بند کریں
جمعہ مئی

عوام کی باری کب آئے گی ؟

ڈاکٹر اویس فاروقی :

اس سوال کو شدو مد سے اٹھایا جانا چاہیے کہ پاکستان میں جمہوریت کے فیوض و برکات جمہور تک کب پہنچیں گے جو ملک ووٹ کی طاقت سے حاصل کیا گیا تھا اس میں ووٹ ڈالنے والوں کے حقوق کا تحفظ اور مسائل کا خاتمہ کس نے کرنا ہے ۔ کچھ عرصہ پیشتر عالمی بینک نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق پاکستانی معاشرے میں عدم مساوات کے باعث غربت میں اضافہ ہورہا ہے اور خوراک کی عدم دستیابی اور غربت میں اضافے کے ساتھ ساتھ تشدد اور انتہا پسندی میں اضافہ ہونا لازمی امر ہے۔پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستانی آبادی کا بارہ اعشاریہ چار فیصد افراد انتہائی غریب ہیں۔ تاہم معاشی ماہرین کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان کا شمار ان دس ممالک میں ہوتا ہے جن کا عالمی غربت میں بڑا حصہ ہے۔ پاکستان میں غربت اور فوڈ سیکیورٹی کے مسائل کے باعث دہشت گردی اور انتہا پسندی میں اضافہ کا خدشہ ہے۔کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ حکومت سڑکوں پلوں ، میٹرو بسوں ، لیپ تاپ کی تقسیم ر تو بہت توجہ دے رہی ہے مگر اس کی ترجیع غربت ختم کرنے پر نہیں ہے۔ عالمی بینک کے مطابق توانائی کی سبسڈی سے امیر لوگوں کوزیادہ فائدہ ہوتا ہے جبکہ سبسڈی کا صرف ایک تہائی حصہ غریب لوگوں کو ملتا ہے۔
ابھی حال ہی میں ایک موقر روزنامے میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں غربت ، افلاس بے روزگار ی کی وجہ سے خود کشی کرنے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ دس برسوں میں خود کشی کے واقعات میں اکتیس ہزار 31000 افراد نے خود کشی کی رپورٹ کے مطابق ،گزشتہ دس برس کے دوران10753 خواتین 3754بچوں اور 16842مردوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر خود کشی کی،پنجاب 16727، سندھ 11376 سرحد 2304 جبکہ بلوچستان میں 942 واقعات ہوئے ۔ گزشتہ سال صرف لاہور میں1099 خود کشی کے واقعات ہوئے اور 2000 افراد نے خود کشی کی کوشش کی جبکہ ایسے وقعات کی تعداد بھی کم نہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہو سکے۔ خود کشی کے واقعات میں کراچی پہلے اور لاہور دوسرے نمبر پر رہا۔
طرفہ تماشہ دیکھیے ان حالات میں کمی کے آثار بھی دور دور تک نظر نہیں آرہے پاکستان کے حصول کے وقت اس وقت کے لیڈروں کے پیش نظر یہ بات سر فہرست تھی کہ عوام کی فلاح و بہود پر خاص توجہ دی جائے گی لیکن عوام کی فلاح و بہبود تو دور کی بات ہے ان کی زندگی گزارنے کے راستے بند کئے جارہے ہیں ۔ جمہوری حکومتوں کا دور بھی رہا اور ہے بھی مارشل لا بھی آئے ۔ مگر عوام کی باری کبھی نہیں آئی ان ادوار میں عوام کی حالت زار پر کسی نے کوئی توجہ نہ دی۔ پہلے تو صرف غربت اور افلاس ہی اہم مسلے تھے اب لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی ، مذہبی منافرت اور فراقہ واریت کے سبب بھی معاشرے کے تار پور بکھر چکے ہیں۔ آئے روز کوئی نہ کوئی روح فرسا واقعہ ہو جاتا ہے جس کی گونج دنیا بھر میں سنائی دیتی ہے جس سے بیرون ممالک سے نہ ہی تجارتی وفد یہاں آرہے ہیں اور نہ ہی سیاحت کے لئے یہا ں کوئی آتا ہے جس کا نقصان ہمارے تفریح مقامات کے رہنے والے لوگوں کی معاش پر پڑ رہا ہے۔ قومی نیشنل پلان کی بعد امید بندھی تھی کہ شائد اب کچھ حقیقی تبدیلی معاشرے میں عود کر آئے گی اور انسانی زہنوں میں بھری ہوئی نفرت ، تعصب ، تقسیم اور مذہبی منافرت میں کمی واقع ہو گی اور معاشرہ اعتدال پر آکر امن کی طرف گامزن ہو جائے گا ۔ لیکن اس خواب کو تعبیر ملتی نظر نہیں آرہی ۔
 عوام تبدیلی چاہتے ہیں وہ حکومت سے آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ان کی قسمت بدل دیں گی۔ لیکن ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ سیاسی جماعتیں حکومت میں اپنی ایڈجسٹمنٹ چاہ رہی ہیں۔ بنیادی (نظام کہن میں)تبدیلی سے متعلق کوئی نعرہ فضاوٴں میں نہیں گونجتا۔ نظام کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی بحث نہیں چھیڑی جاتی۔ انتخابی منشور اگرچہ بہت ہی مبہم ہیں، اپنی جگہ پر رہیں، ان منشوروں پر جلسوں میں بہت کم بات ہوتی ہے۔ انتخابات کے زریعے تبدیلی کی امید کرنے والوں کی مایوسی دیدنی ہے۔روایتی بااثر وڈیرے، چوہدری، سردار پیر اور کا لعدم تنظیموں کی شراکت دار جو عرف عام میں سیاسی خاندان کہلاتے ہیں وہی منتخب ہو کر ایوان میں آتے ہیں۔ ان لوگوں کے ہوتے ہوئے کیا کوئی مثبت تبدیلی آسکتی ہے؟
 عام آدمی زندہ رہنے کے لئے کیا چاہتا ہے ، اچھا مکان، بہتر علاج اور بہتر تعلیم کی سہولت اور امن او امان۔ اقتصادی منصوبہ بناتے وقت ان باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے جس سے غریبوں کی حالت بدلی جا سکے۔بحث و مباحثے تو ان غریبوں کے حالات بدلنے کے لئے چلتے ہی رہتے ہیں مگر اس پر عملی کاروائی دیکھنے میں نہیں آتی اس طرف بھی ارباب کو سوچنا پڑے گا تاکہ ان کی زندگی میں سدھار آ سکے۔ملک کے لیڈروں نے یہ بھی خواب دکھایاتھا کہ آزاد پاکستان میں امیر اور غریب کا فرق مٹ جائے گا۔مگر یہ خواب ابھی تک حقیقت کے قرب کو چھوتا ہوادکھائی نہیں دیتا۔اگر غریبوں کی آمدنی بڑھے گی تو ان کے ارمانوں کے مطابق ان کے اخراجات بھی بڑھیں گے ، کاش کہ اس طرف کسی حکومت نے توجہ دی ہوتی تو آج حالات یکسر تبدیل ہوتے۔
مہنگائی نے ہر طبقہ کی ناک میں دم کر رکھاہے۔ہر بندے کی زبان پر ایک ہی بات ہے مہنگائی نے مار ڈالا ،آج عالم یہ ہے کہ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے مگر نہ کوئی بولنے والا ہے اور نہ اس سلسلے میں کسی کو دلچسپی اور رغبت ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ ہر طبقے کے لوگوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔اس بے لگام مہنگائی کے زمانے میں لوگوں کو گھرکا خرچ چلانامشکل ہوچکاہے کھانے پینے کی اشیا سے لے کر پہننے اوڑھنے کی تمام چیزیں بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ سوئی سے لے کرجہاز تک تمام چیزیں غریب اور متوسط طبقہ کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں۔معمولی تنخواہ پانے والا شخص اپنے گھر والوں کاپیٹ کس طرح پال سکتاہے جبکہ اسی تنخواہ میں بچوں کو پڑھانا لکھانا بھی ہے،گھریلو اخراجات بھی پورے کرنے ہوتے ہیں اور میڈیکل بھی برداشت کرنا پڑتاہے۔مگر افسوس اس طرف کسی کا دھیان نہیں ہے۔
 اس نظام میں باپ کے بعد بیٹا ہی آتا رہے گا دولت مند وڈیرے جاگیر دار اور مفاد پرست گروہوں کے اس جھنڈ میں عام آدمی کی گنجائش کہاں ہے۔ لیکن اس سوال کو اٹھایا ضرور جانا چاہیے کہ سب نے اپنی اپنی باری کئی کئی بار لے لی ہے عوام کی باری کب آئے گی ؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-05-28

کالم نگار     :     ڈاکٹر اویس فاروقی

ڈاکٹر اویس فاروقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-