بند کریں
ہفتہ ستمبر

میر کارواں کون ؟…جنرل راحیل شریف یا میاں نواز شریف

اسرار احمد راجہ :

آل سعود اور آل شریف آف جاتی عمرہ پر بات کرنے سے پہلے ایک نظر ملک یمن پر ڈالتے ہیں چونکہ یمن کا پنجاب اور پنجابی ادب سے بڑا گہر رشتہ ہے ۔ بھلے شاہ ، شاہ حسین ، بابا فرید اور دیگر پنجابی صوفی شاعر اپنا اپنا ایک مقام رکھتے ہیں مگر ان سب شاعروں کی نسبت جو انداز بیان رومی کشمیر ، عارف کھڑی حضرت میاں محمد بخش نے اختیار کیا ہے وہ ہر لحاظ سے منفرد ہے ۔ پنجابی ادب اور میاں صاحب  کا ہیر و سیف الملوک جسکا اصل نام عاصم بن صفوان تھا ملک یمن کا ہی شہزاد تھا ۔ قصہ سیف الملوک کے مطابق عاصم بن صفوان بدیع الجمال کے عشق میں مبتلا ہو کر تلاش یا ر میں نکلا تو سب سے پہلے اُسکے راستے میں سمندر حائل ہوا پھر ریگستان آیا ، جنگل آئے اور آخر کا ر بلند و بالا پہاڑوں کا سلسلہ عبور کرتے ہوئے وہ کوہ قاف کے ملک پریستان پہنچا ۔ منزل تک پہنچنے اور محبو ب کی محبت کے حصول کی خاطر شہزادے نے جو جو دکھ اُٹھائے ، قیدیں کاٹیں، مشکلات برداشت کیں اور جس جوانمردی اور جرا ت و استقلال کا مظاہرہ کیااُسکا بیان الگ ہے۔
سعوی عرب، پاکستان اور یمن کے حالات سے لگتاہے آج ایک عاصم بن صفوان نہیں بلکہ تین عاصم بن صفوانوں یا سیف الملوکوں کی ضرورت ہے جو صرف عاشق مزاج ہی نہ ہوں بلکہ کردار میں بھی سیف الملوک کے ہم پلہ ہوں ۔ پاکستانی شاہی خاندان اپنے آپ کو کشمیری النسل کہتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان پر بٹ شاہی حکمران مسلط ہیں جن میں خواجے ، ڈار، شیخ اور جاٹ بھی شامل ہیں۔ کشمیر پر لکھی جانے والی سب سے مستند کتاب پنڈت کلہین کی راج ترنگنی ہے جس میں باون کشمیری حکمران خاندانوں کا ذکرنہیں ملتا ۔ اسی طرح جن حکمران خاندانوں کا ذکر ہے۔ اُن میں بٹ خاندان کبھی حکمران نہیں رہا اور نہ ہی خواجے ، ڈار ، شیخ اور جاٹ کبھی حکمران رہے ہیں ۔ بٹ ، خواجہ ، ڈار اور شیخ ایک ہی خاندان کی شاخیں ہیں جو تاریخی لحاظ سے دستکار ، صنعت کار اور تاجر ہیں۔ کشمیر میں جہاں کہیں آپسی راج رہا ہے وہاں بھی شیخوں ، بٹوں ، خواجوں ، ڈاروں اور جاٹوں کی الگ حکمرانی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ۔ کشمیر کے پہلے حکمران راجہ گوندہ جسکاتعلق تبت کے شاہی خاندان سے تھا ، لیکر رانی کوٹہ اور پھر زین العابدین بڈھ شاہ سے ڈوگرہ راج تک بعض بٹ ، ڈار ، خواجہ اور شیخ معززین افسروں اور تاجروں کا ذکر تو ہے مگر بٹ شاہی کا کیں ذکر نہیں ملتا ۔
