بند کریں
پیر اپریل

جنسی بے راہ روی : معاشرے کے لئے زہر قاتل

حافظ ذوہیب طیب :

کچھ روز قبل ہی خواتین کے حقو ق کے لئے کام کر نے والی این ۔جی۔او کی سر براہ سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک مفصل رپورٹ میرے سامنے رکھی۔ دہلا دینے والے اعداد و شمار تھے کہ کہاں کہاں اور کس طرح خواتین کو جنسی ہراساں کیا جاتا ہے اور پھرجس کے نتیجے میں کتنی زندگیاں اُجڑ چکیں، کتنے گھر بر باد ہوئے ۔
کچھ ر وز قبل برادرم علی معین نواز ش کا کالم”میرے خدا !ہمیں معاف کر دینا“نظروں کے سامنے سے گذرا جس میں انہوں نے ایک گھرانے کی تباہی کا ذکر کیا ہے اس میں بھی انہوں نے پڑھے لکھے اور شریف گھرا نے کی ایک ایسی لڑکی کا ذکر کیا جوایسے مافیا کا شکارہو چکی تھی جس نے پہلے تو اسے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں اس کی ویڈیوبھی نشر کر دی گئی۔ جس کے نتیجے میں اُس لڑکی نے کچھ دنوں بعد اپنے آپ کو پھندا لگا کے لوگوں کے طعنوں سے اپنے آپ کو آزاد کر لیا،باپ بھی اس صدمے کو برداشت نہ کر سکا اور دل کے بند ہو جانے کی وجہ سے دنیا چھوڑ کے چلا گیا، بھائی اس غم کو بھولنے کی کوشش میں نشے کا عادی ہونے کی وجہ سے نہ زندوں میں ہے نہ مردوں میں جبکہ ماں بھی ایک چلتی پھرتی لاش بنی ہوئی ہے
قارئین !مجھے بہت افسوس کہ ساتھ یہ بات لکھنی پڑرہی ہے کہ ہمارا معاشرہ بھی ان بد نصیب معاشروں میں شمار ہو تا ہے جہاں نہ صرف دفتروں میں ملازمت کر نے والی خواتین بلکہ تعلیمی اداروں میں طالبات کو بھی کسی نہ کسی صورت میں جنسی ہراسانی کا سامنا کر نا پرتا ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق سرکاری و نجی تعلیمی اداروں بالخصوص یونیورسٹیوں میں پرچوں کی چیکنگ،امتحانی نتائج میں نمایاں کار کردگی ،بہتر گریڈاور قواعد و ضوابط میں نر می کے عوض اساتذہ اور دوسرے عملے کی جانب سے طالبات کو جنسی ہراساں کئے جانے والے واقعات آئے روز سامنے آتے ہیں لیکن ادارے کی انتظامیہ بد نامی سے بچنے کے لئے ایسے واقعات کو چھپانے اور معاملہ ختم کر نے کی کوشش کرتی ہے جس کے نتیجے میں یا تو درندہ صفت لوگ اپنے ناپاک ارادے میں کامیاب ہو جاتے ہیں یا پھر طالبات تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو تی ہیں لیکن یہ بات سُن کے روح کانپ اُٹھی ہے کہ اکثر واقعات میں درندوں کو اپنے مقصد میں کامیابی مل جاتی ہے ۔
 جنسی ہراسانی کے انسداد کاخصوصی قانون 2010میں منظوری کے بعد نافذ کر دیا گیا تھا جس کے تحت جنسی تر غیبات،جنسی پیش قدمی،جنسی استدعا اور جنسی تذلیل کی تما م نا پسندیدہ صورتیں خواہ وہ زبانی ، تحریری یا جسما نی کسی بھی نوعیت کی ہوں قابل تعزیر جرم قرار دی گئیں ہیں ۔ لیکن تعلیمی اداروں میں اس قانون کے حوالے سے کوئی شعور بیدار نہیں کیا جا تا جسکی وجہ سے جنسی ہراسانی کے 90فیصد سنگین واقعات کی شکایت درج ہی نہیں کرائی جاتی اور جو طالبہ ہمت کر کے شکایت درج کر اتی ہے تو موثر ثبوت پیش نہ کر نے پر ہراساں کر نے والے افراد سزا سے بچ جاتے ہیں۔
قارئین محترم !مزید ظلم یہ ہے کہ قانون نافذ کر نے والے اداروں کی غفلت کی وجہ سے جہاں جنسی ہراسانی کے کیسزمیں اضافہ ہو تا جا رہا ہے وہاں لاہور سمیت صوبہ بھر میں بڑے شہروں میں جسم فروشی جیسے مکروہ دھندے میں ملوث مافیا نے بھی پنجے گاڑ لئے ہیں ۔ یہ مافیا بھی مکروہ کاروبار کی تشہیر اور رابطے کے لئے انٹرنیٹ ،ویب سائٹس اور سوشل میڈیا سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے علاوہ پولیس میں موجود کالی بھیڑوں سے مک مکا کر کے اپنی مذموم سر گر میاں جاری رکھے ہوئے ہے۔حسا س اداروں کی رپورٹ کے مطابق شہر لاہور کے مختلف علاقوں میں 673فحا شی کے اڈے قائم ہیں ۔ یہ اڈے زیادہ تر ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز،مساج سینٹرز،ڈانس اکیڈمیز اور بیوٹی پالر کی آڑ میں دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ جہاں پہلے ہی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہے وہاں ان جیسے ما فیا کی کھلے عام برائی کو پھیلانے کی وجہ سے بالخصوص نوجوان نسل تباہی وبر بادی کے دہا نے پر کھڑی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب اختیار نسل نو کی صلاحیتوں کو تباہ و برباد کر کے انہیں بے راہ روی کی شاہراہ کا مسافر بنا نے والے مافیا کے خلاف کوئی واضح اور فوری اقدامات کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی میں ملوث افراد اور انٹر نیٹ اور سوشل میڈ یا کے ذریعے فحاشی کا زہر پھیلانے والے لوگوں کے خلاف شکنجہ تنگ کیا جائے اور جنسی ہراسانی کے قانون کو مزید مضبوط بناتے ہوئے ایف۔ آئی۔ اے اور خفیہ اداروں میں با ضمیر لوگوں پر مشتمل ایک سیل قائم کیا جائے جو ہر سفارش سے با لا تر ہو کے لوگوں کی زندگیوں کو بر باد کر نے والے مافیا کو قرار واقعی سزا دیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-04-19

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-