بند کریں
اتوار اپریل

جنگی معیشت کی روافزوں ترقی

ڈاکٹر اویس فاروقی :

جب دو ممالک کے درمیان جنگ شروع ہوتی ہے تو یہ بات ثابت کرنی بہت مشکل ہو جاتی ہے کہ حق پر کون تھا اور غلطی کس کی تھی عمومی طور پر آجکل جتنی بھی جنگیں برپا ہیں ان کے پیچھے ملک گیری کی ہوس کار فرما ہونے کے ساتھ اپنی طاقت کا استعمال بھی بتایا جاتا ہے جبکہ اسلحہ ساز فیکٹریوں میں بننے والے جدید ترین اسلحہ کی ٹیسٹینگ کے لئے بھی جنگ ناگزیر ہوتی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں جس صنعت کو منافع بخش صنعت قرار دیا جارہا ہے وہ اسلحہ سازی کی صنعت ہے جس میں زیادہ تر یورپی ممالک ہیں اور خریداروں میں مسلم ممالک کی تعداد زیادہے ۔
جنگوں کو برپا کرنے کے پیچھے بھی اسلحہ ساز ممالک کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ لیکن جنگ زدہ ممالک اس بات کو سمجنے کے رودار نہیں ہوتے اور یوں کشت و خون کا بازر گرم رہتا ہے جو بلا آخر انسانی المیوں کی ہزار داستانیں رقم کرتا ہے ۔ لہو گھر رکھنے کا بہانہ شائد کبھی ہوا کرتا تھا لیکن اب تو لہو کی ندیاں بہا دی جاتیں ہیں اور جیتے جاگتے انسانی جسموں کو پل بھر میں لوتھڑوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے المیہ ملاحظہ فرمائیں ان لوتھڑوں کو انسان ماننے کے لئے بھی کوئی تیار نہیں ہوتا ورنہ امن پسند اس طرح کی جنگوں کے خلاف ریلیاں نکالتے جلسے کرتے اور دنیا کو باور کراتے کہ جنگیں کسی مسلے کا حل نہیں جبکہ اس کے برعکس جنگ برپا کرنے اور جاری رکھنے کے حامیوں کے جلسوں کی تعداد میں آئے روز اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے جو نفرتیں پیدا کر کے جنگی جنون میں اضافے کا سبب ہی نہیں بنتے بلکہ اسلحہ سازوں کی بہترین مارکیٹنیگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔۔
 گزشتہ چند برسوں میں اسلحے کی عالمی تجارت کو دیکھا جائے تو اندازہ ہو جائے گا کہ اسلحہ کی تجارت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور یہ ایک بہت بڑا منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔صرف 2014میں64.4ارب ڈالر کی اسلحہ کی تجارت ہوئی۔گزشتہ دو سالوں سے اسلحے کی فروخت میں امریکہ پہلے نمبر پر رہا جبکہ اس کے بعد روس ، فرانس،برطانیہ اور جرمنی کا نمبر رہا۔ اسلحہ کی خریداری میں مسلمان ممالک سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے ممالک ہی سب سے بڑے خریدار ہیں اور اسلحہ فروخت کرنے ولا سب سے بڑا ملک امریکہ جس نے 2013میں 6ارب ڈالر اور 2014میں 8.04ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا ، باقی یورپی ممالک کی تجارت اس کے علاوہ ہے۔امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ فروخت کرنیوالے ملک کا درجہ حاصل کر چکا ہے اسلحہ کی عالمی تجارت میں جس کا حصہ تقریباً 35 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ یورپ کی معیشت کا زیادہ تر دارومدار اسلحہ کی فروخت کا مرہون منت ہے اور جس سے یورپ 2008 کے سنگین اقتصادی و مالی بحران سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے عالمی جائزوں کے مطابق 2014ء میں فرانس نے 1489 ملین ڈالر، برطانیہ نے 1394 ملین ڈالر، جرمنی نے 972 ملین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔ اس لسٹ میں جتنا چاہے اجافہ کرتے جائیں شیطان کی آنت چھوٹی پڑ جائے گی مگر یہ لسٹ نہیں۔
مْقصد کہنے کا یہ ہے کہ جنگوں کے پیچھے چھپے مفاد تو یہ بتاتے ہیں کہ یہ ملک گیری کی ہوس کے ساتھ اپنے ملکی خزانوں کو بھرنا ،طاقت کا اظہار کرنا ہوتا ہے ۔ لیکن ان جنگوں کے نتیجے میں جنم لینے والے المیے بہت ہی ہولناک ہوتے ہیں جن کے بیان کا یارا ہم جیسے لوگوں میں تو نہیں ہے لیکن پھر بھی کچھ معروضات کا اظہار اس لئے ضروری ہے کہ جنگ سے زیادہ امن انسانی بستیوں کی بقا کے لئے ضروری ہوتا ہے اب یہی دیکھ لیں یمن تنازعے میں اب تک کی رپورٹس کے مطابق یمن کے شہر عدن میں انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جنگ نے اس کو ایک ’گوسٹ شہر‘ یعنی بھوت نگری بنا دیا ہے۔رابرٹ گوسن نے کہا کہ شہر میں ہنگامی بنیادوں پر طبی سامان کی ضرورت ہے۔
 جبکہ عالمی ادار صحت کا کہنا ہے کہ ابھی تک جنگ میں 540 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔حالیہ مہینوں میں یمن میں مختلف گروہوں کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے۔ان میں سب سے اہم حوثی قبائل اور ملک سے فرار ہو کر سعودی عرب میں پناہ لینے والے صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی وفادار فورسز کے درمیان لڑائی ہے۔گوسن کا کہنا ہیکہ ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے لوگ ہسپتالوں میں مردہ حالت میں لائے جاتے ہیں یا پھر ہسپتالوں میں ہی مر رہے ہیں۔‘ ہسپتالوں میں مناسب طبی سامان اور درست عملہ نہیں ہے۔ لوگ کہیں بھی نظر نہیں آتے، وہ چھپے ہوئے ہیں۔ معیشت بالکل رک چکی ہے۔‘ گلیاں کوڑے کرکٹ اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے بھر چکی ہیں۔ جبکہ سعودی عرب کے فضائی حملے پر تنقید کرنے والے کہتے ہیں کہ حملے کی وجہ سے ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں کم از کم 74 بچے بھی شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک اس لڑائی میں 1,700 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔یمن میں جنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہیں۔حوثیوں کی جانب سے ہونے والے حملوں میں آئے دن لوگ زخمی اور ہلاک ہو رہے ہیں اور اتحادی فضائیہ کی جانب سے روزانہ بمباری ہو رہی ہے۔بعض ڈاکٹر اور نرسیں باہر نکلنے سے خوفزدہ ہیں کیونکہ انھیں اپنی جان کا خطرہ ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ ان انسانی المیوں پر کسی کی نظر نہیں جارہی آج کے دور میں جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی زمین میں چپھے راز بھی طشت ازبام کر رہی ہے وہاں قتل و غارت کیسے چھپ سکتا ہے سوشل میڈیا پر ہر روز ان المیوں کے شکار حرماں نصیبوں کے دکھ بیان کئے جارہے ہیں مگر نفرت کے بیوپاریوں اور اسلحہ کی فروخت سے ملکی معشیت چلانے والے ملکوں کو انسانی المیوں سے کوئی غرض نہیں انہیں ا س بات کی بھی پرواہ نہیں کہ بارود برستی دھرتی پر پھول کبھی نہیں کھلتے ۔ کاش مسلم ممالک کی تنظیم او ائی سی ہی مسلم مالک میں جاری جنگوں کو روکنے کے لئے اپنا کوئی کردار ادا کرے جس کی ا س وقت بہت ضروت ہے تاکہ مشرق وسطی میں مذید آگ پھیلنے سے محفوظ رہ سکے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-04-22

کالم نگار     :     ڈاکٹر اویس فاروقی

ڈاکٹر اویس فاروقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-