کشمیر سے الگ ریاست گلگت و بلتستان ، وادی نیلم اور ہزارہ کا ذکر کریں تو ان علاقوں پر ایک طویل عرصہ تک بھٹ شاہی کا راج رہا ہے۔ جسے ہم میاں برادران ، خواجگان اور بٹ صاحبان کی خوشنوی کی خاطر بٹ شاہی کہہ سکتے ہیں ۔ اگر میاں صاحب کے داماد صفدر اعوان کا شجرہ مانسہرہ کے کسی ولی اللہ سے جوڑا جاسکتا ہے۔ تو بٹ صاحبان جو کہ پاکستان کے مطلق اُلعنان حکمران ہیں کو قیاس اور دلیل کی قوت سے بھٹ شاہی سے جوڑ نا کوئی مشکل کا م نہیں ۔ اس کام کے لیے حکومت چاہے تو پاکستان کی ٹی وی سکرین پر نظر آنے والے چند خود ساختہ اور مشہور دانشوروں ، محقق اور مدبر صحافیوں ،اینکر پرسنز کی خدمات حاصل کر سکتی ہے۔ چونکہ قصہ سیف الملوک پنجابی زبان میں ہے جسے پہلے پہل عربی اور فارسی کے بعد دکنی زبان میں نقل کیا گیا اس لیے ضروری ہے کہ یمن اور پنجاب کے درمیان ایک ادبی ، سماجی ، اور شاہی تعلق پید ا کیا جائے۔ ہمارے وزیر دفاع جناب خواجہ آصف بھی تو کسی سیف المکوک سے کم نہیں ۔ آئینی اور قانونی لحاظ سے پاکستانی مسلح افواج ان کے تابع فرمان ہیں اور عشق و محبت میں بھی وہ کسی سے کم نہیں ۔ پنجاب کی بدیع ا ُلجمال اُن پر فاریفتہ ہے اور شاہی خاندان ان کی مرضی و منشاکا محتاج ہے۔ شہزادہ عاصم بن صفوان اور شہزادہ آصف بن صفدرکا موازنہ کیا جائے تو شہزادہ آصف ہر لحاظ سے برترہیں ۔ شہزادہ عاصم مصر سے یمن پہنچا تو اُسکا لشکر سمندر میں غرق ہو چکا تھا اور وہ تنہا منزل کی جانب چلا تھا ۔ شہزادہ آصف کے لشکر ایٹمی ہتھیاروں اور جدید جنگی ساز وسامان سے لیس ہیں اس لیے اُن کی پوزیشن ہر لحاظ سے مستحکم ہے۔
دوسری جانب آل سعود کی تاریخ بھی منفرد ہے جسکا مکمل احوال جناب محمد اسد کی کتاب روڈ ٹو مکہ میں درج ہے۔ آل سعود نے ترکوں کے خلاف طویل جنگ لڑی جس کی بنیاد مسلک پر استوار تھی۔ اس جنگ نے بھی کئی رخ اختیار کیے اور ہر بدلتے رخ میں امریکہ، برطانیہ ، اٹلی ، فرانس اور جرمنی نے اپنا اپنا رنگ دکھلایا ۔ اسی جنگ کے کچھ کرداروں میں شریف آف مکہ ، شاہ عبداللہ آف اُردن اور لارنس آف عربیہ بھی سامنے آئے اور اپنا اپنا حصہ لے کر رخصت ہو گے۔اہل مغرب نے صلیبی جنگوں سے سبق حاصل کر رکھا تھا اور انہیں یقین تھا کہ ایک بڑی اسلامی مملکت اہل مغرب کے کسی بھی وقت مد مقابل آسکتی ہے جسکا توڑ ابتداء سے ہی ضروری سمجھا گیا ۔ آل سعود اور آل رشید کی چپقلش ختم ہوئی تو چرچل کی ذاتی دلچسپی اور کوششوں کے نتیجے میں اسرائیلی ریاست کا قیام وجود میں آیا جس کی وجہ سے اُردن کا رقبہ مزید سکٹر گیا ۔
ایک منصوبے کے مطابق بلاد شام کو تقسیم کیا گیا اور اُردن، شام، عراق اور لبنان علیحدہ اور خود مختار ملک بن گے۔ چونکہ بلاد شام کی مضبوطی سے سعود ی عرب اسرائیل اور خلیجی ممالک کو خطرہ ہو سکتا تھا۔ اُردن ، شام، عراق اور لبنان مجموعی آبادی کے لحاظ سے شیعہ اکثریتی علاقے تھے جبکہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں بھی شیعہ آبادی وجود تھی۔
مغربی سیا ستکار اگر بلا دشام کو تقسیم نہ کرتے تو آج جنوبی افغانستان، بلوچستان اور یمن تک ایک بڑی شیعہ ریاست قائم ہو چکی ہوتی جس میں سعودی عرب کا کچھ علاقہ جہاں شیعہ اکثریت موجود ہے کے علاوہ آدھی سے زیادہ خلیجی ریاستیں بھی شامل ہو چکی ہوتیں۔
