بند کریں
ہفتہ دسمبر

جنگل کا قانون چاہیے۔۔۔

سید شاہد عباس :

 ٹی وی آن کیا تو تو ایک اینکر انتہائی جذبات انداز میں سانحہ پشاور کے مقام سے دنیا کو پیغام دے رہے تھے کہ دنیا میں اگر امن قائم ہوا تو تاریخ میں یہ ضرور لکھا جائے گاکہ پاکستانی نونہالوں کا خون بھی اس میں شامل تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں یقینا ایسا ہی ہو گا دنیا پاکستان کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھلا سکتی ۔ ہم نے دنیا کا اس وقت ساتھ دیا جب ہمیں طعنہ دیا جاتا تھا کہ ہم غیروں کی جنگ میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ ہمارے لیے ہرگز آسان فیصلہ نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ہم کم و بیش 70000 بے گناہوں کے خون سے دنیا میں امن کے باب کو لہو رنگ لفظ دے چکے ہیں۔اور پاکستان نے اب جو قربانی پیش کی ہے وہ شاید پوری دنیا کے لیے ایک جھٹکے کی مانند ہے۔ جو لوگ پاکستان سے ہمیشہ مزید تعاون کے طلبگار رہے ان کی آنکھوں میں پاکستان کے مستقبل کی شہادت پر آنسو نظر آئے۔
141 تو شہادت کا رتبہ پا گئے۔ لیکن اپنے پیچھے ایسی داستانیں رقم کر گئے جنہیں سن کر دنیا حیران ہے کہ اس قوم کی بنیادوں میں ایسا کیا ہے جو اسے اس قدر ممتاز کر دیتا ہے۔ ایک طالبعلم جسے سینے میں دائیں طرف بھی گولی لگی اور اس کی ٹانگ پہ بھی بارود نے تباہی مچائی تھی۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ تعلیم حاصل کر کے کیا بنے گا تو اس کا جواب تھا کہ وہ فوج کا حصہ بن کر ان لوگوں کو کڑی سزا دے گا جنہوں نے اس کے سکول پہ یہ ظلم ڈھایا۔کیا جب دنیا میں امن کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں ننھی 6سالہ خولہ کا ذکر نہیں ہو گا جس کا سکول میں پہلا دن تھا؟ وہ اپنے اسی سکول میں زیر تعلیم دو بھائیوں کو دیکھ کر خوشی خوشی سکول میں داخل ہوئی تھی۔ اور اس کا سکول میں پہلا دن ہی اس کا یوم شہادت بن گیا۔ میرے تصور میں ایک منظر ابھر رہا ہے کہ ننھی خولہ خدا کی بارگاہ میں شہادت کی سند کے ساتھ کھڑی ہو گی اور خدا اس سے اس کی خواہش پوچھے گا تو وہ ان ظالموں کے لیے خدا سے کیا مانگے گی؟ اور کیا خولہ نے جو اذیت برداشت کی۔ اس نے ہر زخم لگنے پہ جب اپنی ماں کو پکارا ہو گا تو کیا اس کی پکار پر خدا نے ان ظالموں کے نصیب میں اذیت نہیں لکھ دی ہو گی ؟ بے شک لکھ دی ہو گی۔
شاید پہلے بھی یہ تحریر کر چکا ہوں کہ دشمن اس قوم کو جتنا نیچے گرانے کے لیے صدمات سے دوچار کرتا ہے اتنا ہی یہ قوم پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ سینہ تان کر دشمن کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ جیسے 313 نے بدر کے میدان میں کفر کے مقابلے میں خود کو سیسہ پلائی دیوار ثابت کیا تھا۔ جب احد کا پہاڑ مسلمانوں کے جذبے سے دنگ رہ گیا تھا۔ جب قلعہ خیبر کا وزنی دروازہ ہواؤں میں لہرایا گیا تھا۔ یہ قوم بھی تو اپنے اجداد کا خاصہ رکھتی ہے ۔ یہ قوم بھی تو لڑنے کا ہنر جانتی ہے۔ اس قوم کے جذبوں کو آتشیں اسلحے و بارود کے زور پر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن یہ جذبے دشمن کے منہ پر طمانچے کی صورت پڑتے ہیں۔
محترمہ طاہرہ قاضی شہیدہ ، ان کو موقع ملا کہ وہ اپنی جان بچا لیں۔ لیکن محترمہ کا تعلق وفا کے قبیلے سے تھا۔ وہ اس قافلے کی راہی تھیں جو نسلوں کا امین ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے تک کو یہ کہہ کر فون بند کرنے کا کہا کہ انہوں نے بچوں کے والدین کو مطلع کرنا ہے۔ وہ شاید اس لیے بھی اپنی جان بچانے کی راہ پہ قدم نہیں بڑھا سکیں کہ ان کے کندھوں پہ ایک ہزار سے زائد قیمتی ہیروں کا بوجھ تھا ۔ وہ کیسے گوارا کر سکتی تھیں کہ ان کے ہیرے تڑپتے رہیں اور وہ اپنی جان بچا لیں۔ جان بچا کے وہ چند سال کی زندگی پا لیتیں لیکن اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے انہوں نے نہ صرف خود کو تاریخ کے دھارے میں امر کر لیا ہے بلکہ پوری قوم کا سر بھی فخر سے بلند کر دیا ہے۔
