بند کریں
ہفتہ ستمبر

کوئی اسم اعظم ہی بتادو ردِ بَلا کا مجھے

مبشر میر :

میری جب بھی کسی ماہر اعدادو فلکیات سے ملاقات ہوتی ہے تو اکثر اپنے بارے میں کم لیکن پورے ملک کے حوالے سے سوالات زیادہ کرتا ہوں۔شہزادہ انتظار حسین رنجانی سے ملاقات ہوتی ہے تو بھرپور سیاسی منظر نامہ زیربحث آتا ہے، اسی طرح محترمہ روزینہ جلال سے ملاقات ہو تو معروف سیاسی شخصیات کا سیاسی مستقبل زیربحث آتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ ملک کی قسمت کے فیصلے کررہے ہیں۔ آخر اس کے اثرات کس طرح ملک و قوم پر اثر انداز ہونگے۔ اسی قبیل کی شخصیت جاوید اقبال اور ڈاکٹر اسلم ڈوگر بھی ہیں، جو اپنے اپنے انداز سے سیاسی مستقبل کی جھلک دکھاتے ہیں۔
 لیکن میں نے کئی مرتبہ اس پر غور کیا ہے کہ ہم لوگ بحیثیت قوم معجزات پر نہ صرف ایمان رکھتے ہیں بلکہ معجزات کے منتظر بھی رہتے ہیں۔ حتی کہ بادلوں کی شکل کسی مقدس نام کی طرح لگنے لگے تو اسے بھی رحمت یا نعمت سے موصوم کرتے ہیں۔
آپ نے بھی سنا ہوگا کہ درختوں پر نشانات ، جانوروں اور پھل سبزیوں کے حوالے سے کوئی خبر سامنے آتی ہے تو اُسے بھی باعث رحمت گردانا جاتا ہے۔ لیکن کوئی ایسا معجزہ کب رونما ہوگا جس سے ملک میں ترقی بھی ہو اور کرپشن بھی ختم ہوجائے۔ ہم نے پڑھا ہے کہ ایسا اسم اعظم بھی ہے جس کی ورد سے پانی پر چلا جاسکتا ہے لیکن ہمیں تو پانی کے حصول کیلئے اسم اعظم چاہیے، کیونکہ آدھی سے زیادہ آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ پانی کی مقدار بھی کم ہورہی ہے، لیکن جب پانی برستا ہے تو پھر اُسے روکنے کیلئے دعائیں بھی کرنی پڑتی ہیں۔
پیغمبر خدا حضرت سلیمان کا قصہ بھی ہمیں یاد ہے کہ ان کیلئے انسانوں نے نہیں بلکہ جنات نے محل تعمیر کیا تھا۔ آج ہمیں بھی ایسے جنات کی ضرورت ہے جو ملک میں کالا یا سبز ڈیم تعمیر کردیں، ٹوٹی ہوئی سڑکوں کو درست کردیں، ان کے دربار میں موجود آصف بن برخیا نے چشم زدن میں تخت بلقیس حاضر کردیا تھا جبکہ اُسے اسم اعظم کا معمولی علم تھا۔ عجیب بات ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں ہم بھوکے کیلئے کھانا لانے کا علم بھی نہیں رکھتے۔
یہ واقعات اپنی جگہ بہت اہمیت کے حامل ہیں، ان سے راہنمائی یہ ملتی ہے کہ جس نے جوبھی معجزہ دکھایا علم کی بنیاد پر ہی دکھایا۔ کیا حیرت کی بات نہیں ہے کہ جنہو ں نے دیوار چین بنائی انہوں نے ورد تو نہیں کیا لیکن علم کو عمل میں ڈھال دیا۔ شاہراہِ ریشم کو دنیا نے تسلیم کیا کہ یہ بھی کسی معجزے سے کم نہیں ، یہ ہماری کمزور مارکیٹنگ ہے کہ ہم اسے دنیا کا نہیں تو کم از کم ایشیاء کا عجوبہ بھی تسلیم کروالیتے۔
بھارت یاترا کے وقت تاج محل دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا تو واقعی اس عمارت کے سامنے کھڑے ہو کر یہ اندازہ ہورہا تھا کہ یہ ایک شاہکار معجزہ ہے۔ جس کو عمارات کے کے علم کی بنیاد پر تخلیق کیا گیا ہے۔
اسی طرح جب اٹلی کا شہر وینس دیکھا تو اس عجوبے نے بھی بے حد متاثر کیا کہ حضرت انسان نے کس طرح ایک سو سترہ جزائر کو آپس میں جوڑ کر ایک شہر میں تبدیل کردیا ہے۔ پانی کے راستے شریانوں کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔ یقینا یہ بھی علم کی بنیاد پر تخلیق کیا گیا معجزہ ہے۔
اسی طرح اگر میں بجلی، بلب، ایئرکنڈیشن ، پہیوں پر چلنے والی گاڑیوں، سمندروں کے سینے چیر کر چلتے ہوئے بحر ی جہازوں کو دیکھتا ہوں یا فضاؤں کو مسخر کرتے ہوئے ہوائی جہازوں کو محو پرواز ہوتا ہوا دیکھتا ہوں تو ہر کوئی علم کی بنیاد پر معجزاتی کیفیت دکھاتا ہوا نظر آتا ہے۔
بات یہی ختم نہیں ہوتی سائنس کی جتنی بھی ایجادات ہیں، خواہ میدیکل سائنس کے معجزے ہوں یا کمیونی کیشن کے ،کہیں بھی دیکھیں تو علم کا جادو ہی چلتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
اس ساری ترقی میں ایک بات ہی مشترک ہے کہ علم کی دولت کو بروئے کار لاتے ہوئے ہی انہیں تخلیق کیا گیا ہے۔ علم کا صحیح استعمال اسی طرح ہے کہ دنیا کے رازوں تک پہنچنا اور قانون قدرت سے راہنمائی لیتے ہوئے بنی نوع انسان کیلئے آسانیاں پیدا کرنا۔
