بند کریں
ہفتہ مارچ

پولیس کی سپرٹ واپس لوٹائی جائے

حافظ ذوہیب طیب :

کاش اگر پولیس ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی طاقت کا استعمال کرتی تو شاید دو نوجوانوں کو زندہ نہ جلا یا جا تا، ان کے جسموں کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے سڑکوں پر نہ گھسیٹا جا تا، سر کاری املاک کی توڑ پھوڑ اور لوگوں کی گاڑیوں کو تبا ہ بر باد کر کے جشن نہ منا یا جا تا۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ پولیس نے بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد اپنے ساتھ پیش آنے والی ذلالتوں کی وجہ سے اور اپنی عزتوں کو بچا نے کے لئے ”سیز فائر“ والی پالیسی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے ۔
جس کی ایک اہم وجہ ماڈل ٹاؤن سانحے میں ان کے ساتھ روا ء رکھا جانے وہ ناروا سلوک ہے جس میں سیاسی رہنماؤں نے اپنی طا قت کے نشے میں مست ہوکے شہریوں پر ہلہ بولنے کے احکامات جاری کئے اور پھر خود اپنی معصومیت کی دلیلیں دیتے ہوئے تما م کا تما م ملبہ اِن پولیس والوں پر ڈال دیا گیا جو ابھی تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنے نا کردہ گناہوں کی سزا کاٹتے ،نفسیاتی امراض کا شکار ہو کے اپنے گناہوں کے بارے دریافت کرتے ہیں؟۔
قارئین ! لمحہ فکریہ ہے کہ جرائم کا قلع قمع کر نے، لوگوں کے مال وجان کی حفاطت کر نے والا محکمہ پولیس اب خوف اور مخمصے کا شکا ر ہے۔ ملازمین تو ملازمین افسران کو بھی ”سیاسی آقاؤں“کا حکم نہ ماننے کی پاداش میں سنگین مقدمات میں الجھایا جا تا اور انہیں او۔ایس۔ڈی بنا دیا جا تا ہے۔یہی وجہ ہے احساس کمتری اور مختلف نفسیاتی عوارض کی وجہ سے محکمے کے اندر ”بد دلی“ کا رحجان زور پکڑتا جا رہا ہے اور اب پولیس اپنی اس سپرٹ کے ساتھ کام نہیں کر رہی جس سپرٹ کے ساتھ اسے کر نا چاہئے۔
افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ اس انتہائی گھمبیر اور پریشان کُن صورتحال پر حکمرانوں کو جہاں فی الفور سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے محکمہ پولیس کی از سر نو تنظیم کرتے، اس کی روز بروز کم ہو تی سپرٹ کو واپس لانے کی کو شش ، کسی بڑے نفسیات دان کی خدمات لے کر ان لوگوں کی کونسلنگ کی جانی چاہئے تھی وہاں ایک دفعہ پھر 19سال سے اپنے فرائض کو بخوبی سر انجام دیتے ، نیکو کاراور انتہائی پڑھے لکھے ،سلجھے ہوئے اور قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا تمغہ اپنے سینے پر سجائے پولیس افسر محمد علی نیکو کارہ کو بر طرف کر نے کا حکومتی پروانہ جاری کر نے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
 یہ وہی افسر ہے جس نے سیاسی آقاؤں کی بجائے عوام اور قانون کا ملازم بننے کو تر جیح دیتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج اور شیلنگ کے احکامات کو ماننے سے نکار کر دیا تھا ۔حکام بالا نے اپنے حکم کو نہ ماننے اور اپنی حوس کو تسکین بخشنے کے لئے اس کے خلاف کاروائی کا آغاز کرتے ہوئے ”انکوا ئری کمیشن“ بنا دیا۔ جس کے ممبران میں سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری اور آئی۔جی بلوچستان محمد عمیلش ہیں جنہوں نے حکام بالا کے قہر سے ڈرتے ہوئے ایس۔ایس۔پی محمد علی نیکو کارہ کو نا فر مانی کا مرتکب قرار دیا۔ ایک صاحب کو آئی۔جی پنجاب اور دوسرے کو ایک اہم پوسٹ پر تعینات کر نے کی ”کمیشن“دیتے ہوئے اس کمیشن نے ایس۔ایس۔پی کی وضاحت ،تحریری اور زبانی کو بھی ردکیا بلکہ اس وقت کے ڈپٹی کمشنر اسلا م آباد مجاہد شیر دل کے بیان کو بھی پس پشت ڈالتے اور اس وقت کے قائمقام آئی۔جی ،ڈی۔آئی۔جی خالد خٹک کا بیان لینا مناسب نہ سمجھتے ہوئے یکطرفہ طور پر محمد علی نیکو کارہ کو نا فر مانی کا مرتکب قرار دے دیا۔
قارئین کرام !ملک میں جاری دہشت گردی، بڑھتے ہوئے جرائم ، امن عامہ کی مخدوش صورتحال، ان تما م لعنتوں سے نبٹنے کے لئے پولیس فرنٹ لائن پر کھڑی نظر آتی ہے لیکن اپنے محکمے اور سیاسی رہنماؤں کی طرف سے جاری ”رسہ کشی“ نے ملازمین و افسران کے حوصلو ں کو پست کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں وقو ع ہو نے والے سانحہ یوحنا آباد میں دو معصوم لوگوں کی اذیت ناک موت پر پولیس خامو ش تما شائی کا کردار ادا ء کرتی نظر آئی ہے ۔قابل غور بات تو یہ ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو کوئی بعید نہیں کہ پھر لوگ یونہی قتل ہوتے رہیں گے، عزتیں سر باز نیلام ہو تی رہیں گی، جرائم سر چڑھ کے بولیں گے اور پولیس ایک طرف کھڑی ہوئی دکھائی دے گی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کی کھوئی ہوئی سپرٹ کو واپس لانے کے لئے فی الفور سنجیدہ ہو کے اقدامات کئے جائیں اور انہیں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قانون کے مطابق کام کر نے دیا جائے ،اپنے مفادات حاصل کر نے کے لئے اسے دوسروں کے خلاف ستعمال کر نے کی پا لیسی کو ترک ،اپنی پسند اور نا پسند کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس کے سر براہ کو مضبوط بنایا جائے۔ امید ہے اس طرح پو لیس کا کھو یا ہوا اعتماد کسی حد تک بحال ہو گا اور یہ معاشرے کو دہشت گردی، جرائم کے خاتمے اور بڑھتی ہوئی افرا تفری کو روکنے میں معاون بھی ثابت ہو گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-03-24

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان