بند کریں
پیر فروری

5 فروری ۔ یوم یکجہتی کشمیر

میر افسر امان :

ایک بار پھر 5فروری آیا ہے۔ ہر فروری کو قاضی حسین احمد یاد آجاتے ہیں۔ کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کے لیے ان کی اپیل پر نواز شریف صاحب نے 5 فروری کو پاکستان میں چھٹی کا اعلان کیا تھا۔اس دن پوری دنیا، پاکستان، مقبوضہ اور آزاد کشمیر میں جلسے ،جلوس،انسانی ہاتھوں کی زنجیریں، سیمینار وغیرہ منعقد کر کے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جاتا ہے۔

جماعت اسلامی کراچی نے بھی زیر قیادت جناب لیاقت بلوچ سیکرٹیری جماعت اسلامی پاکستان اور جناب سید صلاح الدین سپریم کمانڈر حزب الجاہدین آزادجموں و کشمیر یکجہتی کشمیر ریلی کا اہتمام کیا ہے۔کشمیری 68سال پاکستان سے ملنے کی تحریک برپا کئے ہوئے ہیں۔ وہ ہر سال بھارت کے یوم آزادی کے موقعے پر سبز پرچم لہرا کر یوم پاکستان مناتے رہتے ہیں۔ مودی نے کشمیر میں جعلی انتخابات کا ڈھونگ رچا کر کشمیر پر اپنا قبضہ مذید مستحکم کرنے کی کو شش کی مگر وہ اس ڈھونگ میں کامیاب نہ ہو سکا۔

اس نے کشمیر میں گورنر راج نافذ کر دیا اور کشمیروں کی مشکلات میں مذید اضافہ کر کے خوش ہو گیا۔جب سے بھارت میں مودی سرکار برسراقتدار آئی ہے کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت برطانیہ ،ہندو اور قادیانیوں کی سازش سے بھارت کو کشمیر میں داخل ہونے کا واحد زمینی راستہ دیا گیا تھا۔ اس طرح بھارت نے اپنی زمینی فوجیں کشمیر میں داخل کیں۔

ہوائی جہازوں سے بھی سرینگر میں فوجیں اُتار دیں۔ کشمیر کی جنگ ِآزادی جو کشمیریوں، پاکستانی فوج اور فاٹاکے قباہلیوں نے شروع کی تھی کو روکنے کی کو شش کی۔پاکستانی فوجیں سری نگر تک پہنچنے والی تھیں کہ بھارت اقوام متحدہ میں گیا اور درخواست کی جنگ بند کر دی جائے ۔ بھارت کشمیروں کو حق خودارادیت دے گا کشمیری عوام اپنی آزاد رائے سے پاکستان یا بھارت میں شامل ہونا چائیں تو شامل ہو سکتی ہیں۔

مگر آج 68سال گزر گئے ہیں۔ بھارت نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ اس وقت سے کشمیری سراپا احتجاج ہیں۔انہوں نے آزادی کی تحریک شروع کی ہوئی ہے۔ آزادی کی جدو جہد میں ایک لاکھ کشمیریوں کو بھارت کی سفاک فوج نے شہید کر دیا ہے۔ 12/ ہزار کشمیری عفت ما آب خوا تین کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی کی گئی۔ہزاروں نوجوانوں کو قید کی صحبتوں کے دوران اپائج کر دیا۔

لاتعداد نوجوان کو غائب کر دیا گیا۔ ہزاروں کشمیریوں کے ماروائے عدالت شہید کر کے اجتماعی قبروں میں دفنا دیا۔ بار بار اجتماعی قبریں باز یاب ہو رہی ہیں ۔ کئی بارکشمیریوں کی پراپرٹیوں پر گن پاؤڈر چھڑک کر جلا دیا گئیں۔ بھارت میں زیر تعلیم کشمیری بچوں کو بھارت کی یونیورسٹیوں سے صرف اس لیے خارج کر دیا گیا کہ کرکٹ میچ کے موقعے پر پاکستانی ٹیم کے لیے نعرے لگاتے ہیں۔

کشمیر میں آزادی کے شہیدوں کے کئی قبرستاں وجود میں آ چکے ہیں ۔ کشمیری لیڈر شپ کو کبھی قید تو کبھی گھروں میں بند کر دیا جاتا ہے۔کیا اتنے مظالم جاری رکھ کر بھارت کشمیریوں کو اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے؟ نہیں یقیناً نہیں۔بھارت کب تک اٹوٹ انگ کی گردان پڑھتا رہے گے۔ اُسے معلوم ہوناچاہیے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کوئی جسم کسی ایک انگ کے بغیر تو زندہ رہ سکتا ہے مگر کوئی بھی جسم شہ رگ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

لہٰذا بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کشمیر پاکستان کی موت اور زندگی کا مسئلہ ہے اس کے بغیر پاکستان زندہ نہیں رہ سکتا۔ یہاں تک کشمیریوں کا تعلق ہے تو کشمیری پہلے راجا سے آزادی مانگتے تھے۔ جس پرراجا نے زندہ کشمیریوں کی کھالیں اُتاری تھیں۔جیل کے احاطے میں آذان مکمل کرتے ہوئے22کشمیریوں کو گولیاں مار کر بے دردی سے ،راجہ کے فوجیوں نے شہید کر دیا تھا۔

