بند کریں
جمعہ فروری

ابھی بھی وقت ہے میرے دوست

ممتاز امیر رانجھا :

#پاکستان ویسٹ انڈیز سے بھی ہار گیا۔خبر
ہم بہت ہی بدنصیب قوم ہیں،اپنے ہاتھوں ڈاکڑ شاہد جیسے دل کے ڈاکٹر کو گولیوں سے مار دیتے ہیں اور اس کہیں بدنصیب ہمارے ملک کے کھلاڑی ہیں جو قوم کی امیدوں کو جیتے جی اپنے ہاتھوں سے ایسا مارتے ہیں کہ پھر کسی کو میچ دیکھنے کی حسرت باقی نہیں رہتی۔ورلڈ کپ میں جانے والی ٹیم کا یوں حشر نشر ہوتے دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ہندوستان سے ہارنے کا زخم ابھی بھرا نہیں تھا کہ ایک ہفتہ بعد ویسٹ انڈیز کی تھرڈ کلاس ٹیم نے بھی ہماری ٹیم کا بیٹرہ غرق کر دیا۔کم از کم میچ سے پہلی بارش لگ جاتی تو ایک ایک پوائنٹ مل جاتا اور تھوڑی نیک نامی بھی رہ جاتی۔قارئین ہمارے کھلاڑیوں میں اگر تھوڑی سے بھی غیرت ہوتی تو ویسٹ انڈیز کی ٹیم بآسانی 200سکور تک محدود رہ سکتی تھی لیکن ”غیرت“ نام کی چیز اب ہمارے کھلاڑیوں کو شاید اچھی ہی نہیں لگتی۔باؤلنگ اتنی غیر معیاری کروائی گئی۔اس کے بعد جب بیٹنگ سٹارٹ ہوئی تو پھر فلاپ خان ہمارا مطلب یونس خان کو صفر پر جاتے دیکھنا نصیب ہوا۔ٹیم کے کرتا دھرتا کو پچھلے میچ سے کوئی سبق حاصل نہ ہوا کہ اس میچ میں اس باہر ہی کردیں۔ناصر جمشید نے بھی پلیٹ میں رکھ کر کیچ دے دیا۔اس کے بعد جتنے آئے ان کو گویا پیٹ میں مروڑ تھے انہیں وکٹ پر رکنا پسند نہیں آیا۔کتنے ہی شرم کی بات ہے کہ 1سکور پر ہمارے4کھلاڑی فارغ ہو گئے۔یقین کرو پاکستان کی کسی گلی محلے کی ٹیم میں قومی ٹیم سے اچھا کھیل سکتی ہے لیکن اس بات کا انداز پاکستانی کرکٹ ٹیم کو کوچ یا کھلاڑی کیسے کر سکتے ہیں کیونکہ وہ تو پاکستانی نام ڈبونے ہی ورلڈکپ کھیلنے گئے ہیں۔اس میچ میں مصباح بھی کوئی کپتان والی اننگ دکھانے میں ناکام رہے۔عمر اکمل کی گیم اچھی رہی لیکن اس کا جانا بھی باقی کھلاڑیوں کی طرح بزدلانہ ہی تھا۔آفریدی نے تو قسم اٹھا رکھی ہے کہ جب بہتر کھیلنا ہے تو 20سے زیادہ سکور نہیں بنانا،کیا کہیں ویسٹ انڈیز سے ہارنے کے بعد اب پاکستانی ٹیم کے باقی میچ نہ دیکھنا ہی غیرت مندی ہے۔ورلڈ کپ کے دو میچ ہار گئے ہیں،قومی امید ہے کہ جلدہی دو تین ہار کے پکے گھر آ جائیں گے اور ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلنے کے لئے اسی قسم کی محنت و عزم جاری رکھیں گے۔ایسے میچ جیتنے پر پاکستانی ٹیم کو اتنی ہی گالیاں اور بدعائیں ملیں گی جتنی واپڈا کو گرمی میں لوڈ شیڈنگ کرنے پر ملتی ہیں۔دبئی میرینا ٹاور کی آگ تو بجھا لی گئی لیکن پاکستانیوں کے ٹیم کے شکست ہونے سے لگنے والی آگ شاید ہی بجھائی جا سکے۔
#بھارت نے پاکستانی کشتی جلائی۔خبر
