بند کریں
جمعرات مارچ

بارک اوباما کابھارتی د ورہ ،مستقبل کا منظر واضح ہو گیا

یونس مجاز :

صاحبو !امریکی صدر بارک اوباما نے بھارت آنے سے قبل ایک بھارتی جریدے کو انٹرویو میں دورہ بھارت کے مقاصداور مستقبل کا منظر واضح کردیا تھا کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں اوبا ما نے جہاں پاکستان پر دباوٴ برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن پاکستان پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گروں کی محفوظ ٹھکانے قبول نہیں ، بھارت کی زبان بولتے ہوئے مزید کہا ہے کہ پاکستان کو ممبئی حملوں کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں ضرور لانا چائیے وہاں بھارت کو گلوبل پارٹنر قرار دینے افغانستان میں اس کی مدد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کا پھیلاوٴ روکنے کے لئے مل کر کام کریں گے ، 26 جنوری کو بھارت پہنچ کر وزیر اعظم مودی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس میں کئے گئے اعلان کے مطابق جہاں امریکہ اور بھارت کے درمیان سول ایٹمی معائدے پر اختلافا ت ختم ،بھارتی مطالبات تسلیم اور امریکہ جوہری مواد کی نگرانی سے دستبردار ہو گیا ہے وہاں امریکی صدر بارک او باما نے سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کے لئے حمایت کا اعلان بھی کیاہے دفاع ،تجارت ،ماحولیات ،ڈرون ائیر کرافٹ کی مشترکہ پیداوار ،فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کے آلات اور قابل تجدید توانائی پر بھی معائدے کئے ہیں اور بھارت کو امریکی خارجہ پالیسی میں سر فہرست قرار دیا ہے امریکہ بھارت سول جوہری معائدہ کی بنیادمارچ 2006 میں رکھی گئی جب اس وقت کے امریکی صدر بش نے بھارت کے د ورہ کے دوران ایٹمی تعاون کی یقین دھانی اس شرط پر کرائی تھی کہ بھارت اپنی سول اور ملٹری جوہری تنصیبات کو الگ الگ رکھے گا اور ساتھ ہی اپنی جوہری تنصیبات کی انٹرنیشنل اکنامک ایجنسی سے نگرانی بھی کرائے گا لیکن اس معائدہ کو حتمی شکل دینے میں کئی سال لگ گئے اور2008 میں یہ معائدہ طے پایا جس کے بعد 48 ممالک پر مشتمل نیشنل سپلائیر گروپ کو راضی کیا گیا کہ بھارت کو ان ممالک سے جوہری ایندھن خریدنے کا اختیار حاصل ہو گا لیکن بھارت کے قانون کے مطابق کسی حادثہ کی صورت میں آپریٹر ملک کے ساتھ ساتھ جوہری بجلی گھر فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی معاوضہ کی ادائیگی کی ذمہ ار ہوں گی جس کی وجہ سے یہ معائدہ کھٹائی میں پڑا رہا لیکن اوباما کے اس دورہ میں 6 سال بعداس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے دو یہودی کمپنیوں نے اپنی خدمات پیش کی ہیں اور ملین ڈالر کا انشورنس پول بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے اور امریکہ جوہری نگرانی سے بھی دستبردار ہو گیا ہے اس صورت حال نے اس تائثر کو اور تقویت پہنچائی ہے کہ امریکہ افغانستان میں شکست کی خفت مٹانے کی کوشش میں ہے جہاں وہ مستقل قیام کے خواب لے کر آیا تھا تاکہ چین کے ساتھ ساتھ، پاکستان ایران،روس اور وسطی ایشیاپر نظر رکھی جا سکے لیکن طالبان نے اس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا تو امریکہ نے بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنے کا مصمم ارداہ کر لیا جیسا کے اس نے روس کے خلاف پاکستان کو روس سے خطرے کا خوف دلا کر استعمال کیا تھا اوباما امریکہ کے پہلے صدر ہیں جنھوں نے بھارت کا دورہ دودفعہ کیا اور ان کی یوم جمہوریہ تقریب میں شرکت کی اس لحاظ سے بھی وہ امریکہ کے پہلے صدر بن گئے ہیں جنھوں نے پاکستان کو نظر انداز کر کے صرف بھارت کا دورہ کیاورنہ اس سے قبل 2000 میں کلنٹن جب بھارت آئے تو چند گھنٹوں کے لئے پاکستان بھی آئے جب کہ بش نے بھی 2006 بھارت کا دورہ اورسول ایٹمی معائدہ بھی کیا لیکن پاکستان کے ساتھ ایسے کسی معائدے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ” میں نے جنرل پرویز مشر ف کو وضاحت کی ہے کہ پاکستان اور بھارت مختلف ممالک ہیں جن کی ضروریات اور تاریخ مختلف ہے بعد میں پاکستان آئے بش کے پاکستان میں لینڈ کرنے سے پہلے پاکستان نے کہا کہ اگر امریکہ سول ایٹمی ٹیکنالوجی نہیں دے گا تو ہم چین سے لے لیں گے،
