بند کریں
ہفتہ فروری

حرا،ہجرت اور خدمت

حافظ ذوہیب طیب :

آصف محمود جاہ سے میرا با قاعدہ تعارف سفر حج پر لکھی گئی ان کی کتاب ”اللہ،کعبہ اور بندہ“ سے ہوا۔ کتاب کو پڑھ کے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کعبہ شریف کی کالی چادر سے لپٹے ندامت کے اشکوں سے اپنے رب کو راضی کر رہے ہیں ، روضہ رسول ﷺ کی سنہری جالیوں کو تھامے کسی اور جہاں کے مسافر بنے ہوتے ہیں، غار حراء کے کالے اور مبارک پتھروں کو چوم کے عشق کی پیاس بجھارہے ہوتے ہیں ۔ شروع سے آخر تک صاحبِ کتاب کتاب پڑھنے والے کو اپنے پُر تاثیر لفظوں کے ذریعے مکہ سے مدینہ، جنت المعلیٰ سے جنت البقیع،غارِ حرا سے غار ثور تک کے تما م سفر میں روحانی طور پر شامل کر لیتے ہیں۔
کتاب کو پڑھنے کے بعد ڈاکٹر صاحب سے تعلق گہرا ہوتا چلا گیا اور جواب قلبی و روحانی تعلق میں تبدیل ہو گیا ہے جس میں اہم کردار ان کی درویش صفت شخصیت اور خد مت خلق کا جذبہ ہے ۔ڈاکٹر آصف محمود جاہ اس سر کار کے ملازم ہو نے کے ساتھ بڑی سرکار کے ملازم ہونے کے بھی فرائض بخوبی سر انجام دے رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ خدمت انسانیت کے ہر مورچے پر فرنٹ لائن پر کھڑے غریبوں، ناداروں اور دکھوں کے ماروں کو سینے سے لگاتے ،ان کے دکھوں کا مداوا کرتے نظر آتے ہیں جس کا میں نے ذاتی طور پر مشاہدہ کیا ہے۔
بقول اوریا مقبول جان: ”ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا کمال یہ ہے کہ وہ ایسے بے اماں اور بے گھر لوگوں کے لئے پروانہ وار نکل کھڑے ہوتے ہیں۔خدمت کا جذبہ تو بہت سوں کے دل میں موجزن ہوتا ہے لیکن کچھ کر گذرنے کی ہمت صرف ڈاکٹر صاحب کا خاصہ ہے ۔ صاحب دل تو وہ ہیں لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ وہ ایک صاحب قلم بھی ہیں۔اپنے ان جذبوں کی روداد بھی لکھ ڈالتے ہیں اور لوگوں کے دُکھوں کی کہانی بھی۔ہر سفر ایک کتاب لے کر بر آمد ہوتا ہے ۔ان کا کام آنے والے وقت کے لوگوں پر ایک احسان عظیم ہے جو شاید بھول جائیں کہ ہم کن ادوار سے گزرے ہیں۔
کچھ مہینے قبل ڈاکٹر صاحب کے قافلہ خدمت و علاج کے ہمراہ متاثرین وزیرستان کے ساتھ یوم دفاع کی تقریب منا نے کے لئے جب دو دن غم کے مارے ، اپنے گھروں سے بے گھر ان لوگوں کے ساتھ گذارے۔ وہ لمحات” حرا،ہجرت اور خدمت “کے مطالعے کے دوران ایک دفعہ پھر آنکھوں کے سامنے آگئے ہیں۔
یہ کتاب شمالی وزیرستان کی شہزادی ،چھوٹی سی پیاری بچی حرا کی شمالی وزیرستان سے ہجرت کر کے بے سر وسامانی کے عالم میں لاکھوں ہم وطنوں سمیت بنوں اور اس کے نواح میں آن بسنے کی کہانی ہے ۔حقیقت میں یہ ایک ایسے المیے کی کہانی ہے جس کے اثرات شمالی وزیرستان اور اس کے گردو نواح تک ہی محدود نہیں رہے بلکہ اندرون اور بیرون ملک اس کی باز گشت سنائی دی اور نہ ہی وہ اثرات اتنے عارضی ہیں کہ ذہنوں سے جلد محو ہو سکیں۔
قارئین!حرا، ہجرت اور خدمت “میں بھی ”اللہ،کعبہ اور بندہ “ جیسی تاثیر پائی جاتی ہے جس کا ہر لفظ پڑھتے ہوئے آنکھوں سے آنسوؤں کا بحر بیکراں روا ء ہو جا تا ہے۔ قائد اعظم کے پاکستان کے باسی کس قدرکرب وابتلاء کا شکار ہیں،دہشت گردی کے بے قابو جن نے کس قدر تباہی مچائی ،پاکستانی عوام نے اپنے بے گھر بھائیوں اور بہنوں کو اپنے گھروں میں جگہ دے کر کس طرح انصار مدینہ کی یاد تازہ کی، علاج ،خدمت اور اُنسیت کے ٹریڈ مارک ڈاکٹر آصف محمود جاہ اور ان کی مستعد و متحرک ٹیم نے کن کن مشکلات کا سامنا کیا اور لوگوں کی خدمت کے لئے کہاں کہاں پہنچے اس کتاب کو پڑھتے ہوئے بخوبی اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
قارئین محترم !لفظوں کی صورت انمول موتیوں سے مزین اس کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے حصے میں شمالی وزیرستان کی شہزادی حرا اور اس کے لاکھوں ہم وطنوں کے ساتھ گزارے ہوئے لمحوں کی داستان ہے ۔ ایثار و جذبے کی کہانی اور مواخات مدینہ کی زندہ جاوید مثال مواخات بنوں کا ذکر ہے۔ دوسرے حصے میں دنیا کے بیشتر ممالک میں اندرونی تنازعات کی وجہ سے نقل مکانی کر نے والے افراد کے بارے میں بنیادی معلومات دی اور IDPsکے حقوق کے بارے میں بحث کی کئی ہے ۔تیسرے حصے میں اللہ کی راہ میں مختلف ہجرتوں کا تذکرہ ہے جس میں بالخصوص 1947کا ذکر کیا گیا ہے جس میں نوے لاکھ سے زائد مسلمانوں نے آگ اور خون کا دریا عبور کر کے اور لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر پاکستان ہجرت کی۔کتاب کے چوتھے حصے میں ستمبر2014میں پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں اور مارچ 2014سے تھر کے قحط زدہ علاقوں کے حالات اور ستم ظریفیوں کا تذکرہ جبکہ کتاب کے پانچویں اور آخری حصے میں IDPs،سیلاب زدگان اور تھر کے قحط زد عوام ، اُن کی حالت زار اور اُن کے لئے کسٹمزہیلتھ کئیرسوسائٹی کی خدمات کے بارے میں قلمکاروں کے کالم شمار کئے گئے ہیں۔
بلا شبہ”حرا،ہجرت اور خدمت“ لفاظی یا فصاحت و بلاغت کا شاہکار کوئی سکہ بند کتاب نہیں بلکہ خدمت اور جذبہ انسان دوستی سے سر شار مختصر قافلے کی داستان ِایثار کی ایسی دستاویز ہے جو سسکتی اور دُکھی انسانیت کے دُکھوں اور تکلیفوں کے مداواکے لئے ہر وقت کمر بستہ رہتی ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-02-27

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-