پھر بھی کشمیری آزادی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد بھارت سے آزاد ہونے کی تحریک چلائے ہوئے ہیں۔ جب ہندتقسیم ہوا توتقسیم ہندکے فارمولے کے تحت کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا تھا۔ مگر بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں اُتار کر کشمیریوں کو زبردستی غلام بنا لیا۔ اب بھی 8لاکھ بھارتی فوج کشمیر میں لگائی ہوئی ہے۔ بظاہر سیکرلر ملک ہونے کے باوجود کبھی نماز جمعہ پر پابندی لگاتے ہیں کبھی مزاروں کو گن پاؤڈرپھینک کر زیرین سمیت جلا دیتے ہیں۔

مغرب کے لونڈی اقوام متحدہ جس کے پاس اب بھی مسئلہ کشمیر موجود ہے۔ اس پر کئی قرارادادیں بھی منظور کی گئیں تھی۔ بھارت نے کسی ایک قراداد پر بھی عمل نہیں کیا۔ اب کیابھارت کو اس نافرمانی پر انعام کے طور پر اقوام متحدہ کا مستقل ممبر بنایا جا رہا ہے۔ امریکہ کے صدر نے اپنے حالیہ دورے کے موقعہ پر وعدہ کیا کہ وہ اس کو اقوام متحدہ کی مستقل نشست دلائے گا۔

اور یہ بھی کہا دنیا میں امن قائم کرنے کے امریکابھارت پارٹنر ہیں۔ امریکہ نے بھارت سے بہت سے دفاعی معاہدے بھی کیے ہیں۔ بھارت اور امریکا کے درمیان2008ء کے سول نیو کلر معاہدہ کے بعد ٹریکنگ ڈیوائس کے معاملے پر اختلاف چل رہا تھا۔امریکا نیوکلرسپلائی کی جو مانیٹرنگ کرتا تھا اس پر سے بھی پابندی ہٹا دی۔ امریکا کی بھارت کے ساتھ اس نوازشوں پر پاکستان نے بجا طور پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دوستی تو پاکستان سے ہے اور ہنی مون بھارت کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

امریکا کے کہنے پر پاکستان نے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کیا ہے۔ دہشت گردی کے کنٹرول پر پاکستان کو ڈو مور کا کہا جاتا ہے اور مہربان بھارت پر ہوتا ہے۔ امریکا نے اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے پاکستان کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ پاکستان اپنے خارجہ پالیسی پر ازسرنو غور و فکر کر کے اپنے دوست تلاش کرے ۔ اس سلسلے میں پاکستان کے مسلح افواج کے سپاہ سالار کا بروقت دورہ چین بھارت کو منہ توڑ جواب ہے۔

پاکستانی افواج کے سپہ سالار چین کے دورے پر گئے اور چین نے پاکستان کو ہمیشہ کی طرح اس نازک موقعے پر ساتھ دینے کی بات کی۔چین نے امریکا کو بھی خبر دار کیا کہ وہ بھارت کو علاقے کا تھانیدار نہ بنائے۔ اس پر امریکی صدر نے چین کے اس بیان پر تعجب کا اظہارکیا۔بہر حال امریکا نے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدے کر کے علاقے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔

اس سے بھارت کی کشمیر پر گرفت مذید مضبوط ہوجائے گی۔ جس پر پاکستان کو بہت فکر ہے ۔ اس دفعہ 7سال کے بعد پہلی دفعہ23 مارچ کو پریڈ کا انعقاد کر کے پاکستان بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرے گا۔ جس میں چین کے صدر بھی شریک ہونگے۔ہماری بہادر افواج نے اس پروگرام کو ترتیب دے کر عوام کے دل چیت لیے ہیں۔عوام کو اپنے ازلی دشمن بھارت کے خلاف مسلح افواج کے ہاتھ مضبوط کریں گے۔

ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو بھی ختم کرنے میں مسلح افواج کے ساتھ ہیں۔ساتھ ہی ساتھ اس سے پاکستان اور کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہونگے۔ کشمیر پہلے سے بڑھ کر آزادی کی جنگ لڑیں گے۔ انہیں معلوم ہے مضبوط پاکستان ان کی آزادی کا مظہر ہے۔ وہ پاکستان کی ترقی کے لیے دن رات دعائیں کرتے ہیں۔ وہ پاکستان کے ساتھ ملنے کا اظہار ہر موقعے پر کرتے رہتے ہیں۔

وہ تکمیل پاکستان کی جنگ68 سال سے لڑ رہے ہیں اس دفعہ ۵ فروری کے موقعے پر بھی پاکستانی عوام اور حکومت کی طرف سے کشمیریوں کو زبردست پیغام ملے گا کہ پاکستانی عوام ان کی جد وجہد آزادی میں برابر کی شریک ہیں۔ ہر وقت کشمیریوں کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اب ان شاء اللہ کشمیر کی آزادی قریب تر ہو جائے گی۔ کشمیر پاکستان کے ساتھ مل جائے گا۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-02-05

کالم نگار     :     میر افسر امان

میر افسر امان کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-