سعودی عرب کے قیام اور بلا د شام کی تقسیم کے بعد مسلم دنیا تین بڑے فر قوں میں تقسیم ہوگئی اور ہر فرقے کے اکابرین نے دوسرے کو کافر، مشرک ، بدھتی ، خارجی اور ملائمتی قرار دیا۔ شیعہ ، سنی اور وہابی فرقوں کی باہم چپقلش کئی ممالک میں خانہ جنگی میں بدل گئی اور کمزور طبقات کا خون بہایا گیا۔ مذہبی اور مسلکی جنگ کے علاوہ سوشلزم ، کیپٹل ازم اور سیکولرزم نے الگ رنگ دکھلایا جسکی وجہ سے اسرائیل مضبوط ہوا اور مسلم ممالک کے تیل کے خزانوں سے اہل مغرب نے بھر پور فائدہ اُٹھایا۔ در حقیقت اسرائیل کے خلاف نبرد آزما الفتح اور دیگر فلسطینی تنظیمیں سوشلسٹ نظریات کی پیروکار تھیں جبکہ مسلم دنیا انہیں مجاہد ، غازی اور شہید قرار دے رہی تھی۔ کراچی ، راولپنڈی اور پشاور کے لوگ فلسطینیوں کے لیے چندہ جمع کر رہے تھے اور یاسر عرفات نہرو اور گاندھی کے گیت گا رہا تھا ۔ اہل اسلام فلسطینیوں کے لیے خون کے آنسو بہا رہے تھے اور فلسطین کشمیریوں کو بھارتی عذار اور علیحدگی پسند قرار دے رہے تھے۔
آدھے یمن پر سوشلزم کا جھنڈا لہرا رہا تھا اور آدھا کیپٹلزم کے گیت گا رہا تھا ۔ عراق اور شام میں سوشلسٹ ریپبلک حکومتیں قائم تھیں اور مصر کا جنرل نا صرعرب نیشنلزم کا جھنڈا اُٹھائے لینن اور گاندھی کے قصیدے پڑھ رہا تھا۔ اہل پاکستان جذبات کے بخار میں مبتلا تھے اور ترکی سیکولرزم کا مبلغ تھا۔
ماضی قریب کے اس منظر نامے پر نظر ڈالیں تو آج کے حالات اسی منظر کا د وسرارخ ہیں ۔ یاسر عرفات ، جمال عبدالناصر ، صدام حسین ، معمر القذافی ، حافظ الا سد اور شاہ حسین کے بعد طالبان ، جند اللہ ، حزب اللہ ، داعش ، ہوثی اور زیدی منظر عام پر ہیں اور حد ف بچا کھچا اسلامی اتحاد اوراسلامی عسکری قوت ہے۔
سعودی عرب کی مدد سے مصری فوج سے پہلی جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا اور صدرمرسی کو عمر قید کی سزا دلوائی ۔ ذاتی عناداور عرب بہار کی آڑ میں سعودی عرب اور کچھ خلیجی ممالک کی ایما پر قذافی اور صدام اپنے انجام کو پنچے اورعراق و شام ٹکڑیوں میں تقسیم ہوگے ۔ سوڈان طویل خانہ جنگی کے بعد دو حصوں میں تقسیم ہوا تو مسلم دنیانے اُس کی خبر تک نہ لی ۔لیبیا کے عوام کو نہ جمہوریت ملی اور نہ عزت و آذادی باقی رہی۔ لبنان عملاً خانہ جنگی کی لپیٹ میں آگیا اور ایک الگ حیثیت کا ملک بن گیا۔
اُردن معاشی لحاظ سے ایک کمزور اور چھوٹا ملک ہے۔جس کی آذادی اور امن کا دارومدار سعودی عرب اور مغرب پر ہے۔ بنگلہ دیش کسی بھی لحاظ سے قابل اعتمادملک نہیں۔ بنگلہ دیش بھارتی پالیسیوں پر گامزن سیکولرزم کی طرف مائل ہو کر مسلم دنیاسے الگ ہو چکا ہے۔ جبکہ افغانستان کے حالات کسی بھی طرح یمن ، شام، اور عراق سے مختلف نہیں ۔ دیگر مسلم ممالک کی طرف دیکھیں تو سنٹرل ایشیائی ریاستیں آزادی کے ابتدائی مراحل میں ہیں ۔ ان ریاستوں میں آئے دن اندرونی خلفشار جنم لیتے ہیں جنکی وجہ سے وہاں کے عوام اور حکمرانوں میں باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔ جنوبی مشرق ایشیا ء میں انڈونیشیا اور ملیشیا آبادی ، رقبے اور وسائل کے لحاظ سے بڑی مملکتیں تو ہیں مگر ان ممالک کی ایسی پوزیشن نہیں کہ وہ بیرون ملک کسی ایڈونچر کا حصہ بن سکیں۔
