بند کریں
جمعرات جولائی

تباہی کے دہانے پر کھڑا محکمہ صحت

حافظ ذوہیب طیب :

کیا اچھا ہو تا کہ اپنے چھوٹے وزیراعلیٰ میاں حمزہ شہباز شریف عید کے موقع پر چلڈرن ہسپتال کے بچوں میں گفٹ تقسیم کر نے اور 40ارب ڈالر کی سر مایہ کاری کے بلند و بالا دعوے کر نے کی بجائے معصوم مریضوں ور ان کے والدین کی آنکھوں میں سجے نئی زندگی کے خواب کو پورا کر نے کے لئے ان کے علاج میں حائل رکاوٹوں اور اس کے لئے مطلوبہ رقم کابندو بست کر نے کا اعلان فر مادیتے۔ لیکن معلوم ہو تا ہے کہ ان اور ان کی تمام تر توجہ سڑکوں، پلوں اور بسوں کی تعمیر پر مر کوز ہے اور انسانی جانوں کی قدر ان کی نگاہ میں کچھ بھی نہیں۔
ویسے تو پورے صوبے میں ہی شعبہ صحت کی حالت تبا ہ کن ہے لیکن کچھ روز قبل چلڈرن ہسپتال کے بارے میں بی بی سی۔اردو کی ایک رپورٹ پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کتنے طالم اور مکار ہیں ہم لوگ ؟ اربوں روپے کی ترقیاتی کاموں کے نعرے لگاتے اور پھر اس پر اتراتے ہمارے حکمران ، نہ صرف لاہور بلکہ پنجاب کے دور دراز سے آئے ان معصوموں کو کس طرح موت کی وادی کا مسافر بنا رہے ہیں رپورٹ پڑھ کے بخوبی اندازہ ہو جا تا ہے۔
یاد رہے چلڈرن ہسپتال بچوں کے دل کی بیماریوں کا واحد ادارہ ہے جہاں پورے ملک سے آنے والے مریضوں کی قطاریں لگی ہیں جو اپنے جگر گوشوں کو اپنی گودوں میں اٹھائے، اس امید کے ساتھ کہ شاید باری آہی جائے، بڑی حسرت کے ساتھ ڈاکٹروں کے منہ کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں 10لاکھ بچے پیدا ئشی طور پر دل کے مریض کا شکار ہیں۔جس میں 8،ہزار بچے ہسپتال میں سر جری کی ویٹنگ لسٹ پر ہیں جن سے ان کی جان بچ سکتی ہے۔لیکن محدود وسائل کی وجہ سے ہر ہفتے سو سے زائد بچوں میں سے 11کے جان بچانے والے آپریشن ممکن ہو سکتے ہیں۔
بقول رپورٹر جب اس نے چلڈرن ہسپتال کا وزٹ کیا تو وہ ان حالات میں لوگوں کو دیکھ کر چیخ اُٹھی جبکہ اپنے آپ کو خادم اعلیٰ کہلانے والے حکمران میٹرو کے نشے میں مست ان لوگوں کے حال سے بے خبر دکھائی دیتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق چالیس دن کے شاہ زیب کے لئے ڈاکٹرز کچھ نہیں کر سکتے جبکہ والدین کی امید اِن کے ہاتھوں کو تھکنے نہیں دیتی۔وہ ہاتھ کے پمپ سے اس کی سانسیں بحال کر رہے ہیں کیو نکہ ہسپتال کے 15وینٹی لیٹرز ہزاروں مریضوں کے لئے استعمال نہیں ہو سکتے۔ڈاکٹرز بھی فنڈز کی کمی کا رونا روتے ہوئے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ تما م حالات ان کے لئے شدید تکلیف کا باعث بنتے ہیں ۔اگر ہمیں فنڈز دستیاب ہوں تو امراض قلب کے پیدا ئشی بچوں میں 80فیصد صحت یابی کے امکانات ہیں۔
قارئین!اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے اب سر کاری ہسپتالوں میں تما م مفت ٹیسٹوں کی سہولت بھی ختم کر دی گئی ہے اور بیچارے دکھ کے مارے وہ غریب لوگ جن کے پاس ایمبولینس کے پیسے نہیں ہو تے اور جو کئی کئی دنوں کے فاقوں سے ہوتے ہیں، ان کے لئے مفت ٹیسٹوں کی سہو لت ختم کرنا انہیں موت کی وادی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے پنجاب میں صحت کا محکمہ ایک ناسور بن چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہسپتالوں میں روزانہ ہی درجنوں لوگ بغیر دوائی اور انتہائی بنیادی آلات کی عدم دستیابی کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔دیہی علاقوں میں قائم ہسپتالوں کا یہ حال ہے کہ یہاں مریض ڈاکٹروں کی بجائے عملے کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ان ہسپتالوں میں نہ تو جان بچانے والی ادویات ہوتی ہیں اور نہ ہی وہ ضروری سامان جو طب کے شعبے کے لئے در کار ہو تا ہے۔تحصیل ہسپتالوں کا یہ حال ہے کہ یہاں موجودلیباٹریز انتہائی ناقص جبکہ دل،گردے،مثانے کے امراض،ہڈی جوڑنے،جلدی بیماریوں،دمہ سمیت الرجی کی بیماریوں ،یرقان کی مختلف قسموں سمیت معدے کے امراض،بچوں کی بیماریوں،آگ سے جھلس جانے والے مریضوں سمیت بہت سے شعبوں کا سرے سے وجود ہی نہیں ہوتا۔
قارئین محترم !ہمارے سیا ستدانوں میں جہاں بہت سی بیماریاں سرایت کر چکی ہیں،سابقہ حکمرانوں کی آخری مراحل میں داخل مفاد عامہ کی پالیسیوں اور ترقیاتی کاموں کووہی دفن کردینا اُس میں سے ایک ہے۔ ہمارے خادم اعلیٰ کا بھی کچھ ایسا ہی مزاج ہے جس کی وجہ سے جناح ہسپتال میں صوبے کا بہلا برن یونٹ، وزیر آباد میں امراض قلب کا ہسپتال جو مکمل ہو چکے ہیں ان کی اور محکمہ صحت کی بیو رو کریسی کی ہٹ دھر می کی وجہ سے فعال نہیں ہو پائے۔
اگر خادم اعلیٰ حقیقی معنوں میں عوام کے خادم بننا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ضرورت ہے کہ وہ مخلصانہ طریقے سے پنجاب اور بالخصوص لاہور کے ہسپتالوں کا ہنگامی دورہ کریں اور فوری طور پر یہاں موجود خامیوں اور کو تاہیوں کا ازالہ کرتے ، صحت کی سہولیات کو بہتر بنا نے کے لئے تما م تر وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور سالہا سال سے محکمہ کی ایلیٹ سیٹوں پر براجمان” فرعونوں“ کو عوام دشمن رویہ اختیار کر نے پر قرار واقعی سزا دی جائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-07-29

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان