بند کریں
پیر اپریل

مہربان، قدردان۔۔۔ اور تماشہ ختم

سید شاہد عباس :

اکثر ہمیں چوراہوں پہ مداری تماشہ کرتے نظر آتے ہیں۔ جیسے ہی تماش بینوں کا تانتا بدھنا شروع ہوتا ہے تو وہ فوراً اپنا تماشہ لپیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تماشہ دیکھنے والے اصرار کریں کہ جناب ابھی تماشہ ختم نہ کیجیے ۔ اور ذرا بتائیے تو سہی کہ فلاں کرتب آپ نے نے کیسے کیا۔ اس اصرار و نوک جھونک میں ہی مداری اپنے پیسے کھرے کر لیتا ہے۔ اور جب کبھی ایسا ہو کہ صدائیں بلند کرنے کے باوجود بھی تماشائی جمع نہ ہو پائیں یا کرتب میں وہ بجلی نہ دکھائی دے جس کی تماش بینوں کو توقع ہوتی ہے تو نہ صرف تماش بینوں کے چہرے اتر جاتے ہیں بلکہ صاحبِ فن بھی مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور بلند آواز سے مہربان۔۔۔قدردان ۔۔۔ ذرا رکیے ۔۔۔ کی گردان شروع ہو جاتی ہے۔ کسی بھی کرتب یا فنکاری کوسراہنے والے زیادہ تر مہربان، قدردان ہی کہلاتے ہیں۔ یہ مہربان اور قدردان وہ ہوتے ہیں جو کسی بھی فن، کرتب، ہنر، یا قابلیت کو سراہنے میں بخل سے ہرگز کام نہیں لیتے ۔ یہی لوگ ہوتے ہیں جو کسی بھی نالائقی پر منہ پھٹ انداز میں لفظوں کے نشتر چلانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ اس لیے انہیں کہا تو مہربان اور قدردان جاتا ہے لیکن یہ بلا کے ظالم ہوتے ہیں جو یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے سچے لفظوں کا بھی کسی فنکار، ماہر کرتب باز پہ کیا اثر ہوتا ہے۔
کالم نگاروں کی ایک بری عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں روزمرہ کے واقعات اور فنکاریوں کو قارئین پر زبردستی مسلط کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ لہذا عقل مند قارئین سے گذارش ہے کہ اوپر بیان کردہ معمولات زندگی یا آئے دن زندگی میں نظر آنے والے ان مناظر کا تعلق ہرگز ہرگز بھی موجودہ یمن تنازعے سے نہ جوڑا جائے۔
کم و بیش ایک ہفتے کی بمباری کے بعد سعودی عرب نے یمن پر حملے یعنی آپریشن Desicive Storm (فیصلہ کن طوفان) کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔عرب بادشاہوں اور شہزادوں یا شیوخ کو سمجھنا میری طرح کے بے وقوفوں کے بس کی بات نہیں ہمارے پاس خوش قسمتی سے ایک شیخ رشید صاحب ہیں جو اکیلے ہی پارلیمنٹ میں پوری حکومت پہ حاوی نظر آتے ہیں موجود ہیں۔ جب وہ ہماری سمجھ میں نہیں آ سکے تو عرب شیوخ کیوں کر آ سکتے ہیں۔
کم و بیش ایک مہینہ پہلے جب یمن جیسے غریب ملک کی شامت آئی تھی تویہ کہا گیا تھا کہ فیصلہ کن طوفان کا مقصد مقامات مقدسہ کی حفاظت اور سعودی عرب کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے ۔ اب نہ جانے سعودی عرب یا مقامات مقدسہ کو کیا خطرہ تھا جسے اربوں ڈالر خرچ کر کے اور کم و بیش 500 )انتہائی محتاظ اندازہ )غریب یمنیوں کی سانسیں ختم کر کے ہی ٹالا گیا۔ آپریشن شروع کرنے کے پہلے دن ہی یہ واویلا شروع کر دیا گیا کہ یہ جنگ مقامات مقدسہ کی حفاظت کی جنگ ہے جس پر وطن عزیز میں بھی تحفظ حرمین شریفین ریلیاں منعقد ہونا شروع ہو گئیں۔ میری طرح کے بے وقوف لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ریلیاں سعودی وزیر مذہبی امور کے دورہء پاکستان کے بعد سے زیادہ عروج پہ پہنچیں۔ اس بے وقوفانہ منطق کو دیوانے کی بڑھک سے زیادہ کچھ اہمیت نہ دیں یہ ایک گذارش ہے۔
کچھ پاگل قسم کے تجزیہ کار یہ کہہ رہے تھے کہ سعودی آپریشن سے حوثیوں کے نقصان سے زیادہ القاعدہ اور دولت اسلامیہ کوفائدہ ہو رہا ہے۔ جواس آپریشن سے مضبوط ہو جائیں گے۔ کہیں یہ فضول سا نقطہ ہی صاحب بہادر نے سعودی عرب کے شاہ کے دل میں تو نہیں ڈال دیا؟ شاید اس نقطے سے یہی سوچ ابھری ہو گی کہ ایک دشمن جو ہمارے لیے خطرہ بھی نہیں اس کے لیے کاروائی کہیں ان کو مضبوط نہ کر دے جو ہمارے لیے خطرہ بھی ہیں۔اور اس آپریشن کو ختم کرنے کی وجہ بھی شاید یہی بنی ہو گی کہ ایک ہادی کے لیے کہیں ایک ایسی جنگ کا آغاز نہ ہو جائے جو پورے خلیج کو اپنی لپیٹ میں لے جائے۔ اور یہ خیال بھی یقینا کپکپکی طاری کر دیتا ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ حوثیوں کے ترجمان حسین الخیتی نے میڈیا پہ آ کے یہ کہہ دیاکہ مقامات مقدسہ کی توہین کرنے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے کیوں کہ بطور مسلمان ہمارے لیے بھی یہ مقامات اتنے ہی محترم ہیں جتنے کسی بھی اور مسلمان کے لیے۔ اس بیان کے بعد سعودی عرب کا مقامات مقدسہ کی حفاظت کی خاطر جنگ کا جواز شاید بے معنی رہ گیا۔ اسی لیے آپریشن روکنے میں ہی عافیت تھی۔ سعودی عرب کے مطابق ایران حوثیوں کی حمایت کر رہا ہے جب کہ ایران( بظاہر) انکار کرتا آیا ہے۔ اس بے معنی آپریشن کے بعد ایران اور سعودی عرب کے تعلقات بھی دوراہے پہ آ گئے ہیں۔ بظاہر فیصلہ کن طوفان کا مقصد زنگ آلود ہوتے اسلحے کی مشق کے کچھ نظر نہیں آ رہا۔ اب اس بات کی کسے پرواہ کہ اس مشق میں سینکڑوں غریب لقمہء اجل بن گئے جن کے خاندانوں کو نہ تو امداد ملے گی نہ ہی شاید ان کے پیاروں کی قبریں۔ حیران ہوں کہ وہ کون سے اہداف حاصل کیے گئے ہیں جن کا اعلان اتحادی افواج کے ترجمان نے آپریشن روکنے کے اعلان کے دوران کیا۔ کیا ہدف غریب یمن کو مزید تباہ کرنا ہی تھا؟ کیا ہادی جیسے کمزور صدر کو دوبارہ اقتدار دلوانے کی کوشش ہی مقصد تھا؟ کیا جمع کے گئے اسلحے کو ٹیسٹ کرنا ہی بنیادی مقصد تھا؟ کیا مقصد خطے کے ممالک پہ اپنی دھاک بٹھانا تھا؟ یا کیا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرنا تھا؟
آخری الذکر مقصد حاصل کرنا شاید زیادہ اہم تھا۔ آپریشن کا مقصد شاید یہ باور کروانا تھا کہ ایران سے مذاکرات کے دوران ہمیں نظر انداز نہ کیا جائے۔ اسی لیے اپنی طاقت کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔حوثیوں سے مقامات مقدسہ یا سعودی عرب کی جغرافیائی سرحدوں کو تو شاید کوئی خطرہ نہ تھا نہ ہو سکتا ہے لیکن اس آپریشن سے یہ تاثر ضرور سامنے آنا شروع ہو ا ہے کہ حوثی یقینا سعودی بادشاہت کے ضرور خلاف ہیں۔ کچھ سمجھ آنا شروع ہو گیا ہے کہ پاکستانی فوج کی شمولیت پہ اصرار کیوں تھا کیوں کہ ہماری فوج کا تجربہ ان سے کہیں گنا زیادہ ہے ۔ روائتی جنگ اور گوریلا جنگ کا بھی۔ شاید ایک وسیع زمینی جنگ سے اجتناب کرنے کی وجہ بھی یہی رہی ہو کہ پاکستان کی پارلیمنٹ فوجی آپریشن میں حصہ لینے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ کیوں کہ سعودی عرب کو شاید پاکستان سے ایسے سیاسی جواب کی توقع نہیں تھی۔ ان کا خیال تھا کہ جیسے حکومتی خاندان ان کااحسان مند ہے فوراً پاکستان مثبت جواب دے گا۔ اب جب پارلیمنٹ نے کہہ دیا کہ سعودی سالمیت یا مقامات مقدسہ کو خطرہ ہوا تو پاکستان پیچھے نہیں ہٹے گا۔ تو مقامات مقدسہ کی حفاظت کا تو صرف شوشہ تھا اصل مسلہ تو ایک کٹھ پتلی ہادی کا دفاع تھا ۔ جب یہ شوشہ نہ چل سکا تو صرف فضائی آپریشن تک ہی محدود ہونا پڑا۔ اقوام متحدہ، خلیجی ممالک، امریکہ و برطانیہ جیسے قدردان ، مہربان ہوتے ہوئے بھی خطے میں بالادستی کے لیے رچایا گیا یہ تماشہ ختم کرنا پڑا۔
آپریشن روکنے کے اعلان پہ سب سے زیادہ سکون پاکستان کو ملا کیوں کہ پاکستان کو نہ صرف سعودی عرب کی طرف سے دباؤ کا سامنا تھا بلکہ اندرونی طور پر بھی بعض دھڑوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا تھا ۔ سعودی عرب کو شاید یہ احساس بھی اب ہو جانا چاہیے کہ مقامات مقدسہ ہمارے لیے بھی اتنے ہی مقدس و محترم ہیں جتنے کسی سعودی کے لیے ۔ لیکن ہم صرف کسی مخصوص پراپیگینڈے کی تکمیل کے لیے اپنی افواج کو کسی کی جنگ میں نہیں دھکیل سکتے ۔ مقامات مقدسہ کی حفاظت کا فریضہ ایک الگ معاملہ ہے جب کہ خطے پہ بالادستی کے لیے جنگ ایک بالکل الگ معاملہ ہے۔ بے شک خاندانوں کے مراسم شاہی خاندان سے ہیں لیکن یہ مراسم بھی پاکستان سے بڑھ کر کبھی نہیں ہو سکتے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-04-27

کالم نگار     :     سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-