صاحبو!اب کی بار امریکی شکاری مضبوط جال اور کیل کانٹے سے لیس ہو کر آیا ہے تا کہ بھارت کو پھڑکنے کی مہلت نہ ملے لیکن بھارت کا ٹریک ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ وہ ڈبل گیم کھیل کر روس اور امریکہ سے برابر مفادات حاصل کرتا رہا ہے امریکہ کی خواہش ہے کہ چین کے خلاف بھارت ،جاپان اور امریکہ ایک پلیٹ فا رم پر آجائیں لیکن بھارت اس کے لئے تیار نہیں وہ چین کے خلاف اس حد تک نہیں جائے گا جس کی خواہش امریکہ کر رہا ہے کیونکہ وہ چین سے بھی ایک بڑی معاشی ڈیل کی توقع رکھتا ہے جس کی ایک جھلک ماضی قریب میں چینی صدر کے دورہ بھارت کے دوران دکھائی دی اوباما اس بڑھتی ہوئی قربت کو محدود کرنے آئے ہیں جس میں بظاہر وہ کامیاب دکھائی د یئے لیکن بھارت یہ بھی جانتا ہے کہ دوست تو تبدیل کئے جا سکتے ہیں لیکن ہمسائے نہیں ،بھارت شنگھائی تنظیم کا ممبر بھی ہے جس کے سرگرم ارکان میں روس اور چین شامل ہیں بھارت سلامتی کونسل کی مستقل رکینت اور دیگر دفاعی و معاشی مقاصد کے حصول کے لئے امریکہ اور مغرب کی آنکھوں میں چین سے خطرے کی دھول جھونک رہا ہے باوجود اس کے کہ چین کی پالیسی ہمیشہ جنگ سے گریز رہی ہے چین کی ترقی سے خائف اور خود کو تنہا سپر طاقت برقرار رکھنے کی خواہش رکھنے والا امریکہ اب کی بار بھار ت کو استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے جو چین کی معاشی ترقی کو روکنے کے لئے اس کی سمندری راستہ سے تجارت کو بھارت کے ذریعے مانیٹر کرنا چاہتا ہے لیکن بھارت کی طرح امریکہ بھی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے صدر اوباما نے بھارت میں بزنس گروپس سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ بھارت میں چین سے بھی زیادہ کاروبار کے مواقع ہیں تاہم نئی دلی کی سست معاشی اصلاحات اور عالمی معاملات میں امریکہ سے اختلاف راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں اس بیان سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ امریکہ بھارت سے کیا چاہتا ہے؟ دنیا کی نو ایٹمی طاقتوں میں سے شھ کا تعلق اس ریجن سے اور ان سب کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں جلدیا بدیر خطہ میں موجود روس ، چین ،پاکستان اور بھارت جو کہ اعلانیہ ایٹمی طاقتیں ہیں جب کہ ایران غیر اعلانیہ ایٹمی ٹیکنالوجی کا حا مل ملک ہے اگر اسی طرح اختلافات کی وجہ سے آپس میں دست وگریبان رہے تو کسی وقت بھی ایک چنگاری سارے خطے کو نیست و نابود کر سکتی ہے ؟اگر ان ممالک نے اس امر کا ادراک کرلیا کہ ہزاروں میل دور سے آکر امریکہ اس خطہ کو اپنی ریشہ دوانیوں سے عدم استحکام کا شکار کیوں کئے ہوئے ہے ؟ علاقائی اور فروعی اختلافات کو ہوادے کر ان ہی کے وسائل ان ہی کی تباہی کا سبب کیوں بن رہے ہیں؟ تو امریکہ کو اس خطہ میں جائے پناہ نہیں ملے گی جس نے پہلے روس کو پاکستان کے ساتھ مل کر تباہ کیا اب بھارت کو ساتھ ملا کر چین کے در پے ہے جب کہ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی بھی اسے کھٹکتی ہے ایران کا ناطقہ بھی بند کیئے ہوئے ہے اسی لئے تو وہ کبھی بھارت کو پاکستان اور کبھی چین سے لڑانے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے امریکہ چاہے تو کشمیر کا مسئلہ ایک د ن میں حل ہو سکتا لیکن وہ ایسا ہر گز نہیں ہونے دے گا اسی طرح چین اور بھارت کا سرحدی اختلا ف بھی حل کر لیا جائے تو خطہ میں