بند کریں
منگل جولائی

لفظوں کا بوجھ

سید شاہد عباس :

 منتقم جمہوریت والے اس وقت لفظوں کے بوجھ تلے دبے بیٹھے ہیں۔ اب لفظوں سے اتھل پتھل ہونے والے معاملات کو سلجھانے میں یقینا اک عرصہ لگے گا۔ جب کہا گیا کہ " جمہوریت بہترین انتقام ہے" تو ہر ذی شعور سمجھ چکا تھا کہ اب عوام سے ایسا انتقام لیا جائے گا کہ وہ واویلا بھی نہیں کر پائیں گے۔ اور وقت نے ثابت کیا کہ " معائدہ مری" سے جمہوریت کو انتقام بنانے کی بنیاد رکھ دی گئی ۔ شاید عوام سے اس بات کا انتقام لیا گیا کہ تم ہی ہو جو آمروں کے آنے پہ مٹھائیاں تقسیم کرتے تھے۔ اور ایسا انتقام لیا گیا کہ چوراہوں پہ بھسم ہوتے لوگ نظر آئے۔ لوگ اپنے پیاروں کی لاشوں کے ٹکڑے چنتے رہے۔ لیکن انتقام جاری رہا۔
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی قوم پہلے شخصیت پرست(زندہ) تھی، اب مردہ پرست بھی ہے۔ آج تک ہم ان سیاستدانوں کو مردہ ماننے پہ تیار نہیں جن کی ہڈیا ں بھی خاک ہو چکی ہیں۔ لیکن ہم بضد ہیں کہ " وہ کل بھی زندہ تھے" وہ " آج بھی زندہ ہیں" اور شاید تب تک زندہ رہیں گے جب تک عوام کی جیبوں میں ایک دھیلا بھی باقی ہے۔ مرتے تو صرف عوام ہیں۔ وہ بھی گمنامی کی موت ۔ ایسی موت کہ کسی اخبار کی صرف یک کالمی خبر ہی بنتی ہے۔ اور بس۔
 دوسری جانب 80کی دہائی کے ابتدائی حصے میں خزانہ، دوسرے حصے یعنی85سے 90تک وزارت اعلیٰ،90ء کی دہائی میں میوزیکل چیئر میں دو دفعہ وزارت عظمیٰ، 2009-10 میں وفاق کا حصہ، 2013 کے عام انتخابات کے بعد وفاق میں حکومت، پنجاب میں حکومت، بلوچستان میں مخلوط حکومت، اس کے علاوہ کم و بیش وسائل کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے صوبے کے پچھلے تیس سالوں میں آدھے سے زیادہ وقت مطلق العنان حاکم رہنے والے بھی دوبارہ سے دعویٰ کر رہے ہیں کہ اگر انہیں مزید وقت دیا جائے تو تبدیلی لے آئیں گے۔ معلوم نہیں وہ کیسی تبدیلی ہو گی جو وہ پچھلے 35 سالوں کے اختیار میں نہیں لا سکے اور اب لائیں گے۔
اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کریں۔ دو سال میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے کے دعوے داروں نے لفظوں کے ایسے تیر چلائے کہ یہ بیوقوف قوم سمجھ بیٹھی کہ شاید ان کے آتے ہی کرپشن کے بڑے گروواقعی چاک گریباں لیے سڑکوں پہ رُل رہے ہوں گے ۔ کیوں کہ" مائیک توڑ دعویٰ" جو تھا کہ سڑکوں پہ گھسیٹیں گے۔ لیکن جب اقتدار کا ہما سر بیٹھ گیا تو عوام کو ٹھینگا دکھایا گیا ۔ اور سیاسی گرو(خود ساختہ) کے گھر جا کر نہ صرف معافی تلافی کی گئی بلکہ یہ تاثر دیا گیا کہ وہ تو بس جذبات کی رو میں کہہ دیا گیا تھا۔ اورمقصد صرف عوام کو بے وقوف بنانا تھا۔ ورنہ ہماری یہ جرات کہ آپ کو سڑکوں پہ گھسیٹیں۔ آپ تو جیسے چاہیں اس ملک کو نوچیں۔ ایک حصہ آپ نوچیے ۔ دوسرا حصہ ہم نوچتے ہیں۔ حساب برابر۔لفظوں کی مار دونوں نے ایک دوسرے کو دی ۔ اور دونوں نے ہی اپنے لفظوں کا پاس بھی نہیں رکھا۔ جھوٹے لفظوں کا ان دیکھا بوجھ ہمارے سیاستدانوں کے سرچڑھتا جا رہا ہے۔ اب دیکھیں کون اس بوجھ کے نیچے دب جاتا ہے۔ اور کون بوجھ اتارنے کی ہمت کرتا ہے۔