پچپن سے زیادہ اسلامی ممالک میں پاکستان ، ترکی ، مصر اور اردن ہی ایسے ملک ہیں جہاں باقائدہ تربیت یافتہ فوج تو ہے مگر سعودی عرب سے تعلقات کی نوعیت مختلف ہے۔
اُردن کی مسلح افواج اسرائیل کیخلاف تین جنگیں لڑ چکی ہے اور اُسے طویل عرصہ تک پی ایل او کے خلاف بھی شدید مزاہمت کا تجربہ حاصل ہے ۔ دیکھاجائے تو ان جنگوں میں بھی اُردن کو پاکستان کی فوجی حمائت حاصل رہی ہے جن میں جنرل ضیاء الحق ، ائیر مارشل انور شمیم ، ائیر کموڈور خاقان عباسی اور پاکستانی ہیر و ایم ایم عالم کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستانی مسلح افواج کا ایک بڑا گروپ مسلسل کئی سالوں تک سعودی عرب اور یمن کے بارڈ پر تعینات رہا اور سعودی مسلح افواج کی تربیت کا کام کرتا رہا ۔ اسطرح پاکستانی مسلح افواج کے لیے اُردن ، شام اور سعودی عرب میں عسکری خدمات سرانجام دینا نہ تو مشکل ہے اور نہ ہی نا تجربہ کاری کا کوئی پہلو سامنے آتا ہے۔ سعودی عرب ، ترکی ، مصر اور اُردن کی مسلح افواج کی نسبت پاکستانی سپاہی بہت سی خوبیوں اور خدداد صلاحیتوں کا مالک ہے۔ جس سے ساری دنیا واقف ہے۔ شائد یہی بنیادی وجہ ہے کہ ساری دنیا اس کوشش میں ہے کہ وہ پاکستان کے نااہل ، ہو س پرست ، کرپٹ اور عاقبت نا ندایش سیاستدانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھا کر عالم اسلام کے بے لوث مجاہد پاکستانی سپاہی کو فرقہ پرستی کے دلدل میں دھکیل کر اُسکی خوبیوں سے اُسے محروم کر دے ۔ فرقہ واریت ، علاقائیت اور قومیت ایسے آسیب ہیں جنکا علاج عسکریت نہیں بلکہ عقلمندی ، دانشمندی اور بدلتے حالات سے واقفیت ہے۔
پاکستانی سیاسی قیادت نے سعودی عرب کے طوفانی دوروں اور قومی اسمبلی میں جلوہ افروز ہو کر جس غیر ذمہ داری ، بھونڈے پن اور نا اہلی کا ثبوت دیا ہے اس پر بحث کرنا ہی فضول ہے۔
پاکستانی وزیر دفاع اور پنجابی سیف الملوک نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر جس طرح کا مظاہرہ کیا ہے اُس سے ثابت ہے کہ یہ شخص ایک اسلامی ایٹمی قوت کا وزیر دفاع تو درکنار شہری دفاع کا رضا کار بھرتی ہونے کے بھی قابل نہیں ۔ سیف الملوک نے سب سے پہلے ایک فہرست پڑھ کر سنائی کہ سعودی عرب نے پاکستان سے انفنٹری ، آرمر، توپخانہ ، فضائی اور بحری جہازوں کی ڈیمانڈ کی ہے۔ کیا کسی ملک کا وزیر دفا ع ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ کیا پاکستانی فوج کرائے کی فوج ہے یا پھر برائے فروخت ہے۔ کیا پاکستان عالمی برادری کا ایک اہم رکن نہیں ؟ کیا پاکستان کسی دوسرے ملک کی طفیلی ریاست یا پھر بٹ شاہی اور خواجہ شاہی کی جاگیر ہے؟ کیا پاکستانی مسلح افواج انسانوں کی فوج نہیں؟؟؟؟؟۔
