بند کریں
منگل اپریل

فاتح بڑجن

اسرار احمد راجہ :

مغلوں کوکشمیر سے عشق تھا ۔ مغل حکمران ، شہزادے اور شہزادیاں وادی کشمیر جنت نظیر سے والہانہ لگاؤ رکھتے تھے اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے کوشاں رہتے تھے ۔ مغلوں نے کشمیر میں شاہرائیں ، باغ ، باولیاں اور نہریں تعمیر کیں اور دور دراز کے ممالک سے ہنر مند اور کار یگربلا کر آباد کیے ۔ مغلوں نے کشمیر کی زرخیز زمین کا بھی خوب استعمال کیااور ایران و افغانستان کے علاوہ وسطی ایشیاء سے پھلوں اور پھلوں کی ہزاروں اقسام کشمیر کی مٹی سے متعارف کرائیں۔
مغلوں سے پہلے کشمیر اور ہندوستان کو ملانے والے صرف دوراستے تھے جبکہ کشمیر کو چین ، ایران اور مغربی ممالک سے ملانے کے لیے ایک ہی راستہ تھا۔ یہ راستہ کا شغر، ہنزہ ، چترال اور پشاور تک تھا جہاں دنیا بھر کے تاجر ، سیاح ، تاریخ دان اور آوارہ گرداپنے اپنے قصے کہانیوں کی پوتھیاں لیکر آتے اور نئے قصے کہا نیاں اور داستانیں لیکر مشرق و مغر ب میں پھیلی تہذیبوں کی کڑیاں باہم ملاتے ۔اپریل 1884ء کے دن انگریز مہم جو کیپٹن ینگ ہاسبنڈ سلک روڈ کی تلاش میں نکلا اور پیکنگ سے ہوتاہوا اعظیم چینی صحرا تک جا پہنچا ۔ کئی ماہ کی مسافت کے بعد ینگ ہاسبنڈدرہ مسٹاگ سے گزرتا ہوا ہنزہ آیا اوردرہ بروغل کی بلندیوں کو چھوتاہواچترال اور پھر پشاور پہنچا۔ فرانسس ینگ ہاسبنڈ نے وہی راستہ اختیار کیا جس پر چلتے ہوئے ہیون سانگ ، فائین ، مارکوپولو ، البیرونی اور دیگر سیاحوں اور کھو جیوں نے دنیا کی سیر کی ۔ ینگ ہاسبنڈنے اپنے سفری نقشے برجن اہم مقامات کا ذکر کیا ان میں شمشال ، ہنزہ اور چترال کے قلعے نمایاں ہیں۔ فائین ،ہیون سانگ اور البیرونی نے بھی ان مقامات کا ذکر کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم دور سے یہ قلعے آباد تھے جنہیں حملہ آوروں نے کئی کئی بار مسمار اور برباد کیا مگر مقامی حکمرانوں نے انہیں پھر آباد کر لیا۔
کشمیر اور ہند وستان کے درمیان دوسرا اہم راستہ اوڑی ، مظفرآباد ، ایبٹ آباد سے حسن ابدال تک تھا جبکہ تیسرا راستہ جموں ، پونچھ او ر اوڑی سے گزارتا وادی کشمیر میں د اخل ہوتا تھا ۔ کشمیر کی حدود میں اوڑی اور مظفر کے قلعے قدیم دو ر سے چلے آرہے ہیں جبکہ پونچھ شہر کے گرد بھی ایسے آثار موجود ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ پونچھ بھی کسی دو ر میں ایک قلعے ہی میں آباد تھا ۔ اوڑی کا قلعہ ہر حملہ آور نے مسما ر کیا مگر اوڑی کے کھکھوں نے اسے دوبارہ آباد کر لیا ۔ اوڑی اور اقوم کھکھا کا ذکر راج ترنگی اور دیگر قدیم کتب میں بھی موجود ہے۔
مغلوں نے تین راستے متعارف کروائے جنھیں مغل شاہرائیں کہا جاتا ہے ۔یہ شاہرائیں پہلے راستوں کی نسبت زیادہ محفوطظ اور انتظامی لحاظ سے آرام دہ تھیں۔ مغلوں نے ان شاہراؤں پر قلعے ، مسجدیں ، باولیاں ، سرائیں ، فوجی چوکیاں ، درخت اور باغ لگوائے تاکہ مسافر اور مقامی آبادی ان سہولیات سے فائدہ اُٹھائیں۔ مغل شاہراؤں کی تعمیر سے نہ صرف ہندوستان بلکہ ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے کاری گروں اور ہنر مندوں نے کشمیر کا رخ کیا اور کشمیر ی مصنوعات ساری دنیا میں متعارف کروائیں۔ کشمیر ی شال و دوشالے فرانس ، روس اور دیگر دور دراز ممالک تک پہنچنے اور کشمیری زعفران کی مہک نے بادشاہوں اور نوابوں کے دماغوں کو معطر کیا۔ گجرات سے بھمبر ، باغسر ، نوشہرہ ، پونچھ ، کہوٹہ ، حاجی پیر ، اوڑی کو کشمیر سے ملانے والی مغل شاہرا پر بھمبر، باغسر ، کھمباہ ، پونچھ اور اوڑی کے قلعے تعمیر کیے گئے ۔بھمبر ، پونچھ اور اوڑی کے قلعے مغلوں سے پہلے ادوار کے ہیں جن کے اب آثار ہی باقی ہیں۔ باغسر اور کھمبا کا قلعہ آج بھی موجود ہے اور عظمت رفتہ کی یاد لا تا ہے۔ باغسر کا قلعہ پاکستان آرمی جبکہ کھمباہ کا قلعہ بھارتی فوج کے استعمال میں ہے۔ ایک اور مغلیہ شاہرا جسکا آغاز جہلم کے پتن سے ہوتا ہے براستہ میرپور کوٹلی ، مینڈھر ، راجوری سے ہوتا در ہ پیر پنجال کے راستے وادی کشمیر میں داخل ہوتا تھا ۔ مینڈھر تک یہ راستہ ہر موسم میں استعما ل ہوتا تھا جبکہ برفباری کے موسم میں مینڈھر سے پونچھ یا پھر کوٹلی سے پونچھ اور اوڑی پر اُترتا تھا۔ اس مغل شاہرا ر پر منگلا ، رام کوٹ ، بڑجن اور تھروچی کے مقام پر قلعے تعمیر کیے گئے جن کی اہمیت بیان کی جاچکی ہے۔
