بند کریں
پیر جنوری

حج2015کی پالیسی کیلئے تجاویز

میاں اشفاق انجم :

میں نے قارئین سے وعدہ کیا تھا حج پالیسی 2015ء کے لئے تجاویز پیش کروں گا۔ اسی سلسلے میں کچھ گزارشات وزارت مذہبی امور اور کچھ سعودی حکومت سے کروں گا۔ حج پالیسی کی عملی تیاری تو سعودی حکومت سے ایگریمنٹ سائن ہونے کے بعد ہی شروع ہوتی ہے۔ خوش بختی ہے وزارت مذہبی امور کی جہاں انہیں تجربہ کار سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری کے تبادلے کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے۔ وہاں دور اندیش ،محنتی ڈپٹی سیکرٹری فرید الله خٹک سیکشن آفیسر ،ناصر عزیز اور اظہر ہاشمی جیسے ایماندار افراد کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ ناصر خان اور حافظ شیر علی کی وزارت مذہبی امور میں تبادلے کی خبروں سے خوف زدہ لابی سے بھی یہی کہوں گا۔ ایماندار افسر جہاں بھی ہوگا ملک ملت کا سرمایہ ہے کام تو الله نے لینا ہے وفاقی سیکرٹری مذہبی امور عامر سہیل مرزا کی پرائیویٹ حج سکیم کے حوالے سے تحفظات کے اظہار کے حوالے سے جو خبریں منظر عام پر آ رہی تھی کہ مخصوص لابی جن کے مفادات سرکاری حج سکیم سے وابستہ ہیں انہوں نے نئے سیکرٹری ایڈیشنل سیکرٹری جوائنٹ سیکرٹری کو پرائیویٹ حج سکیم کے حوالے سے حقائق کے منافی اور گمراہ کن پٹیاں پڑھا رہے تھے۔ یہی وجہ ہے عامر سہیل مرزا جب سے وفاقی سیکرٹری مذہبی امور کی حیثیت سے میدان میں آئے ہیں۔ انہوں نے سرکاری حج کی کامیابیوں کا خوب ڈھونڈراپیٹا ہے اور ساتھ سینٹ اور قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹیوں کے دباؤ کا بہانہ بنا کر یہاں تک کہہ دیا ہے مجھ پر سرکاری حج کوٹہ بڑھانے کا پریشر ہے ۔ بظاہر وفاقی سیکرٹری نے ہوپ کے نمائندوں پر دھاک بٹھانے کے لئے بظاہر عرصہ تک مصروفیت کی چادر میں اپنے آپ کو لپیٹے رکھا۔ سینٹ اور قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹیوں کے ذمہ داران وفاقی سیکرٹری اور ہوپ کے ذمہ داران کی مشترکہ میٹنگ کے بعد سارے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا ہے، جب سٹینڈنگ کمیٹیوں نے پرائیویٹ حج سکیم کو 50فیصد کا سٹیک ہولڈر تسلیم کیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے بھی وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں سائن ہونے والے ایم او یو کا اعتراف کیا اور کہا پرائیویٹ سکیم ہماری شروع کردہ نہیں بلکہ سعودی حکومت کی پوری دنیا کی طرح پاکستان کے لئے پالیسی کا حصہ ہے۔ لاہور میں ہونے والی حج کانفرنس کے موقع پر وفاقی سیکرٹری عامر سہیل مرزا ایڈیشل سیکرٹری خالد حنیف جوائنٹ سیکرٹری محمد فاروق سے مل کر جو میں نے خود اندازہ لگایا کہ مارکیٹ میں افواہیں جو پھیلائی جا رہی ہیں۔ حقیقت میں ان کا کوئی تعلق نہ ہے۔
حج ورکشاپ میں عامر سہیل مرزا صاحب کے خطاب کے بعد وقفے میں جوائنٹ سیکرٹری حج محمد فاروق سے تفصیلی بات کرنے کا موقع ملا تومیں نے کہا جناب سرکاری حج سستا ہونے کی وجہ سے جو کامیابیوں کا ڈھونڈرا پیٹا جا رہا ہے اور بار بار پرائیویٹ حج سکیم سے تقابل کیا جا رہا ہے اس میں آپ لوگوں کا کیا کردار ہے۔ آپ کا کردار تو واضح ہوگا 2015ء کے حج کے بعد دوسرا میں نے ان سے پوچھا 2010ء اور2011ء میں سرکاری حج سکیم میں منظر عام پر آنے والے سکینڈل اور بے ضابطگیوں کے بعد کیوں یہ نہیں کہا گیا۔سرکاری حج سکیم ختم کر دی جائے مجھے بڑی خوشی ہوئی وفاقی سیکرٹری ایڈیشنل سیکرٹری کی طرح جے ایس حج محمد فاروق تمام حقائق سے آگاہ ہیں بلکہ تھوڑے وقت میں سب کچھ سمجھ گئے ہیں۔فاروق صاحب نے جو حج 2015ء کے لئے تیاریوں اور 2014ء میں سرزد ہونے والی غلطیوں کے ازلے کا نقشہ پیش کیا تو مجھے حوصلہ ہوا سرکاری اور پرائیویٹ حج محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
حج 2015ء کی تجاویز سے پہلے وزارت مذہبی امور نے نئے ذمہ داران سے عرض کرنی ہے ۔ 2010ء کے حج میں معمولی بے ضابطگیوں کو جو صرف 19فیصد عمارتوں کی خریداری میں اربوں روپے کی کمیشن اور کرپشن بنا کر پوری دنیا میں وزارت اور وطن عزیز کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ وہی مافیا دوبارہ حج 2014ء کے کامیاب آپریشن کو ناکام قرار دینے کے لئے سعودیہ میں گزشتہ 3سال سے ایمانداری کے ساتھ کام کرنے والے ڈی جی حج سید ابوعاکف اور ان کی ٹیم کو صرف اس لئے اربوں روپے کی کرپشن کا ذمہ دار قرار دے کر بدنام کر رہا ہے ان کے حوالے سے خبریں آئی ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری خالد حنیف کے سیکرٹری بننے کے بعد ابوعاکف کو ایڈیشنل سیکرٹری بنایا جا رہا ہے۔
میاں نوازشریف نے سعودیہ کے دورے کے دوران ڈی جی حج ابوعاکف اور رافع شاہ کی تعریف کر دی ہے۔ کون لوگ ہیں باہر کے نہیں وزارت کے اندر موجود ہیں سابق وفاقی وزیر علامہ حامد سعید کاظمی ڈی جی حج راؤ شکیل جے ایس حج آفتاب اسلام انہی کی سازشوں کی بھینٹ چڑھائے گئے۔ اب بات کرتے ہیں حج 2014ء میں پیش آنے والے مسائل اور حج 2015ء میں ان کے حل کے حوالے سے منیٰ کے خیمے اور کولنگ کا نظام ایک صدی سے زائد پرانا ہو چکا ہے۔90 فیصد کولر خراب ہیں۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی سربراہی میں جانے والا وفد حج 2015ء کا ایم او یو سائن کرتے وقت سعودی حکومت کو باور کرائے ، منیٰ کے خیمے اور کولر بدلے جائیں گرمی میں حج کی وجہ سے حجاج بہتر انداز میں مناسک حج نہیں کر پاتے۔
