بند کریں
ہفتہ فروری

تحمل ، رواداری اور برداشت کا فقدان کیوں؟

ڈاکٹر اویس فاروقی :

آج ہمیں ہر طرف افراتفری ، بے چینی اور پریشانی نظر آتی ہے فرد کا فرد سے اعتبار اٹھ چکا ہے ہر فرد دوسرے کوشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کی آخری انتہاوں پر ہے بطاہر خوبصورت دکھنے والی عمارت اندر سے زنگ آلود ہو چکی ہے المیہ دیکھئے معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کی طرف ارباب اختیار کی نظر بھی نہیں جا رہی، کسی بھی معاشرے عروج بنیادی قدروں کی پسادری کا مرہون منت ہوتا ہے اور اگر یہ قدریں ختم ہو جائیں تو اس کا زوال شروع ہو جاتا ہے ، تحمل اور روادری پر امن معاشروں کے عمارت کی بنیادی اینٹ قرار پاتی ہیں اور جس معاشرے میں تحمل اور رواداری اٹھ جائے وہ انسانی معاشری کم اور جنگلی معاشرے کا نقشہ زیادہ پیش کرتا ہے میرا یورپ امریکہ اور مغربی ممالک میں جانا رہتا ہے ان معاشروں کی خوبی یہ ہے کہ یہاں ہر فرد دوسرے کی خدمت اور کامنے پر یقین رکھتا ہے ، چھوٹی چھوٹی غلطی پر ’ سوری کہنا ، کسی نے کوئی کا کر دیا راستہ بتا دیا ’تھینکس ، کسی کو مشکل میں دیکھا تو ’کیا میںآ پ کی مدد‘ کرسکتا ہوں جسیے جملے اور مسکراہٹ ان معاشروں کا خاصا ہے یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں کے افراد کے چہرون پر بشاشت اور رونق نظرئے گی جبک ہمارے ہاں نوجون چہرے بھی مرجھائے اور کملائے نظر آتے ہیں وجہ بات بات پر لڑنا جھگڑنا ، تو تکار تحمل ، روادری اور برداشت جیسے خوبصورت روئیوں کے فقدان کا نتیجہ ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ گزشتہ دنوں” ادارہ فکر جدید اور ساوتھ ایشن کالمسٹ کونسل “ کے باہمی اشتراک سے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا نششت کے شرکاء جن میں دانشوروں کی اکثریت تھی نے معاشرے میں تحمل، روادری اور عدم برداشت جیسے رویوں کی بنیادی وجوہات اور حل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ، مقررین نے معاشرے میں روادری کے فقدان کے حوالے سے کافی اہم نکات اٹھائے اور ان کا حل پیش کرنے کی کوشش بھی کی گئی ، جبکہ فوکس اس بات پر رہا کہ ہم اگر اپنے اپنے حلقہ احباب میں تحمل، روادری اور برداشت جیسے روئیوں کے فروغ کے لئے کام کر سکیں تو اس سے روادری کے فروغ کے لیئے کی جانے والی کوششوں کا حصہ بن کر معاشرے کی بہتری میں کردار ادا کر سکتے ہیں جبکہ آئندہ چند دنوں میں ایک سیمنار” روادری اور میڈیا کا کردار“ کے انعقاد پر اتفاق کرتے ہوئے نشست اختتام پذیر ہوئی۔ میں سمجھتا ہوں اس وقت ہمارے معاشرے کی جو حالت بن چکی ہے جس میں عدم برداشت اور تحمل اور رواداری کے فقدان کے ساتھ افراد معاشری ایک دوسرے کی نظروں میں مشکوک قرا پاچکے ہیں اس طرح کی فکری نشستوں کا انعقاد بہت ضروری ہے جن میں دلیل اور مکالمے کوفروغ دیا جائے تا کہ ایک بہتر معاشرہ تخلیق ہو سکے۔
میانہ روی ، رواداری، تحمل مزاجی ، ایک دوسرے کو برداشت کرنا، معاف کر دینا اور انصاف کرنا یہ وہ خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے معاشرے میں امن و چین کا دور دورہ ہوتا ہے۔ جن معاشروں میں ان خوبیوں کی کمی ہو تی ہے وہاں بے چینی ، شدت پسندی ، جارحانہ پن ، غصہ، تشدد، لاقانونیت اور بہت سی دیگر برائیاں جڑ پکڑ لیتی ہیں، معاشرے کا ہر فرد نفسا نفسی میں مبتلا نظر آتا ہے، یہ نفسانفسی معاشرے کی اجتماعی روح کے خلاف ہے اور اسے گھن کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی معاشرے 1979 سے عدم برداشت کے رجحان میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے افراد کی اکثریت کی قوت برداشت ختم ہو چکی ہے اور رواداری جیسی اعلیٰ صفت معاشرے سے عنقا ہو چکی ہے۔ ہر فرد دوسرے کو برداشت کرنے کے بجائے کھانے کو دوڑتا ہے، بے صبری ، بے چینی اور غصہ ہر کسی کے ماتھے پر دھرا دکھائی دیتا ہے۔جنرل ضیا کا دور حکومت جس میں فرقہ واریت ، علاقائی اور لسانی تفریق میں اضافہ ہوا یہی وہ دور ہے جس نے ایک پر امن ، تحمل اور روادری پر مبنی معاشرے کو عدم برداشت ،نفرت اور تعصب کی آگ میں جھونک دیا جس کی تپش آج ہر پاکستانی محسوس ہی نہیں کر رہا بلکہ جل رہا ہے اس آگ سے نجات اسی صورت مل سکتی ہے ہر فرد اپنی اصلاح کی طرف توجہ دے اگر کسی سے کوئی غلطی ہو جائے اور وہ کھلے دل سے اسے تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگ لے تو یقینا ً دوسرے کو بھی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاف کرنا پڑے گا اور معاملہ وہیں رفع دفع ہو جائے گا، مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں کا چلن بالکل بدل چکا ہے، بات کو ختم کرنے کی بجائے بڑھاوا دیا جاتا ہے۔عدم رواداری کے اس بڑھتے ہوئے خوفناک رجحان کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں تشدد کے ایسے ایسے لرزہ خیز واقعات پیش آ رہے ہیں کہ جن کا ذکر کرتے ہی روح کانپ اٹھتی ہے اور انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ۔
جس طرح خرابی ایک روز میں پیدا نہیں ہوتی اسی طرح خرابی کو دور بھی ایک روز میں نہیں کیا جا سکتا تحمل، رواداری اور عدم برداشت کی وجوہات کو جانے بغیر ان کا خاتمہ بھی ممکن نہیں ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی بیانیے میں تبدیلی لانے کے ساتھ سکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں تبدیلی ناگزیر ہے جس میں نفرت ، تعصب اور تفاخر کا درس عام ملتا ہے۔ اسی طرح محراب و منبر سے منسلک افراد کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے جوش خطابت میں تبدیلی لاتے ہوئے افراد معاشرہ میں محبت ، یگانت اور رواداری کے فروغ پر مبنی بیانیے کو ترجیح دیں ، معاشرے میں جہالت اور تنگ نظری بہت زیادہ ہے، علم کا پھیلاوٴ نہیں ہے ، جہالت کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ پڑھتے اور کہتے ہیں وہی ٹھیک ہے یعنی ہم مختلف رائے کا احترم نہیں کرتے اور جاننے کی بجائے اسی کو ٹھیک سمجھتے ہیں جو ہمارے مطابق ٹھیک ہوتا ہے ، جہاں جہالت ہو گی وہاں عدم برداشت بڑھے گی، یہی کچھ ہمارئے معاشرے کے ساتھ ہو رہا ہے آج ہمیں اپنے بچوں کے لئے جدید سائنسی بنیادوں پر علم کو فروغ دینے کی ضرورت کے ساتھ بالغ افراد کی تربیت کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی ، تفریحی سرگرمیوں آرٹ اور کلچر کی ترویج کے لئے کام کرنا ہو گا اس سے عام آدمی کی سوچ میں وسعت پیدا ہوگی جس کا خاطر خواہ اثر معاشرے پر پڑے گا اور جارحیت ، غصہ اور تشدد میں کمی ہو گی ، ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے کلچر کی ترویج ہو گی۔ خو ف کے ماحول کو خوشگواریت میں بدلنا ہو گا یہ اقدامات اب ناگزیر ہو چکے ہیں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-02-25

کالم نگار     :     ڈاکٹر اویس فاروقی

ڈاکٹر اویس فاروقی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-