بند کریں
ہفتہ جولائی

”عوامی اور حکومتی کمبی نیشن“

ممتاز امیر رانجھا :

سربسجو د ہو جاؤ،اللہ سے معافی مانگو،توبہ کے دروازے ہر دم کھلے ہیں۔کراچی میں ہر روز ایوریج 75سے زائد افراد شدید گرمی اور ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے موت کی آغوش میں جا رہے ہیں۔جو سانس چل رہی ہے اس پر پیارے اللہ کا شکر بجا لاؤ۔ہم سب کے پاس پانی ہے،بجلی ہے،جنریٹر ہے ،یو پی ایس ہے اور سولر انرجی ہے۔ان سے پوچھو جو کراچی میں تڑپ رہے ہیں،جن کے پاس نہ پانی ہے نہ بجلی ہے اور نہ ہی اس شدید گرمی میں کوئی پرسان حال۔کراچی تو سائیں کے حوالے ہے اور سائیں تو سائیں ہے۔یہ گرمی نہیں ہم سب کے کے لئے ایک بہت بڑا پیغام ہے۔سارے پاکستانیو،سیاستدانوں اور عوام کے لئے ایک مثبت سوچ کی ضرورت ہے کہ سارے متاثرین کے لئے سایہ دیوار بن جائیں۔مرنے والوں کے لواحقین کے دکھ درد بانٹیں اور ہسپتال میں ایڈمٹ افراد کی عیادت کریں یہی ہماری مسلمانی زندگی کا صحیح درس ہے۔اپنی مدد آپ کے تحت بھی ہم لوگ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔جس جس گھر میں پانی ہے وہ اگر ہفتے میں ایک بار بھی اپنے گھر سے ایک پانی کا ٹینکر بھر پر فری ان لوگوں کو یہ پانی مہیا کریں جہاں پانی نہیں ہے تو یقین کریں کراچی جیسے شہر میں انقلاب آ جائے۔کسی گھر میں پانی کی کمی نہ رہے۔جس گھر میں جنریٹر ہے یو پی ایس ہے وہ اگر اپنے غریب یا ضرورت مند پڑوسی کو فری میں ایک عدد پنکھے یا لائٹ چلانے کا کنکشن دے دے تو یقین کریں ہر گھر میں ٹھنڈ اور روشنی ہو۔حقیقت تو یہ ہے کہ ہم لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر جہنم کی آگ سے نہیں ڈرتے۔اپنے گناہوں پر شرمندہ نہیں ہوتے،اپنے گناہوں کی تعداد میں کمی کی بجائے دن بدن اضافہ کرتے جاتے ہیں۔ثواب کے لئے ہم اتنی محنت نہیں کرتے جتنا کہ ہم ڈالر کے لئے حلا ل حرام کا امتیاز کئے بغیر دن ران مگن رہتے ہیں۔
امراء کے گھر،گاڑی اور پیشاب خانے تک میں ACچالو ہوتا ہے۔24گھنٹے نان سٹاپ بجلی چالو ہوتی ہے۔امراء کی بہت کم تعداد غریبوں کے حالات جاننے گھر سے باہر نکلتی ہے۔ان کے آگے پیچھے خدمت گاروں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں۔یہ زندگی کو خدانخواستہ جنت سمجھ کے عیاشی میں مصروف ہوتے ہیں،انہیں اپنے ملازم،ڈرائیور،خاکروب اور خانساماں کی بھوک پیاس اور بدحالی کا قطعی اندازہ نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو شاید ان کے لئے وقت نہیں ہوتا۔جنکو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب ملا ہے ان کے لئے شکر ضروری ہے۔ہم تو کہتے ہیں کہ امراء بھی اس گرمی سے ڈر جائیں اور سمجھ جائیں کہ یہاں سے جانے کے بعد اگلے جہان کی گرمیوں کا سامنا ہوگا۔وہاں اعمال اچھے ہوئے تو سب کچھ ملے گا اور خدانخواستہ گناہوں کے وزن زیادہ ہو گئے تو نہ کوئی خدمت گار ہو گا،نہ ان کے پاس جہان کے ڈالر ہونگے اور نہ ہی اس جہان کی عیاشیاں ہونگی ۔دنیا کی گرمی سے ستر گنا زیادہ گرمی کا سامنا ہوگا۔اگلے جہان میں سیاستدان،وزیر ،بادشاہ،رعایا اور ملازم سب کو اپنی اپنی نیکیوں سے مقام ملیں گے۔جس کے پاس زیادہ نیکیاں ہونگی وہ بادشاہ ہوگا اور اس جہان فانی کا بادشاہ اگر گناہ گار ہو گا تو وہ دنیا کے کتوں سے بھی بدتر ہوگا۔
ابھی رمضان میں ہی دیکھ لو کہ مسلمان دکاندار،تاجر اور کاروباری حضرات کیسے لوٹ مار کر رہے ہیں۔سال کی کمائی ایک مہینے میں بنانے کا ٹارگٹ ہوتا ہے۔ہم لوگ خدانخواستہ اس بات پر ایمان ہی نہیں رکھتے کہ جو رزق ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے وہ ہر حال میں ملے گا۔اللہ کے بندوں جب رزق جائز طریقے سے ملے گا تو ناجائز اقداماٹ اٹھانا ضروری ہیں کیا؟کیوں اپنی دنیا و آخرت خراب کرتے ہو؟کیوں اپنے لئے عذاب الٰہی کو دعوت دیتے ہو۔ایسا کماؤ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے انسان آپ سے خوش ہو جائیں۔تھوڑا کمائیں یار لیکن ستھرا کمائیں۔آپ کو عوام کی دعائیں ملیں۔ پھر دیکھنا یہی دعائیں دنیا و آخرت میں آپ کی فلاح کا سبب بن جا ئیں۔
جس بیوی،جس بچے اور جس بہن بھائی کے لئے ہم حرام حلال کمانے کا اہتمام کرتے ہیں۔اگلے جہان جا کر یہی حرام کمائی ہمارے گلے کا طوق بن جائے گی۔وہاں رشتے ناطے بے کار ہونگے،نفسا نفسی کا دور ہو گا۔اگلے جہاں سب کو اپنی اپنی پڑی ہو گی۔ماں باپ کا احترام کرنیوالے کامیاب و کامران ہونگے۔والدین کی بے حرمتی کرنیوالے ناکام و نامراد ہونگے۔والدین کو اف تک نہ کہنے کا حکم ہے لیکن ہم والدین کو کیا کچھ نہیں کہتے؟ کتنے والدین اور بھائی بہن ہیں جواپنوں کے ناروا سلوک کی وجہ سے ایدھی ویلفئیر اداروں میں رہائش پذیر ہیں یا جہنوں نے اپنا مستقبل داؤ پر لگا کر بیگانوں کے ہاتھوں اپنے آپکو ان کا نوکر بنا رکھاہے۔حقوق فرائض کے اسباق ہم سب نے محض کتابوں سے رٹ رکھے ہیں لیکن ان پر عمل پیرا ہونا شاید ہمارا شعار نہیں رہا۔اخلاقی طور پر ہم سارے اپنی جھولی فضائل سے بھرنے کے عادی ہو چکے ہیں دوسرے کے بارے میں سوچنے کی سردردی بھلا کون لیتا ہے اور دراصل یہی خرابی ہمارے لئے برائی کا اہم سبب ہے۔ہر وقت سوچو اور سب کے لئے سوچو۔ہر وقت ہر کسی کے لئے اچھا کرو اچھا سوچو۔
کراچی میں پیپلز پارٹی کی خواہش ہے کہ قائم علی شاہ اپنی نااہلی کے باوجود بس قائم رہے کیونکہ اس کی وجہ سے ان کا دانہ پانی چل رہا ہے۔بجلی کی کمی کا ذمہ دار سندھ حکومت وفاقی حکومت پر ڈالتی ہے اور وفاقی حکومت کے الیکڑک کو اس پر گناہ گنار ظاہر کرتی ہے۔ہم تو کہتے ہیں سندھ حکومت اور وفاق دونوں ذمہ دار ہیں۔حکومت چاہے جس کی ہو عوام کو ہر حال میں ریلیف ہی ملنا حکومتوں کی کامیابی ہوتا ہے۔ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے سے نہ تو مسائل حل ہوتے ہیں اور نہ ہی عوام کے دکھوں کا مداوا ہوتا ہے۔بہترین کام یہ ہے کہ مل جل کر ایسا ماحول بنایا جائے کہ عوام کی دہلیز پر ہر سہولت دکھائی دے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم اتنے خطرناک الزامات کے باوجود اس چکر میں ہے کہ عوام کو مزید بے وقوف بنا کر حکومت کے خلاف اکسایا جائے۔حکومت اور فوج کو ڈاج دینے کے چکر میں کبھی الطاف حسین کچھ ڈرامہ کرتے ہیں ،کبھی کچھ ڈرامہ کرتے ہیں۔پاکستان کو کئی سالوں سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔اس سارے خراب ماحول کو بہترین کرنے کے لئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ حکومتی اور عوامی کمبی نیشن بنایا جائے،یہ کمبی نیشن کراچی کے علاوہ پورے پاکستان میں ہونا چاہیئے۔عوام اپنی سطح پر صدقہ خیرات اور زکٰوة سے مستحقین کی امداد کرے اور حکومت عوام کی خدمت کے لئے تاریخ ساز اقدامات اٹھائے۔سورج کی گرمی کو بجھانے کے لئے انسانی دلوں کی حرارت کافی ہے،ہر مسلمان اگر درست اسلامی طریقوں سے چلنا شروع کر دے تو یقین کریں پاکستا ن ارض جنت بن جائے ۔عوامی سکھی اور خوش حال ہو جائے۔جنت محض چند قدم پر ہے اس کے لئے قربانیاں دینا سیکھ تو جائیں۔ہاں اگر ہر کوئی محض اپنی عیاشیوں کے لئے سرگرم عمل رہا تو خدانخواستہ جہنم کی آگ ہمارا مقد ر بن سکتی ہے۔حتی الوسیع کوشش کریں کہ جنت آپ کا مقدر بن جائے،اس جنت میں دنیاوی عوام و خواص کو کوئی فرق نہیں ہوگا وہاں آپکی نیکیاںآ پ کو عوام و خواص بنائیں گی،جس کی نیکیاں زیادہ ہونگی وہ زیادہ معتبر ہوگا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-07-01

کالم نگار     :     ممتاز امیر رانجھا

ممتاز امیر رانجھا کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-