بند کریں
پیر مارچ

یو حنا آباد چرچ حملہ ایک نئی سازش !!!

یونس مجاز :

صاحبو !ایک عرصے سے وطن عزیز دہشت گردی اور فرقہ ورانہ فسادات کی بھٹی میں جل رہا ہے لیکن لاہور میں یو حنا آباد چرچ خود کش حملہ ایک نئی سازش کی نشاندھی کر رہا ہے جواکیس ز ندگیوں کو نگل گیا جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے 70کے قریب افراد زخمی ہوگئے جن میں پانچ مسلمان وہ تھے جو عیسائیوں کے ساتھ خود کش حملوں میں جہاں بحق ہوئے لیکن دو وہ تھے جنھیں مشتعل مظاہرین نے نہ صر ف تشدد کرکے مار ڈڈالا بلکہ انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاشوں پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی جب کہ ایک پولیس اہلکار کو بھی ڈنڈے مار مار کر شہید کر دیا گیا لیکن ہمارے میڈیا نے مغرب کے زیر اثر ماسوائے روٹین کی خبر کے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی اور جلا کر مار دئیے جانے والے افراد کو بغیر تحقیق کے مشتبہ قراردے دیا جن میں سے ایک شخص کی نعیم کے نام سے شناخت ہوگئی جو قصور للیانی کا رہائشی ہے اور علاقے میں سٹیل ایلو مینیم کا کام کرتا ہے خبر سنتے ہی مسلمانون کی ایک بڑی تعداد سڑکونں پر نکل آئی جن کی عیسائی مظاہرین سے کئی مقامات پر ہاتھا پائی ہوئی بگڑتی صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے رینجر کو طلب کیا گیا ذرائع کے مطابق پولیس نے سی سی فٹیج کے ذریعے چھ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے جنھوں نے موٹر سائیکلوں اور گاڑی سے پٹرول نکال کر ان نوجوانوں کو جلایا ان میں مبینہ طور پرد وبھائی یوسف جانسن اور سہیل جانسن بھی شامل ہیں نوجوانوں کو جلائے جانے کی اس سفاک کاروائی پر ہمارے میڈیا نے وہ پھرتی نہ دکھائی دی جو کسی مینارٹی کے قتل پر دکھائی جاتی رہی ہے مغربی ڈالروں کے زیر اثر مینارٹی کے حقوق کا اتنا ڈنڈھورا پیٹا جاتا ہے کہ اکثریتی آبادی اس خو ف میں رہتی ہے کہ کون سے لمحے میں کسی مینارٹی کے حقو ق غضب کرنے کے جرم میں میڈیائی تشدد کا شکار ہونا پڑ ھ جائے گا؟ میڈیا کے اس رویہ نے ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کرد یا ہے کہ ہمارا میڈیاکس کی نمائندگی کر رہا ہے؟ اور کس کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے؟ اس سفاکی پر عالمی میڈیا کی خاموشی تو سمجھ آتی ہے جو مینارٹی کے خلاف ہونے والے واقعات پر واویلا ڈال کر پاکستان کو ایک ایسا ملک ثابت کرنے کی کوشش میں ہو تا ہے جہاں مینارٹی کو تحفظ حاصل نہیں ہے اور اس پروپیگنڈا میں ہمارا ملکی ا لیکٹرانک میڈیا بھی ہمقدم اور ہم آواز ہو تا ہے خصو صا ْ لبرل تجزیہ کار انتہائی سرعت کے ساتھ ٹی وی اسکرین پر پھدکتے دکھائی دیتے ہیں اور دانشوریا اس لیئے جھاڑ رہے ہوتے ہیں تاکہ مغرب کی نظر میں ان کی اہمیت اور بڑھے اور ڈالروں کے لفافے مزید موٹے ہو جائیں یہاں ان کی خاموشی بھی قابل غور ہے پہلے دن واقعہ کے فورا ْ بعد ردعمل کے طور پر احتجاج فطری عمل سہی جس میں مسلمان کمیونٹی بھی شامل تھی لیکن دوسرے دن مطاہرین کا باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سڑکوں پر آنا اور سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا جس میں میٹرو پس کا ٹرمینل بھی شامل ہے جبکہ دوکانوں متعدد گاڑیوں سمیت یگر سرکاری وغیر سرکاری املاک بھی شامل ہیں جلا دی گئیں قابل غور ہے علاوہ ازیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت مینارٹی کے نوجوانوں نے اکثریتی کمیونٹی مسلمانوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جس کے جواب میں مسلمان کمیونٹی کے نوجوان بھی سڑکوں پر آگئے اور ایک تصادم کی سی کییت پیدا ہو گئی سارا دن یہ آنکھ مچولی جاری رہی پولیس کی آنسو گیس کی شیلنگ بھی اس تصادم کے خطرے کو کم کرنے میں کارگر ثابت نہ ہوئی تو مجبورا رینجر کو طلب کرنا پڑا جس کے بعد مذاکرات کے ذریعے معاملہ کو سنبھالہ د یا گیا ایک واقعہ مین مظاہرین نے ایک خاتوں ٹیچر کی گاڑی کو روک کر اس کی گاڑی کے جہاں ڈ نڈوں سے شیشے توڑ دئیے گئے وہاں مبینہ طور پر خاتون کے ساتھ دست درازی کی بھی کوشش کی گئی جس پر خاتون نے مظاہرین سے بچ نکلنے کے لئے اپنی گاڑی دوڑا دی جس کے نتیجے میں دوافراد گاڑی کے نیچے آکرکچلے گئے اور ہلاک ہوگئے بلکہ ایک شدید زخمی بھی ہو گیا اس کی ذمہ داری بھی ان ہی مظاہرین پر عائد ہوتی ہے جن پر تشدد اور