بند کریں
ہفتہ مئی

”مذاکرات مسائل کا حل ہیں“

ممتاز امیر رانجھا :

#ایگزکٹ سکینڈل نے پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کیا ہے۔خبر
ایک بہت بڑے نجی ٹی وی نیٹ ورک چینل ”بول“کے دس سالہ قدیم ایگزکٹ ادارے کو جعلی ڈگریز ایشو کرنے پر اس وقت تمام میڈیا سمیت حکومتی انسوسٹی گیشن کا سامنا ہے۔پوری دنیا کی بڑی یونیورسٹی کی ڈگری نقد ڈالر لیکر چند ہفتے میں ڈگری ایشو کرنے والا پوری دنیا کا فیک نیٹ ورک پاکستان سے آپریٹ ہو رہا تھا۔پوری دنیا میں بڑی بڑی دو نمبریاں کرنیوالے تما م لوگ واقعی اپنی بیک پر بڑے بڑے بلیک میلر یا بلیک منی کی سپورٹ رکھتے ہیں۔انہیں دنیا میں کسی پکڑ دھکر اور رسوائی کا نہ تو اندیشہ ہوتا ہے اور انہیں نہ ہی اپنے انجام کی کوئی فکر ہوتی ہے۔اتنی بڑی جعلسازی کرنیوالے اور اندرون خانہ پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا نیٹ ورک بنانے کا دعوے دار ادارہ واقعی راتوں رات امیر ہونے کے نہ صرف خواب دیکھ رہا تھا بلکہ اس نے بہت زیادہ پیسہ اکٹھا بھی کر لیا ہے۔ایک اخبار کے مطابق یہ ادارہ جعلی ڈگری سے ایک لاکھ ڈالرز روزانہ کما رہاتھا۔اس حرام پیسے کی کمائی سے سب سے بڑا ٹی وی نیٹ ورک اور آئی ٹی کا سب سے بڑا دارہ بنانے کا عملی مظاہرہ کیا گیا اس کو آجکل ایف آئی اے کے شکنجے کا سامنا ہے۔حکومت نے ایگزکٹ کے خلاف ثبوت ملنے پر وقتی ایکشن لیا یہ ایک قابل ستائش فعل ہے ورنہ ان کے خلاف ثبوت ضائع ہونے کا اندیشہ تھا۔اس عمل سے سے نہ صرف فیک ڈگری ہولڈرز کا پول کھلے گا بلکہ دنیا میں اصلی ڈگری ہولڈرز کی حوصلہ افزائی ہوگی۔پاکستان میں تمام فیک تعلیمی اداروں کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل قریب میں کوئی ایسا مذموم فعل نہ کرے۔اس طرح کے اداروں سے نوجوان نسل کا پیسہ،وقت اور کیرئر تباہ ہونیکا خطرہ ہوتا ہے،ایسے لوگوں کی پکڑ دھکڑ سے نوجوان نسل کا فیوچر محفوظ ہونے کا عملی ثبوت سامنے آئے گا۔
 #سعودی عرب میں خود کش حملہ۔خبر
پوری دنیا میں اس وقت مسلمانوں کے متحد ہونیکا وقت ہے۔سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جہاں ہم تمام مسلمانوں کے نہ صرف معتبر اور مقدس مقامات ہیں بلکہ ہم سب کے روحانی رشتے بھی سعودیہ سے ہی استوار ہیں۔سعودی عرب میں جمعہ کی نماز پر خود کش حملہ ہونا دراصل ایک بہت ہی افسوسناک خبر ہے۔یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔سعودیہ میں تو فرقہ وارانہ سرگرمیوں اور سیاست پر بہت سختی ہے۔اس کے باوجود کسی تھرڈ پارٹی نے اس مقام پر خود کش حملہ کروا کے مسلمانوں میں بے چینی اور بدامنی پھیلانے کی بہت بڑی سازش کی ہے۔ ابتدائی طور پر داعش نے اس خود کش حملہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔سعودی عرب میں اس قسم کی دہشت گردی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت فی الفور پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک بہت بڑے اتحاد کی سخت ضرورت ہے اور پوری دنیا کے علماء کودنیا کے تمام مسلمانوں میں اتحاد و یگانت کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دینی ہوگی تاکہ مستقبل قریب میں اس قسم کا کوئی اور واقعہ پیش نہ آئے۔
سعودیہ میں دہشت گردی کرنیوالے دہشت گرد پوری دنیا میں ہو سکتے ہیں۔ہم سب مسلمان ملی یک جہتی سے ان دہشت گردوں کو اپنی گرفت میں لے سکتے ہیں اور ان تک رسائی حاصل کرکے ان کا قلع قمع کر سکتے ہیں۔دنیا کا کوئی بھی حصہ ہو وہاں پاکستانیوں اور مسلمانوں کو اپنا مثبت کردار اد ا کرتے ہوئے اسلام کا نام سر بلند کرنا ہوگا۔
#پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی۔خبر
یہ ایک بہت بڑی خبر ہے۔گزشتہ روز لاہور میں زمبابوے کے ساتھ پاکستان کا پہلا ٹی ٹونٹی میچ پاکستانیوں نے قذافی اسٹیڈیم میں نہایت جوش و خروش سے جا کے دیکھا۔تماشائیوں کی ایک بہت تعداد گراؤنڈ میں آئی ۔علاوہ ازیں تماشائیوں نے پاکستان زمبابوے دونوں ٹیمز کو بڑی عقیدت سے نہ صرف سراہا بلکہ کھلے لفظوں میں زمبابوے کے پاکستان آنے کا شکریہ ادابھی کیا۔دوسرا ٹی ٹونٹی میچ بھی پاکستان نے جیت لیا لیکن محنت کچھ زیادہ کرنا پڑی۔پہلے اور دوسرے میچ میں احمد مختار اور احمد شہزاد کی بیٹنگ قابل توجہ رہی۔دوسرا ٹی ٹونٹی جتانے میں بلاول بھٹی کی بیٹنگ معاون رہی۔ پہلے اور دوسرے میچ میں گراؤنڈ نہ صرف تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا بلکہ تمام کھلاڑی بھی بہت پر جوش اور سپورٹس مین سپرٹ میں دکھائی دے رہے تھے۔اب جبکہ پاکستانی ٹیم اور پاکستانی کرکٹ پر برے دن دکھائی دے رہے تھے اس دوران زمبابوے کا پاکستان آکر کھیلنا اور پاکستانی تماشائیوں کاجوق در جوق آکر گراؤنڈ میں میچ دیکھنا دیدنی ہے۔اب قوی امید ہے کہ اس کے بعد کئی مزید ٹیمز پاکستان آکر میچ کھیلنا پسند کریں گی اور پاکستان کرکٹ سے گراؤنڈز میں رونق اورپاکستانی آمدن کا سلسلہ بھی چل نکلے گا۔امید ہے ہماری ٹیم بقیہ ون ڈے میچز میں بھی تھوڑی بہت غیرت دکھائے گی ورنہ ایک بھی میچ ہارنے کی صورت میں ایشیا کپ میں پاکستان کی شمولیت ناممکن ہے۔علاوہ ازیں ٹیم کی گرتی ہوئی پوزیشن سے اگلے ورلڈ کپ کے لئے کوالیفائنگ راؤنڈوالی بے عزتی کرانی ہو گی۔
#ڈسکہ فائرنگ سے صدر باروکیل ساتھی سمیت قتل۔خبر
کوئی انسان جب بھی آپے سے باہر ہوتا ہے تو حادثات جنم لیتے ہیں۔واقعہ کی انسوسٹی گیش شروع ہو چکی ہے اصل معاملہ تو بہرحال سب کے سامنے آ ہی جائے گا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں گروپس یعنی پولیس اور وکلاء کی غلطی نظر آتی ہے۔یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بشارت نامی وکیل کی لڑائی ٹی ایم او آفس کے ملازم سے لڑائی ہوئی اور ٹی ایم او آفس والوں نے پولیس بلا لی۔پھر وکلاء اور پولیس کی آپ میں لڑائی بڑھی تو ایس ایچ او نے فائر کھول دیا جس سے اموات واقع ہوئیں۔
جو کچھ ہوگیا غلط ہو گیا۔ تلخ کلامی کے بعد فائرنگ مسئلے کا حل نہیں تھا یہاں اگر ایس ایچ او برداشت دکھا جاتا تو یقینا سب کچھ بہتر رہتا۔یہاں سب کی صلح ضروری تھی اور معاملات مذاکرات سے طے ہو سکتے تھے لیکن کسی گروپ نے بھی عقل مندی نہیں دکھائی۔ٹی ایم او آفس،پولیس او ر وکلاء تینوں گروپ برابر کے گناہگار ہیں۔اس کے بعد جو کچھ ہواوہاں بھی وکلاء کی طرف سے ہی زیادتی دکھائی دی۔باوردی ملازمین کا استحصال کیا گیا اورسیٹنگ ڈی ایس پی کا آفس ،اے سی کا گھر نذر آتش کیا گیا۔یہاں وکلاء کو برداشت اور اپنی تعلیم کا ثبوت دینا چاہیئے تھا۔
ہم سب ہر واقعے کو حکومت اور پولیس پر ڈال دیتے ہیں ،کچھ چیزیں ہمارے اپنے بس میں بھی ہوتی ہیں۔جب ہم ان چیزوں کو کنٹرول نہیں کرتے تب حادثات پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔گلی ،محلے ،گراؤنڈ،دفتر، سیاسی لڑائیاں ،اموات اور حادثات کا سبب بنتی ہیں۔ہم سب کو حتی الوسیع معاملات کو مل بیٹھ کر صلح صفائی سے حل کرنے ہونگے ورنہ اس عدم برداشت سے پورے ملک کے پورے معاشرے کو زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-05-28

کالم نگار     :     ممتاز امیر رانجھا

ممتاز امیر رانجھا کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-