے کہ 120دن کے اندر اندر فیصلہ آجاناچاہیے۔
سول کورٹس کے لئے کہا گیا ہے کہ وہ سماعت مکمل ہونے کے بعد 30دن کے اندر اندر فیصلہ سنائیں گی۔ ڈسٹرکٹ کورٹس کے حوالے سے 45دن کی میعاد مقرر کی گئی ہے۔
ہمارے دوست سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سعید چوہدری نے بحث چھیڑ دی ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نیا نہیں ہے اس سے پہلے بھی متعدد بار ایسے فیصلے آ چکے ہیں ۔ سعید چوہدری کا تجزیہ سرآنکھوں پر، ہمیں کب اعتراض ہے ۔یہ پہلا اورآخری فیصلہ ہے یا ایسے فیصلے بار بار آچکے ہیں۔اگر یہ کہہ لیا جائے مقررہ وقت میں فیصلے سنانے کا سپریم کورٹ کا حکم نیا نہیں ہے ۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ ضابطہ دیوانی، افتخار گردیزی، شبیر خان کیسز میں فیصلے سنانے کے لئے معیاد مقرر کر چکی ہے ۔ تمام فیصلوں اور تجزیوں کو اگر سامنے رکھا جائے تو پتہ چلتا ہے سپریم کورٹ نے ماتحت عدالتوں کے لئے لائحہ عمل دے رکھا ہے۔ سول کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹس، ہائی کورٹس اتنے دنوں میں ٹرائل مکمل کریں گی اور اتنے دنوں میں فیصلہ دینے کی پابند ہیں۔ اس کے باوجود پندرہ پندرہ سال تک سول کورٹ،ڈسٹرکٹ کورٹ اور ہائی کورٹ میں تاریخوں پہ تاریخیں ملتی رہتی ہیں۔اور سائل فوت ہو جاتے ہیں، نئی نسل آجاتی ہے ،عدالت سے فیصلہ نہیں آتا،وکیل دھڑے سے کہتے ہیں ہم سے طے کریں کتنی دیر کیس چلانا ہے ۔نوبت یہاں تک آگئی ہے اب سائل بھی سوچنے لگے ہیں ۔ایسی باتیں کہاں سے نکلتی ہیں ،کیوں نکلتی ہیں؟سول کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹس کا نظام اس حد تک تباہ و برباد ہو چکا ہے ۔ وکیل خود سول کورٹ جانا مناسب نہیں سمجھتا ۔ منشی جاتاہے ،حاضری لگا کر آجاتاہے۔سائل بھی نہیں آتا اور پھر یہ سلسلہ ہفتوں سے شروع ہو کر مہینوں تک جاتاہے اور پھر سالوں تک پھیل جاتاہے۔ سول کورٹس ،ڈسٹرکٹ کورٹس کا نظام پورے کا پورا از سر نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔سپریم کورٹ یقینا عمل درآمد کر وا سکتی ہے مگر کیسے یہ سوال ہے جس کا جواب چاہیے۔ رہی سہی کسر وکلاء کی ہڑتال پوری کر دیتی ہے ، ایک دوست جائزہ لے رہا تھا کہ ہماری عدالتیں ایک سال میں3ماہ کھلتی ہیں باقی چھٹیاں یا ہڑتال میں وقت گزرجاتاہے۔
اس حوالے سے بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ ایک سوال اٹھتاہے کیا سپریم کورٹ اگر چاہے تو سول کورٹس اور سیشن کورٹس کو مقررہ میعاد میں فیصلے کرنے کے حوالے سے پابند کر سکتی ہے۔اگر اس کا جواب مجھ سے پوچھا جائے تو میں کہوں گا نہیں ۔ ایسا وکلاء کو اعتماد میں لئے بغیر ممکن نہیں ۔سول جج ، ڈسٹرکٹ کورٹس میں ججز حضرات کو اعتماد دینے اور سکیورٹی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ججز کا احترام نہیں ہے ، اس کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
اس وقت سول کورٹس میں جس کا دل کرتاہے وہ سول جج کو تھپڑ مار دیتا ہے ،تالا بندی کر دیتا ہے ، سارے نظام کو نئے سرے سے منظم کرنے اور مربوط کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر سول کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے ججز کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان کا مقام ان کو دے دیا جائے اور ریڈرز کے نظام کو بھی نئے سرے سے بنالیا جائے تو سارا سسٹم قوم کو خوشیاں دے سکتاہے اور پھر جا کر سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد ہو سکتاہے۔
عدلیہ کے حوالے سے تحفظات پھر دور ہو سکتے ہیں ،پاکستانی قوم کو عدلیہ سے اگر گلہ ہے تو صرف تاخیر سے وقت پرفیصلے نہ ہونے سے۔اگرقوم کا یہ گلہ دورہوجائے تو یقین سے کہاجاسکتاہے کہ عدلیہ کا نظام پٹری پر چڑھ سکتاہے۔ اورپھر یہی سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پر عمل درآمد ممکن ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-08-02

کالم نگار     :     میاں اشفاق انجم

میاں اشفاق انجم کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-