بدتمہیزی کی وجہ سے خاتون ڈرائیور کو گاڑی بھگانا پڑی تشدد جلاوٴ گھیراوٴ کا عنصر اس میں شامل کرنے میں کون سی این جی اوز آگے آگے تھیں اس کی تحقیقات بھی ہو نا ضروری ہے چرچ پر حملے کو اس طرح پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جیسے کوئی امتیازی سلوک کی وجہ سے مینارٹی پر حملے ہو رہے ہیں حالا نکہ یہ دہشت گردی کی کاروائی بھی ان د ہشت گردانہ کاروایوں کا تسلسل ہے جو ایک عالمی سازش کے تحت پاکستان میں کی جارہی ہیں جس میں امریکہ ،بھارت اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں ملوث ہیں اس بات کو کیوں بھولا جارہا ہے کہ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق گزشتہ پندرہ سالوں میں پاکستان میں مسیحوں کی عبادت گاہوں پر حملے اورد یگر انفرادی واقعات صرف آٹھ کے قریب ہیں جن میں 135 افراد ہلاک اور 295 زخمی ہوئے جبکہ بھارت کینیا،عراق انڈونیشیاسمیت د یگر ممالک میں بھی مسیحوں کود ہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا جن میں سینکڑوں افرا د ہلاک ہوئے صرف بھارت میں 1996سے 2012 تک مسیحوں کے خلاف دہشت گردی کے 159واقعات ہوئے جن میں گھرجہ گھروں کو نذر آتش اور فائرنگ کی گئی اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے جہاں مینارٹی کو زبردستی ہندو دھرم اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے لیکن عالمی برادری اور میڈیا اسے قابل توجہ خیال نہیں کرتا مگر پاکستان مین ایسے کسی واقعہ کو خوب اچھالا جاتا ہے جس میں کسی مینارٹی کو نقصان پہنچا ہو دراصل اسلام خصوصاْ پاکستان امتیازی سلوک کا شکار ہے ادھر پاکستان میں مساجد امام بارگاہوں اور مزارات پر حملوں کی تعدا د درجنوں میں ہے اور پچاس ہزار سے زائد مسلمان ان حملوں میں جاں بحق ہو چکے ہیں یہ بات بھی طے ہے کہ عبادت گاہوں یا مساجد پر حملے کرنے والوں کو پاکستانی کمیونٹی نہ مسلمان سمجھتی نہ انسان کیونکہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا جس وقت یو حنا آباد چرچ پر خود بمباروں نے حملہ کیا تو انھیں پولیس اہلکار جو مسلمان تھے انھیں روکنے کی کوشش کی اور اس مڈ بھیڑ میں انھیں گولی مار دی گئی جب کہ ایک مسیح نوجوان نے ایک بمبار کو قابو کرنے کی کوشش بھی کی جس پر اس نے خود کش جیکٹ کے ذریعے خود کو اڑا دیا جس کے ننتیجے میں
 وہاں پر موجود لوگ جاں بحق ہوگئے جن میں مسلمان اور عیسائی دونوں کمیونٹی کے لوگ شامل تھے پولیس اہلکار اگر انھیں نہ روکتے اور یہ بمبار چرچ میں گھس جاتے تو یہ جانی نقصان کہین زیادہ ہو تا لیکن سازشیوں نے یہاں بھی اپنا کھیل کھیلنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے پہلی بار مینارٹی کی جانب سے اتنا پر تشدد ردعمل سامنے آیا دراصل یہ وہ سازش ہے جس کے تحت پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کو مذہبی فسادات کا شکار کرنا مقصدہے جس کا بیج بو دیا گیا ہے اس لئے بحثیت پاکستانی مسیح برادری بطور اقلیت اور مسلمان کمیونٹی بطور اکثریت اس بات کا خیال رکھنا ہو گا کہ ملک دشمن کراچی کی طرح لاہو کو بھی بد امنی کا شکار کرنا چاہتے ہیں کراچی میں نائن زیرو سے نیٹو کی اسلحہ کی برآمدگی کے بعدچرچ پر حملہ ایک خاص غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی کارستانی قرار یا جا سکتاہے یعنی سبکی کا غصّّہ یہاں نکالا گیا اس سے پہلے کہ لاہور کو کراچی بنا دیا جائے حکومت اور قومی سلامتی کے ادارون کو چرچ پر ہونے والے خود کش حملے کے مجرموں سمیت خود کش حملہ کے بعدہونے والے واقعات کے اصل سازشیوں کو کیفرکردار تک پہچانا ہو گا ورنہ روائتی سستی کے نتائج خطر ناک ہو سکتے ہیں کراچی کو بھی جان دیو کی پالیسی نے آج اس نہج پر پہنچایاہے جب کہ مسیحی برادری کو بھی اس سازش کا ادراک کرنا ہو گا جن کی آبادی 13 لاکھ کے قریب ہے جبکہ سب سے زیادہ مینارٹی ہندو برادری کی ہے جو 14لاکھ ہیں جن کی اکثریت سندھ میں آباد ہے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں مینارٹی کو بھارت کی نسبت ذیادہ تحفظ اور حقوق حاصل ہیں اور صدیوں سے مسلمانوں اور عیسائی کمیونٹی میں ایک بھائی چارے کی فضا قائم ہے جسے اب بھی قائم رکھنا دونوں طرف کی ذمہ داری ہے ۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-03-24

کالم نگار     :     یونس مجاز

یونس مجاز کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان