بند کریں
ہفتہ مئی

عوام نے ہیلمٹ پہن لئے اب بیلٹیں باندھیں گے

میاں اشفاق انجم :

گزشتہ 7سال سے موٹرسائیکل سواروں کی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہیلمنٹ ضروری قرار دیا گیا۔ خادم اعلیٰ کے گزشتہ دور سے یہ تحریک چلی اور موجودہ حکومت کے سابق گورنر چودھری سرور کی طرف سے 20ہزار ہیلمٹ عوام الناس کے لئے تحفے کے طور پر دیئے جانے کے بعد اس مہم کو اور تیز کر دیا گیا۔ چودھری سرور جتنی دیر گورنر رہے بار بار میڈیا میں ہیلمٹ کی ضرورت و اہمیت کا درس دیتے رہے۔ افسوس کہ اس اچھی تحریک کو منفی انداز میں لیا گیا اور ٹریفک پولیس نے بھی ہیلمٹ پہنو مہم کو چالان کرنے کی حد تک محدود کر دیا۔ روزانہ کی بنیاد پر 7چالان کا کوٹہ پورا کرنے میں انہیں آسانی رہی۔
توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ ہیلمٹ کیوں پہننا چاہیے۔ نہ پہننے سے کیا نقصان ہو سکتا ہے۔ پہننے سے حادثہ کی صورت میں کن نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے عوامی سطح پر کوئی آگاہی مہم نہ چلائی گئی، ٹریفک کے سی ٹی او نے سال میں ایک دو دفعہ چوکوں میں پمفلٹ تقسیم کرکے اخبار میں فوٹو شائع کروالی اور ٹی وی پر نظر آ گئے۔ پنجاب حکومت نے بھی اس اہم فریضے میں اخبارات کو چند اشتہار دے کر فرض ادا کردیا ہے۔
ہیلمٹ پہنو کی تحریک کی آڑ میں چھوٹے چھوٹے تھانوں کے اہلکاروں نے جو لوٹ مار کی اس پر کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ ٹریفک پولیس لاہور بالعموم اور پنجاب کی بالخصوص جو انہی اصل ذمہ داری ٹریفک چلتی رہے کے مشن سے ہٹ کر چوکوں اشاروں سے غائب ہو کر چالانوں کے لئے شکار ڈھونڈتے نظر آتے ہیں ہیلمٹ نہ پہننے والے ان کا اولین شکار رہے اور اب تک ہیں۔ سی ٹی او لاہور کا ہو یا گوجرانوالہ کا سی ٹی او راولپنڈی کا ہو یا گجرات کا اس بات سے تو آگاہ ہے ٹریفک وارڈن دھوپ میں کھڑے نہیں ہو سکتے۔ اس بات سے کیوں آگاہ نہیں ہے۔ عوام الناس گرمی میں ہیلمٹ نہیں پہن سکتے۔
وہ اس بات کو عوام تک کیوں نہیں پہنچا سکتے کہ ہیلمٹ نہ پہننے سے جانی نقصان ہو سکتا ہے۔ گرمی میں ہیلمٹ پہننے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ یہ سب کچھ تب ہو سکتا ہے اگر ہماری ہیلمٹ پہنو مہم کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہو کہ عوام کو شعور دینا ہے۔ اس کو باور کروانا ہے اس کے بغیر گزارہ نہیں ہے۔ یہ ٹریفک پولیس کے چالان سے بچنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ان کی اپنی جان کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے۔ عوام کی حیثیت سے موجودہ حکومت کے دو سال سے جاری مہم کو کامیابی کا تناسب دوں تو زیرو پرسنٹ کہوں گا۔ ذمہ دار عوام بھی ہیں ٹریفک پولیس بھی اور حکومت بھی۔ٹریک ون کی بجائے ٹریک ٹو اور ٹریک تھری پر ہی آج تک چلایا جا رہا ہے۔
