بند کریں
بدھ ستمبر

تم خواب غفلت سے بیدار نہ ہونا

عبدالماجد ملک :

قریب ہے کہ دنیا کی قومیں تم پر یوں ٹوٹ پڑیں،جیسے بھوکے کھانے کے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں،صحابہ نے عرض کی،
اے اللہ کے رسولﷺ کیا اس لئے کہ ہم تعداد میں تھوڑے ہوں گے،میرے نبیﷺ نے فرمایا ،نہیں نہیں ! اس وقت تم تعداد میں زیادہ ہوں گے مگر تم خس وخاشاک ہوں گے جیسے سیلاب کی سطح پر خس و خاشاک ہوتے ہیں،اللہ تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمہاری ہیبت ختم کر دے گااور تمہارے دلوں میں ’وہن‘ڈال دے گا،صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ یہ وہن کیا ہے،فرمایا کہ دنیا پہ ریجھ جانا اور موت سے جی چرانا۔
اور آج اگر حالات کی طرف دیکھیں اور مسلم امہ پر نظر دوڑائیں تو یہی دکھائی دے گا کہ فلسطین ،برما،کشمیر،عراق،اور دنیا کے کئی مسلم ممالک کے مسلمان جل رہے ہیں ،خون کی ندیاں بہ رہی ہیں، لاشے تڑپ رہے ہیں، انسانیت دم توڑ رہی ہے، ظالم کا ظلم بڑھتا چلا جارہا ہے، مظلوموں کی دردناک آہیں سنائی دی رہی ہیں ،ایک چیخ و پکار مچی ہوئی ہے ،جن پہ مظالم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں یہ کون لوگ ہیں ؟کیا دنیا کو ان کی آواز نہیں سنائی دے رہی؟کیا بہتا خون،زندہ انسانوں کا جلنا اور آگ کے شعلے نام نہاد امن کے ٹھیکیداروں کو نظر نہیں آتے؟انسانیت کی دم توڑتی صدائیں کسی کو نہیں سنائی دیتیں؟یہ نام نہاد امن کا پرچار کرنے والے کہاں غائب ہو گئے ؟؟؟
کوئی نہیں بولے گا،کوئی نہیں آئے گا،یہ ظلم ہوتا رہے گا ،لاشیں گرتی رہیں گی،خون بہتا رہے گا ،زندہ انسان جلتے رہیں گے کیونکہ مظلوم مسلمان ہیں ،لیکن میں حیراں ہوں امت مسلمہ پر کہ اس نے بھی ہونٹ سی لئے ہیں تمام عالم اسلام نے بھی چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے ،ہر کہیں ایک سکوت طاری ہے کہیں سے کوئی صدا نہیں آتی ،جو اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرے ،انسانیت مظالم کو روک دے اور ظالم کو لگام دیدے۔
ابن مریم ہوا کرے کوئی
مرے درد کی دوا کرے کوئی
کوئی نہیں بول رہا ،چاروں طرف خاموشی کی دبیز چادر تنی ہے، ہر کسی نے لب سی لیے ہیں کوئی صدا بلند نہیں کرے گا کیونکہ ہم بے حس ہو چکے ہیں ہم اغیار کی غلامی میں آکر اپنے اسلاف کو بھول چکے ہیں اور اپنے مذہب اسلام سے دور ہو رہے ہیں تمام مسلماں بھائی بھائی ہیں اگر دنیا کے کسی کونے میں بھی کسی مسلماں کو ذرا سی بھی تکلیف ہو تو دوسرے مسلماں بھائی کو بھی محسوس ہونی چاہئے اور اسے اس کا ازالہ کرنا چاہئے لیکن یہاں تو ہر کسی نے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرنا ہے ،ہم بے حسی کے انتہا کے درجے کو پہنچ چکے ہیں اگر ساتھ والے گھر میں میت بھی پڑی ہوتی ہے تو دوسرے گھر میں شادی کی خوشیاں منائی جارہی ہوتی ہیں اور ڈرم بج رہے ہوتے ہیں۔۔
کچھ میری طرح جذباتی اور سادہ لوگ یہ کہ رہے ہیں کہ اتنا ظلم ہو رہا ہے ،ہزاروں مسلماں اپنی زندگی کی باز ہار چکے ہیں لیکن ہمارا الیکٹرانک میڈیا کوئی خبر نہیں دے رہا ،سب پاکستانی چینل خاموش ہیں ،آخر کیا وجہ ہے ؟کوئی بندر پیدا ہوتا ہے تو ہمارے چینل بریکنگ نیوز بنا کر بتاتے ہیں لیکن یہاں انسانوں کے ساتھ ہونے والا ظلم آخر کیوں نہیں دکھایا جاتا ،ہمارے پڑوسی ملک میں کوئی اداکار مر جاتا ہے تو اس کی ارتھی کو آگ لگانے کے سارے مناظر دکھائے جاتے ہیں اور سارے چینل میں سوگوارانہ کیفیت ہوتی ہے لیکن برما میں انسانوں کے زندہ جلنے پر بھی کوئی آواز نہیں اٹھاتا،آخر کیوں؟؟؟؟؟
یو۔این ۔او اور او ۔آئی ۔سی کہاں ہیں ؟
مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر ایک نثریہ لکھنے کی کوشش کی ہے آپ بھی پڑھئے #
سنو !
ہم آگ میں زندہ جل رہے ہیں
بے قصور ہو کر مر رہے ہیں
سنو!
اگر سماعت رکھتے ہو تو
ہماری آہیں
ہماری کراہیں
تمہیں سنائی نہیں دیتی۔
شاید ہم گونگے ہو گئے ہیں
یا ہم نے پکارنا چھوڑ دیا ہے
دیکھو!
اگر بصارت رکھتے ہو تو
ہمارا تڑپنا
آگ میں جلنا
تمہیں نظر نہیں آتا
شاید تم تکتے نہیں ہو
اس لئے مدد کو آتے نہیں ہو
دیکھو!
یہ مظالم کی تصویریں ہیں
پھیلی چارسو آگ کی زنجیریں ہیں
اب تو آ جاوٴ
ہمیں گلے لگا جاوٴ
تمہیں اپنا سمجھتے ہیں
تمہیں اپنا سمجھتے ہیں
سنو !
تم تندرست و توانا ہو
طاقت بھی رکھتے ہو
وحشیوں کو روک کیوں نہیں دیتے
ظالموں کو ٹھوک کیوں نہیں دیتے
شاید تم مجبور ٹھہرے
پر ہم تو بے قصور ٹھہرے
ہاں!
ہمارا قصور یہ ہے
ہم مسلمان جو ٹھہرے
ہم مسلماں جو ٹھہرے
سنا تھا مسلمان اک جسم ہیں
تو کیا ہم بھی اس کا حصہ ہیں
شاید ہاں،شاید نہیں۔۔۔۔
شاید ہم غلط ہیں
شاید تم نے وہ پیغام سنا نہیں
کہ مسلماں اک مانند جسم ہیں
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-06-21

کالم نگار     :     عبدالماجد ملک

عبدالماجد ملک کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-