حج 2015ء کے لئے وزارت مذہبی امور اوپن سکائی پالیسی اپنائے سرکاری اور پرائیویٹ حج سکیم کا کرایہ یکساں رکھا جائے۔ حج 2015ء میں دنیا بھر کی 8ایئرلائنز 85ہزار میں حج کروانے کے لئے تیار تھیں۔ پی آئی اے نے 125000کرایہ دے کر سب کو مجبور کیا وہ بھی یہی کرایہ لیں اس روایت کو ختم کرائیں۔40روزہ 20روزہ حج کے لئے تمام ایئر لائنز کو اجازت دیں ایک کرایہ فیکس کر دیں۔
وزارت مذہبی امور لازمی واجبات کی مد میں ہر سال اضافہ ختم کرے اور لازمی واجبات حج 2015ء کے لئے کم کرے حج آرگنائزر کو بار بار سعودیہ جانا پڑتا ہے۔ کم از کم چھ ماہ کے لئے ملٹی پل ویزہ جاری کرے۔ وزارت مذہبی امور سازشوں کا حصہ بننے کی بجائے حقائق کو سامنے رکھے۔ جلد حج پالیسی کا اعلان کرتے اور پہلے سرکاری حج سکیم کی درخواستیں وصول کرے اور پھر پرائیویٹ حج سکیم کو بکنگ اور تیاریوں کے لئے مناسب وقت دے۔
حج آرگنائزر کی طرف سے آخری درخواست جو بہت زیادہ آئی ہے وہ سعودیہ میں بنک اکاؤنٹ کھولنے کی ہے۔ رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے گورنمنٹ آف پاکستان مداخلت کرے۔ ہنڈی کے ذریعے پیسہ باہر منتقل کرنے کے خاتمے کے لئے ضروری ہے۔ حج آرگنائزر کے اکاؤنٹ فوری کھولے جائیں۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ وزارت مذہبی امور اگر چاہتی ہے پرائیویٹ حج سکیم زیادہ موثر ہو تو کم از کم 2020ء تک لیٹر جاری کرے تاکہ حج آرگنائزر مکہ مدینہ میں مستقل عمارتیں حاصل کرکے حج سستا کر سکے۔ حج کوٹہ کم از کم 100رکھنے کا بھی کہا گیا ہے۔ پرائیویٹ حج سکیم کی طرف سے حج 2015ء کی پالیسی کو موثر بنانے اور عملی بنانے کے لئے توجہ دلائی گئی ہے۔ وفاقی سیکرٹری جوائنٹ سیکرٹری پرائیویٹ حج سکیم کے نمائندوں کو ہر مرحلہ پرمشاورت کا حصہ بنائے۔پرائیویٹ کی طرح سرکاری حج سکیم کی مانیٹرنگ بھی ہوپ کی مشاورت سے بنائی جائے۔ مناسک حج اور مکہ مدینہ ہوٹلوں میں پیدا ہونے والے مسائل کو موقع پر حل کرنے کاموقع فراہم کیا جائے۔ پرائیویٹ اور سرکاری حج کے لئے تربیتی نظام کو ڈنگ ٹپاؤ پالیسی سے نکال کر مستقبل طریقے اپنائے جائیں۔ گورنمنٹ آف پاکستان 10طرح کے پمفلٹ اور کتابچے شائع کرنے کی بجائے ایک موثر کتاب اور کتابچہ فراہم کرے اور ساتھ کم از کم 10لٹر زم زم حاجی کو حج کا تحفہ لانے کو یقینی بنائے۔5کلو زم زم زیادتی ہے۔ حج 2015ء میں 10کلو کا ایم او یو سائن کرے۔ سرکاری اور پرائیویٹ حج پالیسی 2015ء کی تیاریوں کے لئے مجھے موصول ہونے والی تجاویز قارئین کی نذر کر دی ہیں۔ امید کرتا ہوں وزارت مذہبی امور کے ذمہ داران مثبت تنقید برائے اصلاح سمجھتے ہوئے ان امور کو حج پالیسی 2015ء کا حصہ بنائے گی۔ پوری قوم کی طرح میں بھی 2015ء کی حج پالیسی کے بروقت اعلان اور کامیاب آپریشن کے لئے دعاگو ہوں۔آمین
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-01-25

کالم نگار     :     میاں اشفاق انجم

میاں اشفاق انجم کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-