بند کریں
بدھ مئی

آزادی صحافت اور ہم

فرخ شہباز وڑائچ :

ہر سال تین مئی کو دنیا بھر میں ورلڈ پریس فریڈم ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ آزادی صحافت کے دن منائے جانے کا آغاز 1993ء میں ہوا تھا اس دن کی باقاعدہ منظوری اقوام متحدہ کے ادارے جنرل اسمبلی نے دی تھی،سو اس طرح آج سے تقریبا 22سال پہلے ہماری برادری کے دن کو بھی بالآخر تسلیم کر لیا گیا۔آزادی صحافت پر بات کرنے سے پہلے فریڈم ہاؤس کی چشم کشا رپورٹ پر بات ہو جائے۔فریڈم ہاؤس امریکی ادارہ ہے جو 1941ء سے دنیا بھر کے ممالک کی سیاسی،مذہبی ،صحافتی آزادی پر ریسرچ رپورٹ شائع کرتا آرہاہے۔
اس مناسبت سے غیر سرکاری ادارے فریڈم ہاوٴس نے 2013ء کے دوران پریس فریڈم پر ایک سروے رپورٹ جاری کی تھی، جس کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے مقابلے میں آج کی صورتحال زیادہ خراب ہے
متوازن رپورٹنگ، صحافیوں کا تحفظ اور میڈیا پر حکومتی اثرورسوخ کم یا نہ ہونا، غیر سرکاری ادارے فریڈم ہاوٴس کے مطابق دنیا کی صرف چودہ فیصد آبادی ایسے حالات میں سانس لینے کے قابل رہ سکی۔ 1996ء کے بعد یہ شرح اس وقت کم ترین ہے۔ ایسے ممالک جہاں پریس کی آزادی کم یا نہ ہونے کے برابر ہیں، ان میں ترکی اور یوکرائن بھی شامل ہیں۔آزادی صحافت کے بارے میں کرائے گئے ایک سروے کے مطابق ترکمانستان، ازبکستان اور بیلاروس میں صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے۔ 197 ممالک میں کرائے گئے اس سروے کے مطابق پریس فریڈم کے حوالے سے بہترین ممالک ہالینڈ، ناروے اور سویڈن قرار پائے ہیں۔جبکہ گزشتہ برس ترکی میں صحافیوں پر متعدد حملے ہوئے۔ مثال کے طور پر گوکان بچیجے کو استبول میں واقع گیزی پارک میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ کے مطابق ترکی میں گزشتہ برس صرف دسمبر میں ہی چالیس صحافی گرفتار کیے گئے۔ ترکی میں آزادی صحافت کی صورتحال وقت کے ساتھ نازک ہوتی جا رہی ہے۔گزشتہ برس یوکرائن میں بھی آزادی صحافت کے لیے ناخوشگوار رہا، جہاں کییف کے میدان اسکوائر پر منعقد کی گئی حکومت مخالف ریلیوں کے دوران خاتون صحافی ٹاٹیانا چورنووَل کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جس کے بعد ہزاروں افراد نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا۔ چورنووَل نے یوکرائن کے معزول صدر وکٹور یانوکووچ کی پرتعیش طرز زندگی کو اجاگر کیا تھا۔گزشتہ برس پریس فریڈم کے حوالے سے روس اور چین میں بھی صورتحال ابتر ہی رہی۔ ان ممالک میں حکومت نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے متعدد ایسے قوانین منظور کیے، جن سے بالخصوص انٹر نیٹ پر آزادی صحافت پر قدغنیں لگیں۔ روس میں بہت سے لوگ اس صورتحال پر نہ صرف ناراض ہیں بلکہ وہ احتجاج بھی کرتے ہیں اور یہ احتجاج آج بھی اسی شان و شوکت سے جاری ہے۔
امریکا ایک ایسا ملک ہے جہاں صحافت تو بظاہر آزاد ہے تاہم وہاں حکومتی انفارمیشن پالیسی سخت تنقید کی زد میں ہے۔ وہاں اکثر ہی قومی سلامتی کے نام پر سرکاری معلومات خفیہ رکھی جاتی ہیں اور صحافیوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ذرائع بتائیں، جنہوں نے انہیں باخبر کیا ہے۔ امریکا میں حکام نے اے پی کے ایک صحافی کی ٹیلی فون کال ریکارڈ بھی کی جس پر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا تھا مگرامریکی حکام آج بھی اسی طرح کی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔
مصر میں گزشتہ برس ابلاغ عامہ سے جڑے کارکنان کے لیے صورتحال خطرناک شکل اختیار کر گئی ۔ محمد مرسی کی معزولی کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ مرسی خود بھی پریس فریڈم کے دشمن قرار دیے جاتے تھے۔ مصر میں 2013ء کی آخری ششماہی میں بے شمار صحافی گرفتار کیے گئے۔ فریڈم ہاوٴس کے مطابق اس دوران فوجی کارروائی کے نتیجے میں پانچ صحافی ہلاک بھی ہوئے۔
جہاں کئی ممالک میں پریس فریڈم کے حوالے سے صورتحال بگڑی ہے، وہیں کچھ ممالک میں یہ صورتحال بہتر بھی ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر مالے میں صدارتی انتخابات کے انعقاد اور اسلامی باغیوں کو پسپا کرنے کے بعد سیاسی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ مالے میں 2012ء کی فوجی بغاوت کے بعد بند کر دیے گئے متعدد میڈیا ادارے اب دوبارہ کام کرنے لگ گئے ہیں۔
پریس فریڈم کے حوالے سے جن دیگر ممالک میں مثبت تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، ان میں کرغزستان بھی شامل ہے، جہاں گزشتہ برس صحافیوں پر ہونے والے حملوں کی شرح کافی کم ہو گئی۔ اسی طرح نیپال میں بھی صحافت پر حکومتی کنٹرول ختم کر دیا گیا۔ تاہم اس کے باوجود بھی ان دونوں ممالک میں صحافیوں کو دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔اس رپورٹ میں چونکہ پاکستان کا ذکر کہیں ملتا اس لیے پاکستانی صحافت کے لیے عرض کرتا چلوں جتنا استحصال صحافیوں کا مالکان کر رہے ہیں اسکی مثال کم از کم اور کہیں نہیں ملتی۔یہ مالکان کسی آمر حکمران سے بڑھ کر ظلم ڈھارہے ہیں۔
پاکستان میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون بھی قرار دیا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے الیکٹرانک میڈیا کا بے لگام گھوڑا ریاست کے باقی ستونوں کو جتنا مرضی زخمی کرلے کوئی پوچھنے والا نہیں۔کیا ہی اچھا ہو آزادی صحافت کے حق میں ریلیاں نکالنے سے پہلے ہم اپنی اقدار،روایات اور اپنے ہی ہاتھوں ہونے والی تباہی پر غور کریں۔ہمیں سوچنا ہوگا کیا ہم اپنے ہی گھر کی دیواریں تو نہیں گرارہے۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہیں ہم خود اپنی تہذیب کی دھجیاں تو نہیں اڑارہے۔اب کی بارہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا۔۔۔!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-05-04

کالم نگار     :     فرخ شہباز وڑائچ

ماہنامہ پیغام ڈائجسٹ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر ہیں۔آج کل جہان میڈیا گروپ سے وابستہ ہیں

فرخ شہباز وڑائچ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-