بند کریں
منگل جنوری

ہم خود ہی اپنے دشمن ہیں

حافظ ذوہیب طیب :

اُس روز جب تمام ملازمین اپنے دفتر پہنچے تو ان کی نظر دروازے پر لگے ایک نوٹس پر پڑی جس پر لکھا تھا:”کل رات ، وہ شخص جو کمپنی اورا ٓپکی بہتری اور ترقی میں رکاوٹ تھا،انتقال کر گیاہے۔آپ سب سے درخواست ہے کہ اس کی آخری رسومات اور جنازے کے لئے کانفرنس روم میں تشریف لے جائیں جہاں اس کا جنازہ موجود ہے“۔یہ پرھتے ہی پہلے تو سب اداس ہو گئے کہ ان کا ساتھی ہمیشہ کے لئے ان سے جدا ہو گیا، لیکن چند ہی لمحوں بعدانہیں اس تجسس نے آگھیراکہ وہ شخص کون تھا جو انکی اور کمپنی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ لہذا تما م ملازمین اس خواہش کو سینے میں دبائے کانفرنس روم کی طرف چلنا شروع ہوجا تے ہیں۔
کانفرنس روم میں لوگو ں کا رش بڑھتا اور یہاں موجود ہر شخص فوری طور پر یہ جاننا چاہتا تھا کہ سامنے پڑی چادر کے نیچے کون شخص ہے۔ ہر شخص دوسرے سے متجسس نگاہوں سے ایک دوسرے سے سوال کرتا نظر آتا لیکن کسی کے پاس اس کاجواب نہ تھا۔ اسی دوران کمپنی کے مالک نے ملازمین سے کہا کہ وہ ایک ایک کر کے آگے جا سکتے اور کفن پو ش کا دیدار کر سکتے ہیں۔صبر کاپیمانہ لبریز ہو تا ہے اور تما م ملا زمین اپنی اپنی باری میں کفن کے قریب آتے ،کفن کی بالائی چادر اٹھاتے اور جیسے ہی اس میں جھانکتے ہیں تو حیران ہو جاتے ہیں ،ان کی آنکھیں پتھرا اور زبان پر خامو شی چھاجاتی ہے ،ایسا معلوم ہو تا تھا کہ جیسے سب سکتے کی حالت میں چلے گئے ہوں۔کچھ لمحات گذرنے کے بعد جب وہ ہوش میں آتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ کفن کے نیچے کوئی انسان نہیں بلکہ ایک آئینہ رکھا ہو ا تھا ،جو بھی کفن کے اندر جھانکتاتو اِس کو آئینے میں اپنا چہرہ دکھائی دیتا اورا ٓئینے پر درج تھا:”دنیامیں صرف ایک شخص ہے جو آپ کی صلاحیتوں کو محدودکر سکتا اور آپ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ شخص آپ خود ہیں“۔
ہمارے ملک کے مسائل ،بگاڑ اور ہمارے اجتماعی روئیے پر بھی یہ مثال پوری اترتی ہے کہ ہم ان تما م مسا ئل اور بگاڑ کا ذمہ دار حکمرانوں اور ارباب اختیار کو ٹہراتے ہیں جبکہ حکمران اور ارباب اختیار ان تما م مسائل کا سہرا عوام کے سر سجاتے نظر آتے ہیں ۔ پٹرول کی حالیہ قلت اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے واقعات جس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ایک طرف تو حکومتی نا اہلی اور کاہلی کے تما م تر ریکارڈ ٹوٹتے نظر آئے جبکہ دوسری طرف عوام نے لوٹ مار کا بازار گرم رکھتے ہوئے جس طرح پٹرول کو مہنگے داموں فروخت کر کے اپنا اصلی چہرہ منظر عام پر لائے وہ انتہائی شرمناک عمل ہے۔
