بند کریں
منگل مارچ

ایک اور ادارہ ۔۔۔تباہ

سید شاہد عباس :

 قیام پاکستان کے وقت وسائل نہ ہونے کے برابر تھے۔ میں ذاتی طور پہ ایسے افسران سے مل چکا ہوں جو قیام پاکستان کے وقت خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ ہم کہانیوں میں سنتے آئے تھے کہ کیکر کے کانٹوں کو پیپر پن کے طور پہ استعمال کیا گیا۔ لیکن ان افسران کی زبانی پتا چلا کہ یہ صرف کہانیاں نہیں تھیں بلکہ حقیقت تھی۔ ایک سفر کے دوران ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی جو قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں ریلوے کے ساتھ منسلک تھے۔ ان کے بقول ریل میں ایک خاتون کے پاس ٹکٹ نہیں تھا اور ٹکٹ چیکر کا اصرار تھا کہ بناء ٹکٹ سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جب ٹکٹ چیکر نے محسوس کیا کہ یہ خاتون ٹکٹ خریدنے کی سکت نہیں رکھتی تو اس نے اس کو مفت سفر کرنے کی اجازت دینے کے بجائے اپنی جیب سے اس عورت کی ٹکٹ کے پیسے ادا کر دیے۔ یہ اپنے کام سے عشق تھا۔اپنے ادارے سے مخلص وابستگی تھی۔ آج وہی پاکستان ریلوے آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔
عدلیہ کی مثال سامنے رکھیں تو اس وقت ملک میں لاکھوں مقدمات التواء کا شکار ہیں۔ وجہ یہ کہ ججز کی تعداد مقدمات کے تناسب سے نہیں ہے۔ ایک جج کے پاس ایک دن میں بیسیوں مقدمات ہوتے ہیں۔ لہذا انصاف کی دہلیز پہ فراہمی کا وعدہ کسی بھی صورت پورا نہیں ہو سکتا۔ قانون کی بات کرنا ہی شاید وقت کا ضیاع ہے کیوں کہ اس ادارے پہ اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ کتابیں شائع کی جا سکتی ہیں۔ لیکن قانونی ادارے ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح پٹرولیم، اطلاعات، فوج،عدلیہ، توانائی، بلدیات اور اسی طرح کے اور بہت سے ایسے ادارے ہیں جوتباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
کھیل کے شعبے میں ایک وقت تھا کہ پاکستان کا نام پوری دنیا میں گونجتا تھا۔ لیکن اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ پوری دنیا کے کھلاڑی پاکستان کا رخ کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اس ملک کا نظام اتنا ابتر ہو چکا ہے کہ ان کی جان کی حفاظت کی ضمانت بھی نہیں دی جا سکتی۔ اگلے مرحلے میں پاکستان کے کھلاڑیوں نے کھیلوں کو ملکی وقار بلند کرنے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے ذاتیات کو پروان چڑھانا شروع کر دیا۔ دنیا بھر میں کھیلوں سے جڑا تنازعہ ہو توپاکستان کا نام سب سے پہلے ذہن میں آتا ہے بالخصوص کرکٹ سے جڑے معاملات میں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے معاملات میں کسی حد تک آزاد ہے لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم پاکستان اس کے پیٹرن انچیف ہیں۔ یعنی وزیر اعظم اگر سمجھیں کہ معاملات ہاتھ سے نکل رہے ہیں تو وہ معاملات میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
بطور ادارہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو سونے کی چڑیا سے تشبیع دی جاتی ہے کیوں کہ اس کھیل میں ہی بے پناہ پیسہ شامل ہے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ اس ادارے کا چیئرمین بننے کے امیدوار عدالتوں میں آمنے سامنے نظر آتے ہیں۔ بظاہر اس ادارے کا چیئرمین اعزازی یعنی بناء تنخواہ کے ہوتا ہے۔ لیکن اس اعزازی عہدے کا استعمال بھی اس انداز سے کیا جاتا ہے کہ بہت سے "اعزازات " مل جاتے ہیں۔اس ادارے کے "مخلص ملازمین" اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ سے لاکھوں میں تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ خلوص کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ پاکستانی کوچ ہونے کے باوجود تنخواہ ڈالرز میں مقرر کی گئی ہے۔ کھلاڑیوں کا تو ذکر ہی نہ کیجیے۔ لاکھوں روپے ماہوار پہ ملازم ہیں۔ اور کام کیا ہے ؟ صرف کھیلنا۔ اور کھیل کے علاوہ سب کام ہمارے کھلاڑی جانتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ چار سال میں گیارہ کھلاڑی تک تیار نہیں ہو سکے جو ورلڈ کپ میں کارکردگی دکھا سکیں۔ تیاری کا ذرا اندازہ کیجیے کہ تیس کھلاڑیوں کا اعلان ہو گیا۔ اور ورلڈ کپ کے اسکواڈ کا حصہ بننے والے سہیل خان کا نام تک ان تیس کھلاڑیوں میں نہیں تھا اور وہی سہیل خان پہلے میچ میں بہترین باؤلر ثابت ہوئے۔ ٹیم انتظامیہ کی کارکردگی اسی بات سے جھلکتی ہے کہ یونس خان جیسے مڈل آرڈر بلے باز کو اوپنر بھیج دیا گیا۔ وہ بھی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی تیز پچز پر یعنی سادہ لفظوں میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہیں اوپنر ان کا کیریئر ختم کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ واحد وکٹ کیپر کو پہلے دونوں میچوں میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ اس کا خمیازہ یہ بھگتنا پڑا کہ جزوقتی وکٹ کیپر چڑیاں پکڑتے نظر آئے۔ جب ایک ادارہ تباہی کی طرف جاتا ہے تو اس کی تباہی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ اور ورلڈ کپ کی ٹیم سلیکشن سے ہی نظر آتا ہے کہ پی سی بی بطور ادارہ کس تنزلی کا شکار ہے۔ یاسر شاہ جیسا ہونہار لیگ اسپنر جس کی تعریف اپنے وقت کے جادوگر اسپنر شین وارن تک نے کی کو ورلڈ کپ جیسے ایونٹ میں ابتداء کروا دی گئی۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر وہ ورلڈ کپ میں ناکام رہے تو ان کا کیرئیر ہی خطرات کا شکار ہو جائے گا۔ کیا بہتر نہیں تھا کہ انہیں پہلے اس انداز سے پالش کیا جاتا کہ وہ ہر طرح کے حالات سے نبرد آزما ہو سکتے۔ہم کھیلنے ورلڈ کپ گئے لیکن ہمارے کھلاڑی شروعات سے پہلے ہی جرمانے بھرتے نظر آئے۔ فیلڈنگ میں ہم ویسے ہی تیسرے درجے کی ٹیموں سے بھی گئے گزرے ہیں، سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ فیلڈنگ کوچ گرانٹ لیوڈن سے پھڈا ہو گیا۔ اب جو کھلاڑی ایک کوچ سے باہم دست و گریباں ہوں گے وہ اسی کوچ سے بھلا کیا سیکھیں گے۔ اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہم جونٹی روڈز سے قومی ٹیلی ویژن پر تبصرے تو کروا سکتے ہیں لیکن فیلڈنگ کوچ کے لیے ہمارا انتخاب ایک غیر معروف نام ہی ٹھہرا۔ بیٹنگ کوچ کے لیے بھی ہم نے اپنے دور میں اوسط درجے کے بیٹسمین کا انتخاب کیا ۔ دلیل دی جاتی ہے کہ ان کے پاس اسناد ہیں لیکن بیٹنگ ، باؤلنگ، فیلڈنگ اسناد سے نہیں سیکھی جا سکتی ۔ شخصیات کا عمل دخل ہو تا ہے۔ تازہ ترین کارنامہ چیف سلیکٹر صاحب کے جواء خانہ سکینڈل میں ملوث ہونے کے بعد وطن واپسی ہے۔ بطور ادارہ پی سی بی کا یہ فیصلہ ہی حیران کن تھا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ ملازمین کی فوج بھیج دی گئی۔ لیکن ادارہ تو ویسے ہی ایک سابق بیوروکریٹ اور چڑیا والے بابا جی کے اشاروں پہ چل رہا ہے۔ شاید کسی قابل مشیر نے ہی یہ مشورہ دیا ہو گا کہ جناب پاکستان کرکٹ بورڈ جیسے ادارے کو کسی ماہر کھلاڑی کے بجائے ایک سابقہ بیوروکریٹ ہی چلا سکتے ہیں۔ اگر ایک بہترین کھلاڑی بہترین منتظم نہیں ہو سکتا تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک بہترین بیوروکریٹ کیسے کھیل کے تمام شعبوں کو سمجھ سکتا ہے؟
مختصراً یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اس وقت ملک کے باقی اداروں کی طرح تنزلی کا شکار ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ اور کھیلوں کے دیگر ادارے دنیا میں پاکستان کا مثبت چہرہ اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن اس وقت تک یہ تمام ادارے جگ ہنسائی کا ہی سبب بن رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی تباہی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ شائقین قومی ٹیم کی زمبابوے جیسی ٹیم کے خلاف میچ سے قبل بھی جیت کے حوالے سے مخمصے کا شکار ہیں۔ اگر سابق تجربہ کار کھلاڑیوں کی خدمات حاصل نہ کی گئیں۔ اور یہی روش جاری رہی تو یاران ِ وطن پاکستان کرکٹ بورڈ کے حوالے سے یہی کہیں گے کہ ۔۔۔۔۔ ایک اور ادارہ،،،، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-03-01

کالم نگار     :     سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-