کہتے ہیں ___کی دم پہ پاؤں پڑے تو وہ کاٹنے کو دوڑتا ہے۔ اس بات پہ توجہ دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بس ذہن میں بات آ گئی تو قارئین سے شیئر کر لی۔بے وقوف شاید خالی جگہ خود پر کر لیں۔ پیسہ آ رہا تھا۔ مری معائدے کے مطابق ایک طرف ایک بھائی ہوائی سڑکیں بنا رہا ہے تو دوسری طرف بڑا بھائی (سب پہ بھاری بھائی ) مسکراہٹیں بکھیر رہا تھا۔ پھر نہ جانے رینجرز کو کیا سوجھی کہ دہشت گردی اور لاقانونیت کو جڑ سے اکھاڑنے کا کام اپنے ذمے لے لیا۔ رینجرز نے ان " ہستیوں" کو بھی لپیٹنا شروع کر دیا جو بڑے صاحب بنے پھرتے تھے۔ نازک اندام ہمراز جیل یاترا پہ گئے تو جلتی پہ تیل کا کام ہوا۔کبھی گھر سے انکل سام کی تصویر والے کاغذ برآمد ہوئے تو کبھی لاوارث کشتی کے وارثوں کا پتا چل گیا۔ سنورنے کے بجائے بگڑتی چلی گئی۔ ہمیشہ کہا گیا کہ سیاسی گرو کی سیاست سمجھنے کے لیے پی ایچ ڈی کرنی پڑے گی تو شاید گمان ان کو یہ ہوا کہ واقعی ہم سیاست کے کوئی مہان ہیں۔اسی زعم میں کچھ لفظ ادا ہو گئے۔ جو اب باوجود کوشش کے واپس نہیں ہو پا رہے۔ لفظ کیا ادا ہوئے ہنگامہ برپا ہو گیا۔ چھوٹے بھائی صاحب نے بھی فوراً ہاتھ کھڑے کر لیے ۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ وہ اپنی جگہ پہ خوفزدہ سے ہیں کہ کہیں اگلی باری ہماری نہ آ جائے۔ ٹھک سے فون کھڑکایا ۔ سپہ سالار کو شاید گیدڑ بھبکیوں کی عادت سی ہے۔ لہذا واپسی ہوئی اور سیدھا اگلی صفوں میں۔ اس طرز عمل نے چھوٹے بھائی کو مزید پریشان کر دیا۔ شنید ہے کہ منہ بولے بڑے بھائی صاحب کے بیان کی وجہ سے چھوڑے بھائی کو سپہ سالار سے ملاقات کے لیے کافی پاپڑ بیلنے پڑے اور ملاقات کے بعد شاید جواب ملاwho cares، ملاقات میں شائد کہا گیا ہو کہ جناب بڑے بھائی کو پتہ نہیں کیا سوجھی جو ایسے لفظ کہہ بیٹھے ہمارا اس میں نہ تو قصور ہے نہ ہی ہم سے رائے لی گئی۔ اور شاید افطار پارٹی میں نہ جانا بھی اپنی کارکردگی گنوائی گئی ہو گی۔ لفظوں کا بوجھ بھائیوں کے ساتھ ساتھ اقرباء اور مقربین کو بھی ڈبو رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے کہے گئے لفظوں کے بوجھ سے ہی گردن میں ایسا خم آئے کہ باوجود حکیمی نسخوں کے بھی سیدھا نہ ہوا جا سکے ۔۔لفظوں کا بوجھ اٹھائے قافلہ بمعہ اہل و حیال پرائے دیس سدھار چکا ہے۔کچھ بعید نہیں کہ لفظوں کے بوجھ تلے آج سائیں دبے ہیں تو باری میاں جی کی بھی آجائے اور باری تو یقینا آنی ہی ہے ۔ کیوں کہ آثار بتاتے ہیں کہ حالات اچھے نہیں۔ رینجرز ، فوج اور دیگر اداروں کے اندر بھی یقینا خرابیاں موجود ہیں شاید اسی لیے ان اداروں کے اندر بھی جاری احتساب کا قصہء زبان زدعام ہو رہا ہے۔
رینجرز و ملکی دفاع کے ضامن ادارے بس سن رہے ہیں ان کا کام بیانات پہ توجہ دینا تو ہے ہی نہیں۔ خبری خبریں دے رہے ہیں کہ وہ تو شاید دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلانے کا تہیہ کیے بیٹھے ہیں سونے پہ سہاگہ یہ کہ فوج کے اندر بھی صفائی مہم کا آغاز ہے۔ بلڈنگ اندصتری سے سابق فوجی سربراہ کے بھائی پہلے ہی زیر عتاب ہیں۔ قرائن بتاتے ہیں کہ خرابی وردی میں ہو یا اچکن میں دور کر کے ہی دم لیا جائے گا۔ ایک مصمم ارادہ۔ اب اس ارادے میں کوئی اچکن آئے، شیروانی، واسکوٹ، تھری پیس سوٹ یا خاکی وردی، انہیں پروا نہیں۔ اور پرواہ اسی لیے نہیں کہ انہیں پرواہ ہے
ایک خبر۔۔۔۔۔ تحفے میں ایک ٹی ٹی ملا ہے۔ ۔۔۔ تحفے کی خوشی منائیں یا نوعیت پہ فکر کریں؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-07-13

کالم نگار     :     سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-