ہیلمٹ مہم کامیاب ہوئی یا نہیں عوام کو آگاہی کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے جو نہیں ہو سکا آئندہ کیا کرنا چاہیے اس کو پس پشت ڈال کر اب بیلٹ پہنو تحریک شروع ہو گئی ہے۔ موجودہ حکمرانوں کی طرح عوام الناس بھی نفسانفسی کے دور میں کوئی کسی کو جگہ دینے کسی کے لئے ایثار کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ہر ایک کو فکر ہے میں نکل جاؤں میں مصروف ہوں باقی کوئی مرتا ہے تو مرے کوئی جان سے جاتا ہے جائے اس نے نہ راستہ دینا ہے اور نہ کسی کے لئے ٹھہرنا ہے۔بیلٹ پہنو مہم کا حال ،ہیلمٹ مہم کی طرح کا ہونے والا ہے۔ اس مہم کے شروع کرنے میں بھی وہی بیورو کریسی ہے وہی حکمران ہیں، وہی ٹریفک پولیس ہے جو اپنی گاڑیوں کے شیشے کالے رکھنا فرض سمجھتی ہے۔ عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذلیل کرنا بھی اپنا فرض منصبی سمجھتی ہے۔ بیلٹ پہنو مہم میں بھی مظلوم عوام زیر عتاب تھے اور ہیلمٹ پہنو مہم بھی براہ راست عوام ٹارگٹ بن رہے ہیں۔ فرق یہ ہے موٹرسائیکل غریبی کا بھرم رکھنے والوں کے پاس ہے اور چھوٹی گاڑیاں سفید پوشی کا بھرم رکھنے والوں کے پاس ہیں۔
لاہور سمیت ملک بھر میں 50فیصد گاڑیاں 1000سی سی سے نیچے ہیں۔800سی سی 2000ماڈل سے پہلے والی سوزوکی اور خیبر وغیرہ گاڑیوں کی تعداد زیادہ ہے ان میں بیلٹ موجود ہی نہیں ہے۔ ٹریفک پولیس کو اس بات سے غرض نہیں ہے کہ بیلٹ گاڑی میں ہے یا نہیں ان کا کہنا ہے بیلٹ باندھو یا رسہ بیلٹ نہیں ہے تو لگواؤ کیسے لگوائیں اس کا جواب نہ غریب والوں کے پاس ہے نہ بیورو کریسی کے پاس 2 جون سے کراچی میں ہیلمٹ لازمی قرار دیا گیا ہے وہاں بھی ہیلمٹ پہنو تحریک شروع ہو رہی ہے۔آج کے کالم میں ہیلمٹ پہنو یا بیلٹ باندھو تحریک سے اختلاف کرنا مقصود نہیں، بلکہ یہ درخواست کرنا ہے کوئی بھی مہم شروع کرنے سے پہلے زمینی حقائق کو دیکھ کر سمجھ کر مہم کا دائرہ اختیار طے کیا جائے اور اہداف طے کرتے ہوئے عوام کو پیش آنے والی مشکلات کو سامنے رکھا جائے اس بات کا سب سے پہلے جائزہ لیا جائے کہ اس مہم کو کس کے لئے شروع کیا جا رہا ہے۔ فوائد کیا ہو سکتے ہیں نقصان کیا کیا ہیں۔ مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے آگاہی مہم چلائی جائے اور دوررس اثرات کا جائزہ لیا جائے اگر ہیلمٹ پہنو، بیلٹ باندھو عوام کے جان مال کی حفاظت اور زندگیوں کے تحفظ کے لئے شروع کی گئی یا شروع کی جا رہی ہیں عوام الناس اس سے کیوں بیزار ہیں، اگر عوام کے اپنے فائدے کی چیزہے تو وہ کیوں نہیں لے رہے۔ اس پر سوچنے اور غور کرنے اور لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-05-30

کالم نگار     :     میاں اشفاق انجم

میاں اشفاق انجم کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-