بھارتی اپنی غلطی کب مانتے ہیں۔ان کنجروں نے پورا مقبوضہ کشمیر جلا کے رکھ دیا ہے یہ لوگ اس میں اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے۔وہاں کی عورتوں کی عزتیں ان کے ہاتھوں نیلام ہوتی ہیں۔وہاں کے نوجوانوں کو یہ شہید کرتے ہیں اور ظلم ڈھاتے ہیں۔ہندو قوم ہی لعنتی قوم ہے جس میں بغض،کینہ اور حسد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ہمارے قیدیوں اور وہاں مقیم مسلمانوں کی زندگی اجیرن کرنے والے بھارتی قیامت تک ذلیل وخوار ہونگے۔کشتی جلا کر حادثے کا ڈرامہ کرنے والے ہر روز پاکستانی سرحدوں پر فائر کھولنے سے باز نہیں آتے۔پاکستان اور پاکستانی حکومت کو ہندوستان سے محتاظ رویہ رکھناہی بہتر ہے،نجانے یہ کب اپنی مکاری دکھا دیں ان کا کوئی بھروسہ نہیں۔ان کی حکومت اور ہندوستانی قوم ہی شروع دن سے پاکستان کے خلاف سازشیں بنتی رہتی ہے۔بس دعا کرو یہ ہم،ہماری عوام ،ہماری حکومت اور مسلمان ان کے ہتھنکنڈوں سے باحفاظت رہیں اور پر امن رہیں۔
#پتنگ بازوں کی فائرنگ سے فیصل آباد میں نوجوان ہلاک۔خبر
پاکستان میں عرصہ دراز سے پتنگ بازی جیسی ختم ہونے کو آتی ہی نہیں۔ اس پتنگ بازی کی وجہ سے نجانے کتنے موٹر سائیکل سوار گردن پر ڈور پھرنے سے،کئی معصوم بچے ڈور پھرنے سے اور سینکڑوں چھت سے گر کر ہلاک ہوئے لیکن ہماری قوم نے پھر بھی سبق نہیں سیکھا۔ کئی حکومتوں نے پاکستان میں اس پر پابندی بھی لگائی لیکن ہماری عوام کو غلط کاموں کا ایسا چسکا ہے کہ بار بار نقصان اٹھا کر بھی باز نہیں آتی۔جس کام میں جتنی خواری ہو ہماری قوم اسے اتنے ہی شو ق سے اپناتی ہے۔سب سے بڑا حق والدین کا ہے کہ وہ اپنی اولا د کو راہ راست پر لائیں اور انہیں یہ منحوس کام کرنے سے ہر گزباز رکھیں۔اس کے بعد انتظامیہ کا فرض ہے کہ آئینی خلاف کرنیوالوں کو،پتنگ بنانے اور اڑانے والوں کو جیل کی دال کھلائیں۔
#ڈاکٹر شاہد چل بسے۔خبر
ڈاکٹر شاہد ماہر قلب کے بہت بڑے ڈاکٹر تھے۔افسوس صد افسوس ہماری قوم میں کتنے سفاک لوگ ہیں جو لوگوں کی زندگیاں بچانے والوں کی جان کے دشمن ہیں۔گویا ہم خود ہی اپنی جان کے دشمن ہیں۔ایک ٹی وی پروگرام کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں 2سے 5ہزار کے عوض کراچی میں ٹارگٹ کلر پیسے لیکر انسانوں کو بآسانی قتل کر دیتے ہیں۔گویا انسان نہ ہوا خدانخواستہ کوئی مچھر مکھی ہو گیا جس کی جان یہ لوگ اتنے دھڑلے سے لینے کے لئے تیا ر ہو جاتے ہیں۔ظالم کو بچو!کچھ خوف خدا کرو، ایک نہ ایک دن تم لوگوں نے خود بھی مر جانا ہے ،کیونکہ بیگناہوں کو قتل کر کے اپنے لئے جہنم کا انتخاب کرتے ہو،اچھے مسلمان بنو اور ایسے کام کرو کہ تمہارے لئے جنت راہ تکتی نظر آئے۔جھوٹ،فریب اور ریاکاری کا شیوہ رکھنے والو!ایمانداری،سچ گوئی اور بھائی چارے کی فضا قائم کرو،نما ز پڑھو،قرآن پڑھو اور راہ راست پر چلو!
ڈاکٹر شاہد کا قتل دراصل ہمارے پورے پاکستانی معاشرے کا قتل ہے،کبھی کسی عالم کو مار دیا جاتا ہے ہے،کبھی کسی استاد کی جان لے لی جاتی ہے ۔ہم سارے پاکستانی اور مسلمان ہیں۔ہمیں تو مشعل راہ ہونا چاہیئے کہ نہ ہم لوگ ہی معاشرے میں انتشار کا باعث بنیں۔چلو سارے اٹھو اور ڈاکٹر شاہدجیسے افراد کی جان لینے والی سوچ کا تدارک کریں۔آؤ ابھی بھی وقت باقی ہے میرے دوست!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-02-23

کالم نگار     :     ممتاز امیر رانجھا

ممتاز امیر رانجھا کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-