سوال یہ ہے کہ ایک شخص اپنے قائد میاں نواز شریف کی خو شنودی کی خا طر کبھی مسلح افواج کو گالیاں دیتا ہے اور کبھی اپنے سیاسی مخالفین پر تھڑے کی زبان استعمال کرتا ہے تو بٹ شاہی اُسے وزیر دفاع بنا دیتی ہے۔ وہ اسپر بھی اکتفا نہیں کرتا اور پھر اسمبلی میں کھڑے ہو کر نہ صرف اپنی فوج کو کرائے کی فوج ثابت کرتا ہے اور سعودی عرب جیسے قریبی دوست کو بھی شرمندہ کردیتا ہے۔ کیا ایسا شخص جوعقل و خر سے عاری ہے اور محض میاں برادران کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر ملکی سا لمیت کو داؤ پر لگا دیتا ہے، اس قابل ہے اسے وزیر دفا ع کہا جائے ۔ وزیر دفاع سمیت حکومت اور اپوزیشن میں سے کسی نے بھی اسمبلی کے اجلا س میں پاکستان کی بات نہیں کی۔ دینی جماعتوں نے سعودی عرب کی کھلی حمائیت اس لیے کی چونکہ انہیں ذاتی اخراجات اور مدرسوں کے لیے سعودی عرب اور عرب امارات سے فنڈز ملتے ہیں ۔ ان سیاسی مذہبی جماعتوں میں کچھ ایسی بھی ہیں جو پاکستان کے وجود کے ہی خلاف تھیں اور درپردہ اب بھی ہیں ۔کیا مرحوم مفتی محمود کا یہ بیان کس کو یاد نہیں کہ وہ پاکستان بننے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔ ان سے تو باچا خان بہتر تھے جو زندگی بھر پاکستان کے مخالف رہے اور مرنے کے بعد جلال آباد چلے گئے ۔ ولی خان کیوں نہیں گئے اسکاجواب اسفندیا ر ولی ہی دے سکتے ہیں۔ مرحوم سید ابوالااعلیٰ مودودی نے جہاد کشمیر کوفسادقرار دیا تھاجسکا اظہاراثر چوہان اکثر اپنے کالموں میں کرتے ہیں۔ اب جماعت اسلامی نے فساد کو جہاد کہنا شروع کیا ہے تو پیپلز پارٹی کے قائد آصف علی زرداری نے اس تیس سائل تک منجمند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ بلوچستان کے سیاسی قائدین کا بیان ہے کہ اگر کشمیری جدوجہد آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں تو کراچی اور بلوچستان والے ایسا کیوں نہ کریں۔
ہردور میں حکمرانوں کی پسندیدہ شخصیت اور فرنٹ لیڈی ماروی میمن نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں فرمایا ہے کہ یہ میرا ملک اور میری فوج ہے ۔ہم تو عرصہ ہوا سمجھ رہے تھے کہ یہ ہمارا ملک ہے اور ہماری فوج ہے۔ اب پتہ چلا کہ نہ یہ ملک ہمارا ہے اور نہ فوج ہماری ہے۔ اگر یہ ملک واقعی ماروی میمن کا ہے تو فوج بھی اُن کی ہی ہے ۔شائد یہی وجہ ہے کہ خواجہ آصف نے سعودی عرب کی ڈیمانڈ لسٹ اسمبلی میں پڑھ کر سنائی جو کسی بھی طرح سے عقلمندی نہ تھی ۔ خواجہ صاحب یہ بتانا بھو ل گئے کہ جناب یہ ملک ماروی میمن کا اور میاں برادران کا ہے اور فوج ماروی کی ہے۔ سعودی عرب، ماروی میمن اور میاں برادران کے درمیان جو ڈیل ہو رہی ہے اُسکا احوال اب تک اتنا ہی ہے۔ اب حکم کے مطابق مجھے تحریک انصاف پر بمباری کرنی ہے چونکہ اوپر سے یہی حکم آیا ہے۔