قارئین !ذارئع کے مطابق یہ تما م تر بحران وزارت پٹرولیم اور خزانہ کی ہٹ دھرمی سے پیدا ہوا۔پٹرول سپلائی کر نے والی سب سے بڑی کمپنی(پارکو) بجلی کی بندش کی وجہ سے 5روز تک بند رہی جسے حکومت چھپاتی رہی ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ تما م وزارتوں کی بند بانٹ” مال مفت، دلِ بے رحم“ کے فارمولے کو مد نظر رکھتے ہوئے کی گئی اور پھر جس کے لئے ایسے لوگوں کو مختص کیا جنہیں اپنے محکموں کا نام تک یاد نہیں ہے۔ پٹرولیم کی وزارت پر براجمان شاہد خاقان عباسی کی مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے موصوف کواپنے ساتھیوں کی طرف سے قومی ائیر لائن کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر نے کی وجہ سے اپنی ائیر لائن کے بڑھتے ہوئے کاروبار کی مصروفیات سے وقت بچے تو وہ دوسرے کاموں کی طرف توجہ دیں۔ان کی اس سے بڑھ کے نااہلی اور کیا ہو سکتی ہے کہ انہیں شہر لاہور میں پٹرول کی یومیہ کھپت کے بارے اعدا و شمارکا اندازہ نہیں۔ برادرِ عزیزنجم ولی خان نے اپنے پروگرام ”لائیو فرام لاہور “ میں انکشاف کیا ہے کہ وزیر موصوف کو لاہور میں پٹرول کی کھپت کے اصل اعدا دو شمار کا علم ہی نہیں ۔انہوں نے اپنے دو گھنٹوں پر محیط پریس کانفرنس میں لاہور کی ڈیمانڈ8 ،لاکھ لٹر روزانہ قرار دیتے ہوئے احسان چڑھایا تھا کہ وہ لاہور میں16، لاکھ لیٹرپٹرول بھیج رہے ہیں ۔ جبکہ مصدقہ اعدا و شمار کے مطابق لاہو ر میں پٹرول کی ڈیمانڈ 30، لاکھ لیٹر ہے۔ایسے لا علم وزیر کو معطل اور اس کے خلاف ایکشن لینے کی بجائے ہمارے حکمرانوں نے ایک دفعہ پھر کچھ دوسرے لوگوں کو صدقے کا بکرا بنا کے ان کے گلوں پر معطلی کی چھری چلا دی جبکہ شاہد خاقان عباسی کے دست راست کو ایم ۔ڈی P.S.Oتعینات کر تے ہوئے اس سنگین معاملے کو ”کمیٹی“ کے سرد خانے کی نظر کر دیا گیا ہے۔
قارئین محترم !امید کی جارہی ہے کہ آئندہ چند روز میں پٹرول کا بحران قابو میں آجا ئے گا لیکن اس دوران ارباب اختیار تو ایک طرف ” عوام“ کہلا ئے جانے والی مخلو ق نے پٹرول کا ذخیرہ اور اسے مہنگے داموں فروخت کر کے جس طرح اپنے ہی جیسی عوام کا حق غصب کیا ہے اس کی مثال بھی پوری دنیا میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔اگر ہم سب واقعی ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالنا چاہتے تو اس کے لئے ہمارے سمیت حکمرانوں اور اربا ب اختیار کو بھی آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے، ان تما م حالات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے یہ تسلیم کر نا ہو گا کہ ہم خود ہی اپنے دشمن ہیں،ہم سب اپنی اپنی جگہ اس کے ذمہ دار ہیں ۔ اگر ہم اس ملک کو حقیقت میں قائد کا پاکستان بنا نا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ضرورت ہے کہ جو جہاں بھی، جس حیثیت میں کام کر رہا ہے وہ پوری ایمانداری، سچائی اور لگن سے اپنے فرائض کو سر انجام دیتے ہوئے اپنے ساتھ مخلص ہو جائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2015-01-21

کالم نگار     :     حافظ ذوہیب طیب

حافظ ذوہیب طیب کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-