امن اور خوشحالی کا دور دورہ ہو سکتا ہے لیکن امریکہ ایسا کبھی نہیں چاہے گا کہ روس ،چین ،ایران ،پاکستان ،بھارت ،افغانستان اور وسطی ایشیا کی ریاستیں ایک ایسا بلاک تشکیل دے لیں جس کی بنیاد شنگھائی تنظیم بن سکتی ہے جو باہمی اختلافات مل بیٹھ کر حل کریں تو خطہ میں امن اور خوشحالی کا خواب شرمندہ ِتعبیر ہو ، اسی تناظر میں امریکہ ایران کے ساتھ جوہری معاملہ حل کرنے کی تگ ودو میں ہے کہ کسی طرح ایران قابل عمل حل کی طرف آئے تو اس کے ساتھ روابط بحال کر کے اسے بھی گوادر کے تناطر میں چین کے خلاف استعمال کیا جا سکے جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو پاکستان جغرافیائی لحاظ سے خطے کا اہم ملک ہے اوراسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت بھی جسے کوئی بھی نظر انداز نہیں کر سکتا اوباما بھارت میں اپنا اسلحہ بیچنے ضرور آئے ہیں لیکن ان کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نومبر میں وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کو خود فون کر کے دورہ بھارت پر اعتماد میں لیا تھا جب کہ آرمی چیف جنرل راحیل کو دورہ امریکہ میں زبردست پروٹوکول دیا گیا اور فضل اللہ کے حوالے سے ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی کرائی گی جب کہ آرمی چیف نے بھارت کی پاکستان میں مداخلت کے ثبوت بھی امریکہ کو فراہم کئے امریکہ کی بے وفائی پاکستان کے لئے نئی بات نہیں حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کو دورہ پاکستان کے دوران باور کرایا گیاہے کہ پاکستان اگر چہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جماعةالدعوة اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی کر چکا ہے لیکن بھارت کے متعلق پاکستان کے تحفظات پر مکمل خاموشی کیوں ہے؟ سمجھوتہ ایکسپریس کی ہلاکتیں ،بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی معاونت جیسے معاملات بھی امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں اٹھائے گئے یہ بات بھی نمایاں طور پر پیش کی گئی کہ براہمداغ بگتی جس نے پاکستان کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے بھارتی پاسپورٹ پر سفر کر رہا ہے جان کیری کو بتایا گیا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے لاحق تحفظات ا ٹھاتا رہا ہے لیکن نئی دہلی کے اسلام آباد مخالف پرپیگنڈہ کو دیکھتے ہوئے واشنگٹن ان تحفظات کو نظر انداز کر رہا ہے پاک فوج اپنے داخلی مسائل سے نمٹنے میں مصروف ہے لیکن بھارت مشرقی سرحدوں پر مسائل پیدا کر رہا ہے کیری کو بجا طور پر یہ بھی باور کرایا گیا کہ پاکستان 65سال سے امریکہ کا اتحادی ہے جب کہ بھارت سویت یونین کا اتحادی تھا لیکن اس کے باوجو د امریکہ بھارت کی طرف زیادہ مائل ہے بھارت کی طرف امریکہ کے اس مکمل اور واضح جھکاوٴ نے پاکستان کو یہ باور کرادیا ہے کہ وہ یہاں تک ہی امریکہ کے لئے مفید تھا جس طرح امریکہ نے نیا اتحادی اپنا لیا ہے پاکستان بھی اب لا محالہ روس کے ساتھ مزید روابط بڑھائے گا جس کی شروعات ہوچکی ہیں روس کو بھی بھارت کی یہ بے وفائی یقیناْ پسند نہیں آئے گی مستقبل میں روس ،چین اور ایران سے پاکستان کی مزید قربت بڑھے گی اشرف غنی کی قیادت میں افغانستان بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کا رویہ اپنائے ہوئے ہے ،سو اتنی بھی مایوس کن بات نہیں اس لئے پاکستان کو اس دورہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ضرورت ہے تو اس امر کی کہ پاکستان کی سیاسی قیادت ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر ملکی مفادات کی طرف توجہ دے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-02-06

کالم نگار     :     یونس مجاز

یونس مجاز کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-