عقلمندی ، دانشمندی اور دور اندیشی کے فقدان کا قصہ یہی ختم نہیں ہوتا بلکہ سولہ اینکر دانشوروں اور درجن بھر تجزیہ نگار اور کالم نگاروں نے بھی اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال کر اپنے آقاؤں اور بہی خوائیوں کو راضی کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ پاکستانی سیاستدانوں ، تجزیہ نگاروں ، اینکر وں اور دانشوروں نے ایران ، سعودی عرب، یمن ، میاں برادران سے لیکر شیعہ سنی اور وہابی مسالک کی تو بات کی ہے مگر کسی نے بھی اسلام ، پاکستان اور افواج پاکستان کا ذکر نہیں کیا۔
اسفند یارولی نے کہا کہ اگر فوج سعودی عرب گئی تو بلوچستان پاکستان سے جدا ہو جائیگا ۔ بہت سے بد خوائیوں اور قوم دشمنوں نے کہا کہ اگر فوج نہ گئی تو عرب امارات اور سعودی عرب پاکستانی مزدورں اور ہنر مندوں کو اپنے ممالک سے نکال دے گا کچھ تجزیہ نگاروں نے کہا کہ اگر میاں صاحب نے ماروی میمن اور خواجہ آصف کی فوج سعودی عرب بھجوائی تو پاکستانی سیاستدانوں ، رئٹائرڈ جرنیلوں ، بیورکریٹوں اور وزیروں کے بیرون ملک اثاثے منجمد ہو جائیگے ۔
کچھ صافیوں نے بھارت دوستی اور پاکستان دشمنی کا کھل کر اظہار کیا اور فرمایا کہ اگر پاک فوج سعودی عرب جاتی ہے تو بھارتی فوج افغانستان میں کیوں نہیں آسکتی۔ عقلمندی اور دانشمندی تو اپنی جگہ مگر نمک حلالی اور وفاداری کا جو ثبوت یہ صافی دیتے ہیں اُس کی داد نہ دینا بھی درست نہیں۔ یہ بیان محمود اچکزئی اس لیے نہ دے سکے چونکہ اُنکا بھائی بلوچستان کا گورنر ہے اور خود میاں برادران کے ہمنوا ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن اس لیے نہ دے سکے چونکہ وہ حکومت میں شامل ہیں اور کشمیر کمیٹی کے چےئرمین ہیں۔ دوسری وجہ کرنل قذافی کی موت اور سیف اسلام کی قید ہے۔ اگر قذافی زندہ ہوتے تو موصوف کبھی بھی سعودی عرب کی بات نہ کرتے ۔ سعودیوں کو یا د ہوگا کہ جب قذافی مرحوم شاہ عبداللہ کے خلاف خواجہ آصف بنے ہوئے تھے تو مولانا فضل الرحمن طرابلس کے چکروں پرچکر لگا رہے تھے۔ ان چکروں میں ایک چکر ایسا بھی تھاکہ دبئی ائیر پورٹ والے مولانا کا بستر بند چیک کر کے خود بھی چکرا گئے ۔ خدا جانے مولانا اس چکر سے کیسے نکلے ؟مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ خلیجی ممالک میں اگر کوئی چکر ہو جائے تو جناب آصف علی زرداری ، رحمان ملک ، اسحاق ڈار اور سیف الرحمن ہی رہائی دلو اسکتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن اور کرنل قذافی کی دوستی کا منہ بولتا ثبوت پشاور میں منعقد ہونے والی عالمی دیوبند کانفرنس ہے جسکا خرچہ لیبیا نے برداشت کیا اور قذافی کا ولی عہد سیف الاسلام قذافی بذات خود اس کانفرنس میں شریک ہوا۔