منگلا کا قلعہ منگلا ڈیم کی وجہ سے محفوظ ہے اور اہم سیاحتی مقام ہے۔ اگر یہ قلعہ عین منگلا بند پر موجود نہ ہوتا تو یقینا کسی جیالے سیاستدان کے عالیشان بنگلے میں بدل چکاہوتا ۔ دوسری صورت میں بڑجن قلعے کی طرح اسے اُکھیڑ کراس کے پتھر فروخت کر دیے جاتے اور زمین پر کسی نو دولیتے وزیر کا ہوٹل ، پلازہ یاشادی حال بن چکا ہوتا ۔
رام کوٹ کا قلعہ بھی ہمارے سیاستدانوں اور نو دولیتے لیڈروں کا منہ چڑانے کے لیے قائم ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ منگلا جھیل کی وجہ سے وہاں تک رسائی ممکن نہیں ۔ راقم نے تین مرتبہ اس قلعے کا نظارہ کیا اور ہر بار اسے نقصان زدہ ہی پایا۔ اس قلعے میں موجود موریتاں اور نقش و نگار سے مزین پتھر کی سلیں اب وہاں موجود نہیں ۔سیاست اور دولت کے پجاریوں سے کچھ بعید نہیں کہ وہ ھنومان جی بھی اپنے گھروں میں سجا لیں یاپھر اپنے سیاسی دیوتاؤں کے چرنوں میں جار کھیں ۔ دیوالی پر قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے اور قومی سطح پر چھٹی منانے کی تجویز دینے والے سیدوں کی بھی اس ملک میں کمی نہیں ۔ ایسے عالم دین اور سیاسی قائدین بھی ہیں جنہیں پاکستان سے گھن آتی ہے اور جن کے باپ دا دا پاکستان بنانے کے جرم میں بھی شریک نہ تھے۔ ایسے سیاستدان جو مودی کی خوشنودی کے لیے دیوالی منانے چل نکلے ہوں وہ قلعے تو کیا قوم کو قربان کرنے اور بیچنے سے بھی دریغ نہ کرینگے ۔
رام کوٹ سے آگے منگلا جھیل کے پار بڑجن کا قلعہ بھی تھا جوا ب نہیں ہے ۔اس سے آگے تھروچی کا قلعہ ہے جواب بھی قائم ہے اور فوج کی تحویل میں ہے۔ بڑجن کا قلعہ وزیراعظم چوہدری عبدالمجید کے حلقہ انتخاب میں آتا ہے۔ بڑجن اور دڑجن میں چوہدری مجید کی برادری آباد ہے اور وزیراعظم کا حلقہ انتخا ب ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ہر طرح کا قانونی اور آئینی تحفظ حاصل ہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر جو ہمیشہ سے ہی اس حلقے سے الیکشن لڑتے ہیں اور اکثریث جیت جاتے ہیں کو اپنے ووٹروں ، عزیز رشتہ داروں اور برادری والوں کی ہر جائز و ناجائز خواہش کا احترام کرنا پڑتا ہے ۔ جناب وزیراعظم کی پشت پناہی سے ان لوگوں نے جی بھر کر جنگل کاٹ کر فروخت کیااور پندرہ میل پر پھیلے رقبہ پر کوئی درخت نہ چھوڑا ۔ سینئر وزیر نے اس رقبے پر اپنے ووٹروں کو آباد کیا اور جنگل کا قصہ ہی ختم کر دیا۔ جناب وزیراعظم کے ووٹروں اور برادری والوں نے بڑجن کا قلعہ مسمار کیا اور قلعے کے پتھر ٹرکوں اور ٹرالیوں میں بھر فروخت کر دیے ۔ سنا ہے کہ کچھ پتھر سینئر وزیر کے محل اور کچھ جناب وزیراعظم کی رہائش گاہ کی چاردیواری کے کام بھی آئے۔ وزیرا عظم کا لقب مجاور اور سینئر وزیر کا شیر کوٹلی ہے جناب وزیراعظم کوچاہیے کہ وہ اپنے نام کیساتھ فاتح بڑجن کا بھی اضافہ کر لیں چونکہ یہ قلعہ ان ہی کی مرضی اور ضرورت کی وجہ سے مسمار ہوا ہے۔ تاریخ میں جب کبھی بڑجن فورٹ کا ذکر ہوگا تو اُس کے تعمیر کندہ اکبر اعظم اور مسمار کندہ چوہدری عبدالمجید کا نام بھی سامنے آئے گا۔ تاریخ دان ضرور لکھے گا کہ بڑجن کا قلعہ مغلوں نے تعمیر کیا اور بڑجن کے جاٹوں نے مسمار کر دیا جس پر حکومت آذادکشمیر نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-04-03

کالم نگار     :     اسرار احمد راجہ

اسرار احمد راجہ کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-