میں تو حیران ہوں بلاول کے باپ کے جذبے پہ جو پہلے شدید آنسو بہا رہا تھا جب اسے بتایا گیا کہ اس کا بیٹا اپنے ساتھیوں کو بچانے کی کوشش میں شہید ہو گیا ہے تو اس کے آنسو ؤں میں ایک عجیب طرح کی مسکراہٹ شامل ہو گئی ایسی مسکراہٹ جو صرف ایک شہید بیٹے کے باپ کے چہرے پر ہی ہو سکتی ہے۔ اس عظیم باپ کا کہنا تھا کہ اسے اپنے بلاول پہ فخر ہے۔اور ہمیشہ فخر رہے گا۔واہ ۔۔۔۔ پاکستان قوم کے سپوتو۔۔۔ واہ۔۔۔
فتح و شکست اللہ کی طرف سے مقدر میں لکھ دی جاتی ہیں۔ لیکن جس قوم کے پاس محترمہ افشاں شہیدہ جیسے اساتذہ ہوں کیا شکست ان کے قریب بھی پھٹک سکتی ہے؟ ان کی کلاس کے ایک زخمی طالبعلم عرفان اللہ کے مطابق جب دہشت گرد ان کی کلاس میں داخل ہوئے تو ہماری ٹیچر ہمارے سامنے کھڑی ہو گئیں ۔ اور ان سے کہا کہ میرے بچوں کو نقصان پہنچانے سے پہلے میری لاش سے گزرو گے تم لوگ۔انہیں شعلوں کی نذر کر دیا گیا۔ لیکن عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس طالبعلم کے بقول وہ شعلوں میں لپٹ کر بھی طالبعلموں کو بھگاتی رہیں۔ میرے خدا!!! تیرا احسان کہ تو نے مجھے اس قوم کا فرد بنایا جو شعلوں سے بھی نہیں گھبراتی ۔
قیام پاکستان کے وقت جب ہمارے بڑوں نے قربانیاں دیں تو شاید اسی آس پہ دیں کہ اس قوم کے نونہال بھی ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔ اور یقینا یہ نونہال ان کی توقعات پہ پورا اترے اس کا واضح ثبوت حادثے کے تیسرے ہی دن اس سکول کے بچ جانے والے طالبعلموں کا سول سوسائٹی کے ساتھ سکول کے بالکل سامنے کیا گیا مظاہرہ تھا۔ جوشاید اس بات کا ثبوت تھا کہ گھبرانا اس قوم کی سرشت میں نہیں ہے۔
دہشت گرد پوری منصوبہ بندی کر کے پاکستان پہ وار کر رہے ہیں مستقبل قریب کا جائزہ لیں تو 2004 میں چینی انجینئرز کو نشانہ بنا کر توانائی کے شعبے میں پاکستان کو نقصان پہنچایا گیا۔ 2008 میں مالم جبہ کا مشہور عالم ریزورٹ دہشت گردی کا نشانہ بنا۔یعنی سیاحت پہ وار کیا گیا۔ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر حملے سے پاکستان میں کھیلوں کے میدان ویران ہو گئے۔ 2013میں نانگا پربت پر سیاحوں کو نشانہ بنانے سے نہ صرف سیاحت کو نقصان ہوا بلکہ خارجہ معاملات میں چین کے ساتھ تعلقات پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔
توانائی، سیاحت، کھیل، اور قریبی دوست ممالک کے ساتھ تعلقات، اور اب تعلیم۔ چن چن کر ان شعبوں پر وار کیے گئے جو پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اور اب سکول پر حملے سے نئی نسل کو تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن دشمن شاید بے خبر ہے کہ یہ وار ہمارے اندر مقصد کی لگن اور بڑھا دیتے ہیں۔ صرف نشانہ بننے والے سکول کی ہی بات کریں تو وہاں کے طالبعلم بھی اپنے شہید ساتھیوں اور اساتذہ کا مشن آگے بڑھانے کو اپنا اولین مقصد قرار دے چکے ہیں۔ یعنی دشمن ہمیں تعلیم سے دور رکھنے میں ناکام ہو گیا۔
اغیار پاکستان کو نشانہ بناتے ہوئے جنگل کے قانون پر عمل کرتے ہیں۔ ان کا جہاں بس چلتا ہے ہم پہ ضرب لگاتے ہیں۔ اس کے لیے نہ تو انہوں کسی رسمی اجلاس کی ضرورت پڑتی ہے نہ ہی کسی کمیٹی سے سفارشات کی ضرورت پڑتی ہے۔ مقصد کسی پر بھی تنقید نہیں ہے بس عرض اتنی سی ہے کہ اگر دشمن جنگل کے قانون کو سامنے رکھ کے دہشت پھیلا رہا ہے تو ہمیں بھی کسی کمیٹی، کمیشن، یا اجلاس کے جنجھٹ میں پڑے بغیرجنگل کے قانون سے ہی امن لانا ہو گا۔ کچھ لمحے کے لیے خود کو پتھر کے دور میں لے جائیں۔ اور دشمن جیسا وار کرے اس کو بناء کسی انتظار کے ویسا ہی وار جواب میں دیں۔اگر دشمن کے نزدیک جنگل کا قانون ہی امن کا قانون ہے تو یہی قانون اپنا لیں۔ لیکن نئی نسل کے لہو کو اتنا ارزاں نہ ہونے دیں کہ جب جس کا جی چاہے بہا دے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-12-20

کالم نگار     :     سید شاہد عباس

سید شاہد عباس کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-