قذافی پر عرب بہار خزان بن کر گری تو مولانا نے اتنی جرات بھی نہ کی اور قذافی کے حق میں ایک بیان بھی نہ دیا ۔ کہتے ہیں کہ چوہدری نثار اور مشائد حسین سید نے بڑی عالمانہ تقریریں کی ہیں ۔ یا د رکھیں کہ چوہدری نثار اس وقت شدید ذہنی دباؤ میں ہیں اور بہہ حالت مجبوری اس حکومت کا ساتھ دے رہے ۔ خواجہ آصف جب عمران خان اور تحریک انصاف پر شرم و حیا کی بمباری کر رہے تھے تو جناب سپیکر زیر مونچھ مسکرا رہے تھے اور ن لیگی متوالے انہیں داد دے رہے تھے ۔ جناب وزیراعظم اور اُن کی کابینہ کے ارکان خواجہ آصف کی خوشبو دار اور مدبرانہ تقریر سے لطف اندوز ہو رہے تھے اور ایوان میں بیٹھے معزز ممبران اسمبلی وسینٹ خوشی سے مسکرارہے تھے۔ ایک ایسا ہی وقت بلکہ برا وقت جناب چوہدری نثار پر بھی آیااور جب چوہدری اعتزاز احسن سے چوہدری نثار کو ہی نہیں بلکہ نام لیکر اُن کے مرحوم بھائی کو بھی اپنے سخت الفاظ سے نشانہ بنایاتو حیرت کی بات ہے کہ اُس وقت بھی جناب سپیکر زیر مونچھ مسکراتے رہے ، ن لیگی خوش ہوتے رہے اور اپوزیشن والے چوہدری اعتراز حسن کو داد دیتے رہے۔
جہاں تک مشاہد حسین سید کا تعلق ہے تو یہ وہی شاہ صاحب ہیں جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں۔ آپ کے دور میں میاں صاحب کی حکومت نے پاک آرمی کے خلاف روگ آرمی کے اشتہار شائع کروائے ، جنرل مشرف کو بے عزت کرنے اور ڈسمس کرنے کا ذرامہ رچایا اور میاں صاحب کو اٹک قلعے میں بند کروایا اور جنرل مشرف کا بھی بھر پور ساتھ نبایا۔
یمن کی جنگ کا سب سے بڑا فائدہ جنرل راحیل شریف اور اُنکے ساتھیوں کو ہوا ہے۔ فوجی قیادت کو اسمبلی کی کارروائی ، اینکر بازی ، صحافتی ، دانشوری اور سیاسی ابتری سے پتہ چل گیا ہے کہ ہر کسی کو اپنے مسلک ، مفاد اور مال سے غرض ہے کسی کو پاکستان ، اسلام اور افواج پاکستان سے غرض نہیں ۔ یہ ملک نہ ماروی کا ہے اور نہ فوج ماروی ، میاں برادران ، خواجگان اور بٹ شاہی کی ذاتی ملکیت ہے ۔ ہماری فوج پاکستانی عوام اور نظریہ پاکستان کی محافظ ہے ۔ جہاں تک سعودی عرب اور مقدس مقامات کا تعلق ہے تو شیعہ ، سنی اور وہابی کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں ایک ہی قرآن سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں اور مکہ جا کر ہی حج ادا کرتے ہیں ۔ یمن کے پندرہ فیصد حوثی اور پندرہ فیصد زیدی یہ جرات نہیں کرسکتے کہ وہ کعبہ شریف یا مدینہ شریف پر قبضہ کر کے سارے عالم اسلام کے غیض و غضب کا نشانہ بنکر صفحہ ہستی سے ہی مٹ جائیں ۔ یقینا ایران بھی اس بات سے آگاہ ہے کہ و ہ خسرواور دارا کا ایران بحال نہیں کر سکتا اور نہ ہی صفوی دور واپس آسکتا ہے۔
موجودہ حکومت جس نا اہلی کا مظاہرہ کر رہی ہے ، یقینا وہ قائداعظم اور اقبال  کے پاکستان پر حکومت کا حق نہیں رکھتی ۔ علامہ اقبال نے پاکستانی وزیراعظم کی کو الیفکیشن عشروں پہلے بتلائی تھی ۔
نگاہ بلند ، سخن دلنواز جان پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
خواجہ آصف ، میاں نواز شریف اور دیگر دیکھیں کہ کیا وہ میرکارواں کہلانے کے قابل ہیں؟؟؟؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-05-08

: متعلقہ عنوان


کالم نگار     :     اسرار احمد راجہ

اسرار احمد راجہ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-