بند کریں
بدھ مارچ

بڑھتی ہوئی ضمیر فروشی ،معاشرے کیلئے زہر قاتل

حافظ ذوہیب طیب :

وہ بھی کیا سنہرے دن تھے جب ہر طرح کی فکر سے آزاد ،حالات کے ستم زدہ تھپیڑوں سے نا آشنا جہاں چاہتے دوستوں کی محفل جما لیتے۔ وقت کے پنچرے سے آزاد ہو کے کل کیا ہوا، آج کیا ہو رہا ہے اور کل کیا ہو نے جا رہا ہے جیسے مشکل سوالوں کے جواب تلاش کرتے کتنا وقت بیت چکا اس کاا ندازہ ہی نہ ہوتا تھا۔ دل کے ایک کونے پر نقش وہ قیمتی لمحات کہ آج بھی جب ان کی یاد آتی ہے تو جسم و روح کے خزاں زدہ احساسات ان یادوں کی بہاروں کی وجہ سے ایک ایک کر کے ختم ہوتے جاتے ہیں۔ ان یادوں کو زندہ رکھنے کے آج، دن بھر تھکا دینے والی شدید مصروفیات کی وجہ سے کافی دنوں بعد دوستوں کی محفل میسر آئی جہاں کئی سوالوں کے ساتھ یہ سوال بھی میرے حصے میں آیا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی ضمیر فروشی کے اسباب کیا ہیں، لوگوں کے ضمیر اتنی تیزی سے مرتے کیوں جا رہے ہیں؟سوال کا جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ اس کے پیچھے جہاں بہت سے عناصر پورے زور و شور اور ببانگ دہل کام کر رہے ہیں وہاں ہمارے اپنوں کی مہر بانیاں بھی قا بل ذکر ہیں۔صبح سے شام اور شام سے صبح انجانے میں حرام چیزوں کو اپنی خوراک کا حصہ بنا ئے بیٹھے ہیں جس کے نتیجے میں فحاشی ، عریانی اور ضمیر فروشی ہمارے خون میں اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ الا مان الحفیظ۔
 حرام اورمردہ جانوروں بالخصوص گدھوں کے گوشت کی سر عام فروخت کہ کوئی دن ایسا نہیں گذرتا کہ اخبار میں جس کی شہ سُرخی شا ئع نہ ہو تی ہو۔ حرام اور مردہ گوشت فروخت کر نے والے مافیا کا ساتھ دیتے ہوئے صرف 200روپے کے عوض مذبح خانے کی حلا ل مہر لگانے والے اہلکار سے قصاب تک تما م لوگ اس سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔ پھر حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں وزارت سائینس و ٹیکنالوجی کے ایڈیشنل سیکریٹری 23ایسی حرام اشیا ء کی فہرست منظر عام پر لائے ہیں جو ہماری روز مرہ کی خوراک میں استعمال کی جارہی ہیں۔ان میں چکن سوپ کی ٹکیاں،فروٹ کاکٹیلز،گمی پیزا،پاستہ کریمی چکن وغیرہ شامل ہیں۔ حیرت تو اس کی بات کی ہے کہ پچھلے 67سالوں سے ہم حرام اشیا ء کو استعمال کر رہے ہیں اور کسی ادارے کو اس کی خبر بھی نہیں ہے۔ارباب اختیار کی کار کردگی کا یہ حال ہے کہ قیا م پاکستان سے اب تک کوئی ادارہ ہی وجود میں نہ آسکا جو حرام اور حلا ل کی تمیز کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ نفس پرستی،دھوکہ دہی اور حرام خوری کے امتزاج کی حامل نہ صرف فحاشی و بے حیائی بلکہ ضمیر فروشی کی جووسیع و عریض فصل ہماری زمین پر پک کے تیا ر ہورہی ہے وُہ خوف خدا اورلوگوں کی زندگیوں سے بے پرواہ ہو کے صرف اپنی بھوک مٹانے ،جلد ختم ہو جانے والی بے وفا سانسوں کودائمی سمجھتے ہوئے ضمیر فروشی کی ایسی ایسی داستانیں رقم کر رہے ہیں کہ جنہیں لکھتے اور بیان کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔
قارئین ! ایسی ہی ضمیر فروشی کا ایک واقعہ جو پولیس کے ایماندارافسروں کے توسط میرے علم میں آیا۔ضمیر کو غیرت اور خود داری کی آنچ پرگرم رکھنے والے ۔ ڈی۔ایس ۔پی رانا غلام عباس اور ایس۔ایچ ۔او حماد اختر نے ساندہ میں مو جود ایک ایسی فیکٹری پر چھاپہ مار کے ضمیر فروش گروہ کے کئی ایسے کارندوں کو گرفتا ر کیا جو کئی عرصے سے جعلی و ناقص جان بچانے والی ادویات تیار کر کے پورے پاکستان میں سپلا ئی کیا کرتے تھے۔پکڑے جانے والے ملزمان کی نشا ندہی پر مزید 2جگہوں سے جان بچانے والی ادویات کی صورت زہر تیار کر نے والے کئی لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس بات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے قیمتی جانوں سے کھیلنے والے ان درندوں کو کھلی چھوٹ دینے والے محکمہ صحت کے افسران، ڈرگ انسپکٹر اور ضلعی انتظامیہ ”حرام خوری“میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ میں اس قدر مصروف عمل ہیں کہ انہیں یہ تک یاد نہیں کہ وہ دن بہت قریب ہے جب انہیں اپنی کالی کرتوتوں کا حساب دینا ہو گا، جب انہیں ان معصوم بچوں کے سوالوں کا جواب دینا ہو گا کہ اِن کی ضمیر فروشی نے اُن کے جسم میں دوڑتی پھرتی سانسوں کو ایک ہی پل میں ساکت وجامد کر کے ان کی معصوم زندگیوں کو ہی ختم کر دیا تھا۔
قارئین کرام !اپنے آس پاس وقوع ہوتے ایسے کئی واقعات کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ بات لکھنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہو رہی ہے کہ ہمارا معاشرہ ”ضمیر فروشی“اور” حرام خوری“کی جس شاہراہ کا مسافر بن رہا ہے اُس کا اختتام صرف تباہی و بر بادی کی گہری کھائی پر ہو تا ہے ۔پھر وہاں نہ رشتوں کا تقدس رہتا ہے اور نہ انسانوں کا احترم اور نا ہی وہاں کے باسیوں اور جانوروں میں کوئی بھی فرق با قی رہتاہے۔اگر ہم اب بھی” حرام خو ری “اور ”ضمیر فروشی“ جیسی بے غیرتی کے نجس لباس میں ملبوس اس لعنت سے چھٹکارا حاصل کر نا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ضرورت ہے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنی ذات کا احتساب شروع کرتے ہوئے اپنی اپنی جگہ ایمانداری سے کام شروع کر دے اور اپنے مہر بان رب سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہوئے صراط مستقیم کی شاہراہ کا مسا فر بن جائے ۔ فر مان ِ الٰہی ہے کہ اے میرے بندو ں جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ کی رحمت تو بہت وسیع ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-03-03

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-