بند کریں
منگل اپریل

کیاایران امریکی سازش کی بھینٹ چڑنے جا رہا ہے ؟

یونس مجاز :

صاحبو ! پاکستان اور ترکی یمن کے حوالے سے انتہائی مشکل میں ہیں میں نے اپنے گزشتہ کالم میں کہا تھا کہ امت مسلمہ کے خلاف برسر پیکار عالمی سازشیوں نے یمن وار کے دھاگے اس مہارت سے الجھائے ہیں کہ سلجھانے کے لئے کہیں زیادہ مہارت کی ضرورت ہے پاکستان یمن کے حوالے سے آگے جائے تو منہ نہیں رہتا پیچھے ہٹے تو پیٹھ نہیں رہتی ترکی اور ملائشیا بھی اسی صورت حال سے دوچار ہیں ترکی کے وزیر اعظم کادورہ ایران اور ایران کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان بھی اس مشکل سے نکلنے کے لئے کوئی راستہ نکالنے کے ساتھ ساتھ ایران اور سعودی عرب کو مذاکرات کی میز پر لانا اور امت مسلمہ کو اسلامک ورلڈ وار سے بچاناہی مقصود ہے امریکی انٹیلی جینس اور میڈیا دونوں ممالک کے درمیان خلیج بڑھانے کے لئے سرگرم ہے پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک مشترکہ قرار دا د میں اس مسئلے کو سلجھانے کے لئے یمن کے مسئلہ میں غیر جانب دار رہنے لیکن سعوی عرب کا بھر پور دفاع کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ ثالثی کی کوئی راہ نکل سکے جس کوسعودی عرب اور یو اے ای نے محسوس کرتے ہوئے قدرِ ناراضگی کا اظہار کیا ہے یو اے ای کے وزیرمملکت برائے خارجہ امورڈاکٹر انور قرقاش نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ پاکستان کو یمن بحران پر مبہم موقف کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ اپنے سٹرٹیجک تعلقات کے حق میں واضح موقف اختیار کرنا ہو گا جس کے جواب میں وزارت خارجہ نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تاہم وزیر داخلہ چودھری نثار نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امارتی وزیر کی دھمکیاں ستم ظریفی ہی نہیں لمحہ فکریہ ہے یہ بیان تمام سفارتی آداب کے منافی ہے ہم خودار اور غیرت مند قوم ہیں یہ بیان پاکستانی عوام کی توہین اور نا قابل قبول ہے جب کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے فوری طور پر ترکی کے وزیر اعظم سے ٹیلفونک رابطہ کر کے مشورہ کیا ہے اور دونوں راہنماوٴں نے سعودی عرب کی سلامتی اور تحفظ کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا اعادہ کیا ہے لیکن اسی دوران ایک اہم سعودی شخصیت کا پیغام لے کر سعوی عرب کے مذہبی امور کے وزیر الشیخ صالح عبدالعزیز ہنگامی دورے پر اسلام آباد پہنچے ہیں معاملے کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے جہاں پاکستان کی پارلیمنٹ کی قرارداد کو اس کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے اور کہا کہ پاکستان ہمارے ساتھ ہے اور رہے گا پاکستان سے انتہائی برادرانہ تعلقات ہیں وہاں یو اے ای کے وزیر کے بیان کو محض گلے شکوے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ پر غصہّ بھی وہی کرتا ہے جو آ پ سے محبت کرتا ہے جبکہ پاکستان کو اپنی فوج ہر صورت میں سعودی عرب بھجوانے کے لئے آمادہ کرنے اور اس ابہام کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے کہ اتحادی فوج کے باغیوں پر حملے کسی مذہبی فرقہ کی بنیاد پر نہیں یہ خالصتاْ سیاسی مسئلہ ہے بلکہ حملے ان باغیوں کے خلا ف ہیں جنھوں نے یمن کی ایک قانونی حکومت کو ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے انھوں نے ثالثی کے آپشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ثالثی متحارب گروہوں کے درمیان ہوتی ہے باغیوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوا کرتے مسئلہ کا حل یہ ہے کہ باغی ہتھیار پھینک دیں اور قانونی حکومت دوبارہ بحال ہو انھوں نے الزام لگایا کہ تہران روزانہ کی بنیاد پر اسلحے سے بھرے ہوئے تین بحری جہاز یمن پہنچا رہا ہے جبکہ یہی الزام امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے بھی لگاتے ہوئے ایران کو وارننگ جاری کی ہے کہ ایران ایسا کرنے سے باز رہے ورنہ امریکہ ان جہازوں کو روک لے گاسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ اگر واقعی سعودی عرب سے مخلص ہے تو بیان دینے کے بجائے ان جہازوں کو اب تک روک کیوں نہیں رہا تاکہ ثابت ہو کہ امریکہ کی انفارمشن درست ہے کہیں یہ تونہیں کہ امریکہ ایک بار پھر ویسی شاطرانہ چال چل رہا ہے جیسی اس نے صدام کے ساتھ چلی تھی کہ پہلے کویت پر حملے کے لئے تھپکی دی پھر سعودی عرب کو ساتھ ملا کر عراق کو تباہ کر ڈالا اور آج پھر ایران کو ایک طرف اکسا رہا ہے تاکہ وہ ضد میں آکر اسلحہ بھیجے تو امریکہ کو عربوں کی حمایت میںآ کر ایران کو تباہ کرنے کا موقع مل جائے اور کوئی بھی مسلمان ملک اس کی حمایت کرنے سے قاصر رہے کیونکہ ایسی صورت میں پاکستان ،ترکی اور ملائشیا سمیت دیگر اسلامی ممالک چاہتے ہوئے بھی امریکہ کے ہاتھ کو روک نہیں سکیں گے یہی وجہ ہے کہ امریکہ یمن وار کی آڑ میں سعودی عرب کو خوف زدہ کر کے ایران کے خلاف عرب اتحاد کو ایران کے مقابل لانے کی پالیسی پر گامزن ہے ان حالات میں ایران کو اس سازش کا ادراک کرتے ہوئے امریکہ کی چال کو ناکام بنانے کے لئے جہاں اسلحے کے جہاز بھیجنے کے الزام کی وضاحت کرنی چائیے اور حوثی باغیوں کو ہتھیار پھینکے پر آمادہ کرکے پاکستان اور ترکی کے ذریعے سعودی عرب کے ساتھ مل بیٹھ کر معاملے کو سلجھا لینا چائیے ورنہ د وسری صورت میں ایران دوسرا عراق بن جائے گا ادھر ایک بار پھر وزیراعظم نواز شریف نے اپنے ایک پالیسی بیان کے ذریعے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ سعودی عرب کی کی خومختیاری اور سالمیت ہماری خارجہ پالیسی کا اہم حصّہ ہے بلا شک و شبہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ کھڑے ہیں یمن پر پاکستان کی پالیسی اصولوں پر مبنی ہے اور یہ معاملہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ بھی یمن کی صورتحال پر بات چیت ہوئی ہے ایران پر زور یا ہے کہ یمن پر بات چیت کی جائے اور وہ اپنا کردار ادا کرے قبل ازیں خلیجی ممالک کے سئینر سفارت کاروں کو بھی بریفنگ دی گئی جس میں سفارت کاروں نے پاکستان کے موقف کو سمجھ کر اسے سراہا ہے سعودی وزیر مذہبی امورکو بھی یقیناْ اپنے دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی موقف کو سمجھنے میں مدد ملی ہو گی اسی لئے ان کا لہجہ بھی نرم اور مصلحانہ رہا اگر ایران امریکی سازش کا ادراک کر لے تو بات بن سکتی ہے اور اس وقت اسلامی ممالک کے جو فوجی طاقت کے دو گرپ سامنے آئے ہیں یعنی ایران اورعرب اتحا د ، اگرپاکستان اور ترکی کی ثالثی قبول کر کے اپنے اختلافات ختم کرلیں تو اسلام دشمنوں کے چھکے چھوٹ سکتے ہیں اور اگلے مرحلے میں اپنی اپنی فریکونسی میں رہتے ہوئے اسلام دشمنوں کے خلاف غیر اعلانیہ اتحا دبھی بن جائے تو کیا ہی بات ہے، خدا کرے مجھ جیسے کروڑوں مسلمانوں کی یہ خواہش کبھی عملی شکل اختیار کر جائے آمین، شائد کہ ترے دل میں اتر جائے یہ بات ،کے مترادف اسلامی دنیا کی نظر میرا یہ شعر:
یہ آج کس مقام پہ ہم لوگ آگئے
رکنے کی ہے سبیل نہ صورت سفر کی ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-04-15

کالم نگار     :     یونس مجاز

یونس مجاز کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-