بند کریں
ہفتہ اگست

زندہ ہے اُردو زندہ ہے۔۔۔!

فوزیہ بھٹی :

گاڑی چلاتے وقت ٹریفک کے اژدہام میں ہمیں حضرت علیکا ایک قول یاد آتا رہا کہ بے جا تنقید کرنے والے کی عادت اس مکھی جیسی ہے جو صاف جگہیں چھوڑ کر بیٹھنے کے لئے گندگی تلاش کرتی ہے۔
یوں تو ہم لاہور میں پیدا ہوئے اور دنیا بھر میں جہاں بھی دھکے وغیرہ کھائے واپس یہیں آن کھڑے ہوئے۔محترمہ اُردو پر ہم پہلے ہی (خدا جھوٹ نہ بلوائے)بہتیرے کالم وغیرہ کھڑکا چکے ہیں اور ہمارے بے سروپا کالم پڑھنے والے جن کی تعداد قریباً پانچ سے دس رہی ہو گی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ہم نہ اہل زبان ہیں نہ ہی زبان دراز۔عام معصوم سے نکڑ میں کھڑے رہنے والے بشرواقع ہوئے ہیں،بہر کیف اس تمہید کا مقصد اُردو کانفرنس میں شرکت کو واضح کرنا ہے ۔کانفرنس اور سوشل میڈیا سمٹ میں ہم کیونکر گئے اس بات کو تو رہنے ہی دیجئے،قصہ مختصر یہ کہ ہم گئے اور شریک ہوئے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہاں موجود انتظامیہ نے اچھا انتظام کر رکھا تھا۔تمام شرکاء نے اُردو کی اہمیت اور اس کی زبوں حالی کا ذکر کیا۔کچھ بہت اچھی باتیں سننے میں آئیں بلاشبہ اس قسم کی تقریبات ہوتی رہنی چاہئیں تاکہ اُردو سے متعلق حقائق اور بہت سی دوسری ضروری باتیں سامنے لائی جا سکیں۔ہمارا کالم لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس کانفرنس کو اُردو کی ترویج سمجھ کر وہاں گئے تھے مگر چندشرکاء ہمیں وہاں اور اس کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کرتے ہی دکھائی دئیے ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مہمانان ِ گرامی نے انگریزی کو اُردو کا ایسا پکا دشمن قرار دیا کہ ہمیں لگا اُردو کے خلاف سازش بھی فرنگی ملکوں کی چلائی ہوئی ہے۔ہمیں لگا جیسے اُردو کو ڈرپ لگ چکی ہے اور اس کی طبعیت سخت ناساز ہے ۔اس کے برعکس کچھ شرکاء نے کافی حوصلہ افزاء باتیں کیں جنہیں سن کر دل واقع خوش ہوا کہ ہمارے ملک میں ابھی تک مثبت رویے باقی ہیں۔رہی ہماری بات تو ہم چونکہ "منگلش"میں بات کرتے ہیں تو ہم نے اپنے جوہر دکھانے سے پہلے ہی معذرت کر لی تھی۔بعد ازاں پتہ چلا کہ ہمیں معافی وغیرہ تو ملی نہیں البتہ سوشل میڈیا پر تنقید اورمشورے بے تحاشہ ملے کہ اُردو پوائینٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انگریزی کے لفظ استعمال نہیں کرنا چاہئے تھے،وغیرہ وغیرہ ۔تو ہمارے مانیٹر لگے بھائیوں سے یہ چند گزارشات ہیں
1۔ہم اُردو دان یا اہلِ زبان نہیں ہیں
2۔ہم ثقیل اُردو میں محض سوچ سکتے ہیں،ادا کرنے میں دقت محسوس ہوتی ہے
3۔ہم کم سے کم وہاں اُردو کا دفاع کرنے موجود تھے
3۔ہم زمینی حقائق پر پورا اترتے ہوئے باقاعدہ اُردو کی ترویج کے لئے قدم اور قلم دونوں اٹھاتے ہیں
5۔اگر آپ کو ہماری انگریزی سے اپنا آپ احساس کمتری کا شکار لگتا ہے تو ہم آپ کے لئے دعا گو ہیں
6۔حوصلہ رکھیں اور کچھ دھیان عمل پیرائی پر بھی دیں۔
آخر میں یہ کہ اُردو زبان زبوں حالی کا شکار نہیں،انگریزی نے اسکا کچھ نہیں بگاڑا ۔اُردو زبان نئی نسل کے ساتھ ساتھ ایک ارتقائی عمل سے گزر رہی ہے۔اور پھر دل ہی دل میں ہم "زندہ ہے اُردو زندہ ہے" کا ورد کرتے ہوئے وہاں سے چل دیئے ،گاڑی چلاتے وقت ٹریفک کے اژدہام میں ہمیں حضرت علیکا ایک قول یاد آتا رہا کہ بے جا تنقید کرنے والے کی عادت اس مکھی جیسی ہے جو صاف جگہیں چھوڑ کر بیٹھنے کے لئے گندگی تلاش کرتی ہے۔
(خصوصی نوٹ)تمام بھائی لوگ فیس بک پر اپنے بے جا تنقیدی کومنٹس کا احترام ملحوظِ خاطر رکھیں اور بار بار ہمیں فرینڈ ریکویسٹ بھیج کر کھجل خراب ہونے سے بچیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-05-13

کالم نگار     :     فوزیہ بھٹی

فوزیہ بھٹی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-