پرندوں کی پرواز کے راز کو جان کر انسان نے فضاؤں میں اُڑنے کا ہنر سیکھا اور ہوائی جہاز ایجاد ہوا آج انسان فضاوں کو اپنی دسترس میں لے چکا ہے۔
ایک طرف اتنی زیادہ ترقی ہمارے سامنے ہے۔ لیکن دوسری طرف انسان ہی ہے جو کمزوریوں اور کوتاہیوں کی و جہ سے ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں اترا ہوا ہے۔ دنیا میں اگر غربت کا گراف دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔ جہالت کا اندازہ لگائیں تو توبہ استغفار منہ سے نکلتا ہے۔
امن جہالت کی وجہ سے انسان ایک دوسرے کا دشمن بنا ہوا ہے۔ صدیوں سے لوگ انسانوں کو غلام بنانے کی کوششوں میں لگے ہوے ہیں۔ اور کرہ ارض پر اپنا قبضہ جمانے کی حتی المقدور کوشش کررہے ہیں۔ اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے کے حربے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ کتنے لوگ ہیں جو علم اور کردار کی بنیاد پر دوسروں کو ہمنوا بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور کتنے بزور بازو یہ کام کرنے کی جسارت کررہے ہیں۔
دہشتگردی ایک خطے سے دوسرے خطے میں منتقل ہورہی ہے۔ انسانی حقوق جن کا تعین صدیوں پہلے ہوا، انہیں سلب کرنے کی کوششیں اسی طرح جاری ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ دنیا واقعی ترقی کررہی ہے۔ انسان جو انسان کی زبان جانتا ہے، اُسے سمجھنے کی کوشش نہیں کررہا ۔آوازوں کو خاموش کرانے کی ترکیبیں آزمائی جاتی ہیں۔ کسی حد تک اچھا ہے کہ انسان ابھی یہ جاننے سے قاصر ہے کہ جانور، چرند، پرند کیا بات کرتے ہیں حتی کہ درخت خاص طور پر انسان کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ؟ جو کچھ وہ انسان کو کرتا ہوا دیکھ رہے ہیں ، خاص طور پر اگر کسی جانور کے سامنے انسان کسی دوسرے انسان کا قتل کرتا ہے تو وہ قاتل کے متعلق کیا سوچتا ہے ؟اگر انسان کو اس کا ادراک ہوجائے تو شاید وہ جانوروں کے ساتھ اس سے بھی بُرا سلوک کرے جو وہ آج کررہا ہے۔
پوری دنیا میں جن بلاؤں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں آخر رَدِ بَلا کیلئے کوئی تو اسم اعظم ہوگا۔ جس کی ورد سے دنیا جنت کی طرح پُرامن اور حسین ہوسکتی ہے۔
آخر یہ بلا ہے کیا جو پوری دنیا کے انسانوں کو جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے ۔ میری سمجھ میں ایک ہی بات آتی ہے کہ یہ بلا لالچ ہے۔ یہی بلکہ ہمیں زمینوں پر قبضے پر ابھارتی ہے، اسی بلا کی وجہ سے بھتے کی پرچیاں دی جاتی ہیں۔ وہ یہی بلا ہے جو پہلے کرپشن کرواتی ہے اور پھر منی لانڈرنگ کیلئے کسی ماڈل کا سہارا لینے پر مجبور کرتی ہے۔ اسی بلا کی وجہ سے مسجد، امام بارگاہ یا چرچ میں دھماکہ ہوتا ہے۔ یہی بلکہ دوسروں کی گردن کاٹنے کے قبیح عمل کی طرف لے جاتی ہے۔ یقین کیجئے اسی بلا کی وجہ سے عوامی مینڈیٹ بھی چوری ہوتے ہیں۔
اس بلا کو دور کرنے کیلئے جس اسم اعظم کی ضرورت ہے وہ کوئی ڈھکا چھپا نہیں ۔ اس کے وردکی ضرورت نہیں بلکہ اس کی معرفت کی ضرورت ہے۔ اس کی معرفت ایڈیسن کو تھی اُس نے بلب ایجاد کردیا ۔ اس کی معرفت نے ہی پنسلیں ایجاد کروائیں ۔ہمارے سامنے جو جیتے جاگتے کردار ہیں، ان میں عبدالستار ایدھی کو اس کی معرفت ہے جسے اپنے ہاتھوں سے گلی سڑی لاشوں کو غسل دیتے ہوئے گھن نہیں آتی۔ اس کی معرفت ڈاکٹر ادیب رضوی جیسی شخصیات کو ہے جو اجنبی لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے میں دن رات مصروف ہیں۔ ایسے کئی اور لوگ حتی کہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والے نیلسن مینڈیلا کو تھی جس نے جدوجہد کی قیمت محلات تعمیر کرکے وصول نہیں کی۔
یہی حقیقی علم ہے جس سے یہ یقین ہوتا ہے کہ بہتری کا عمل جاری ہے۔ دنیا ترقی کررہی ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ جن کو بلا نے گھیر رکھا ہے۔ وہی دنیا کا امن تاراج کررہے ہیں اور جہالت کے اندھیرے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ رَدِ بَلا کیلئے اسم اعظم کے ورد کی نہیں معرفت حاصل کرنے کے لیے کوشش کی جائے تو زندگی گلزار بن جائیگی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-07-09

کالم نگار     :     مبشر میر

مبشر میر کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-