بند کریں
ہفتہ دسمبر

چھلنی خوابوں سے ٹپکتا لہو کیاکہہ رہا ہے

اے وحید مراد :

دنیا کی کسی زبان میں وہ الفاظ نہیں ہوں گے جن میں اس واقعہ کو اس کی مکمل ہولناکی کے ساتھ لکھا جاسکے۔ اس زمین پریا شاید اس سے پرے بھی کوئی ایسی زبان نہیں جس میں اس واقعہ کو بیان کیاجاسکے جو پشاور کے اسکول پر حملے میں پیش آیا۔ اس سے زیادہ دکھ، تکلیف اورکرب شاید ہوہی نہیں سکتا جو ہم نے سولہ دسمبر دوہزار چودہ کے روز دہشت گردوں کے ہاتھوں اٹھایا۔ اور شاید اس سے زیادہ درندگی، سفاکیت اور وحشیانہ پاگل پن کوئی انسان کر ہی نہیں سکتا جو دہشت گردوں نے معصوم بچوں سے کیا۔ ہم کبھی اس کو فراموش کرسکیں گے اور نہ ہی اس درندگی کے ذمہ داروں کو معاف۔۔ کبھی نہیں۔
وہ سارے مسکراتے اورمعصوم چہرے، تاریکی، دہشت، وحشت اور درندگی کی نذر ہوگئے جن کے سہانے مستقبل کے خواب ان کے والدین نے دیکھے تھے۔وہ جو اپنے والدین کی جوانی کاحسن تھے، وہ جن کو ماں باپ کے بڑھاپے کی لاٹھی بننا تھا، وہ جن کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر ان کے والدین نے ساٹھ برس کی عمر میں قدم اٹھانا تھے ان کو خون میں نہلا دیا گیا۔ وہ جو اپنے گھر والوں کے ایسے خواب تھے جن کو دن کے وقت چشم تصور سے دیکھا جاتا ہے اور انسان میں مستقبل کی خوبصورت امید کھل اٹھتی ہے، مگران خوابوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔ وہ خواب جن سے ٹپکتا لہو اب مارے جانے والوں کے والدین کو تاحیات اذیت سے دوچار رکھے گا کہ ان کے پھولوں کو کس قدر بے دردی سے مسلا گیا، کتنی وحشت تھی ان درندوں میں جنہوں نے تاک کر معصوموں کو نشانہ بنایا۔
پشاور کے معصوم بچوں کے بہیمانہ قتل عام نے نیند میں چلنے کی بیماری میں مبتلا معاشرے کو جھنجھوڑ کررکھ دیا ہے، ملک کے طول وعرض میں ہردل سوگ کی گہری جھیل میں ڈوب گیاہے۔ ہر چھوٹے بڑے شہر نے اتنا پرامن سوگ منایا کہ کسی حکومت یا سیاسی جماعت کے اعلان پر بھی شہروں کے شہر اس طرح بند نہیں ہوئے جیسے سترہ دسمبر دوہزار چودہ کو ہوئے۔ گزشتہ تیرہ برس میں راول پنڈی ، اسلام آباد میں کبھی ایسی کیفیت نہیں دیکھی، ہر کسی نے کاروبار بند رکھا اور مغموم دل لیے ان معصوم پرندوں جیسے بچوں کو یاد کرتارہا جو سفاک شکاری درندوں جیسے دہشت گردوں کی بندوقوں کی زد میں آکر مارے گئے۔ لوگوں نے زبان،رنگ، نسل، عمر اور عقیدے سے ماوراہوکر شہیدوں کی یاد میں شمعیں روشن کیں اور پھول رکھے۔
پشاور کے قتل عام کے خلاف قومی یک جہتی کا مثالی مظاہرہ دیکھنے میں آیا مگر کیا صرف دکھ کااظہار اور سوگ ہی کافی ہے؟۔ یہ بات تکلیف دہ ہے مگر حقیقت یہی ہے ، ہم کچھ دن سوگ منائیں گے اور پھر وہی روز وشب ہوں گے۔ کیا ہم ایک بار پھر کسی نئے سانحے تک خاموشی اور غفلت کی چادر اوڑھ کر سو جائیں گے؟۔ کیا یہ واقعہ بھی چند روز کیلئے ٹی وی ٹاک شوز اور اخباری کالموں کی زینت بننے کے بعد ایک تلخ یاد بن جائے گا؟۔ یا اس بار ہمارے ادارے فیصلہ کن طور پر دہشت گردوں کی ساری کمین گاہیں اور ان کے رسد کے سارے راستے تباہ کردیں گے۔
کیا آرمی پبلک اسکول ایسے علاقے میں واقع نہیں تھا جس کو ہائی سیکورٹی زون کہا جاتا ہے؟۔ اس کی حفاظت کی ذمہ داری کس کی تھی اور غفلت کے مرتکب کون ہوئے؟۔کیا یہ سوال نہیں پوچھے جانے چاہئیں؟۔ کیا اب ہم ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیلئے تیارہیں؟۔ کیا ہم مان لیں گے کہ خفیہ ادارے مجرموں کے منصوبے کو پکڑنے میں ناکام رہے؟۔ اگر درستگی شروع کرنی ہے تو پہلے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرناہوگا، ماننا پڑے گا کہ ہم نے عفریت پالے، ہماری حکومتوں نے دہرے معیار اپنائے، ہم گومگو کی پالیسی کاشکار تھے یا من مرضی کرتے رہے۔ مان لیجئے اور معافی کی درخواست کیجئے، مستقبل کیلئے یک سوئی کے ساتھ اس دیس کے باشندوں کے حقیقی محافظ بن جانے کا عہد کیجئے۔ عسکری اور سیاسی ہر دو قیادتیں اپنی صفوں کو درست کریں، پھر معاشرے میں پھیلے گند کی صفائی کیلئے مسجد کے مولوی اور مدرسے کے مدرس کارخ کریں۔ لاؤڈ اسپیکر پر چیختے ذاکر اور سڑکوں پر چلاتے، نعرے لگاتے جنونیوں کو لگام ڈالیں۔صرف مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے کے فیصلے پر روکے گئے عمل کی بحالی کافی نہیں ، عدل کے نظام کو درست کریں، ملزم کو مجرم ثابت کرنے کی رفتار کو تیز کریں، عام آدمی کا ایمان اس نظام پر بحال کرانے کیلئے اقدامات کریں۔یقین جانیں آپ کو یہ سارے کام ایک ساتھ کرنے پڑیں گے، اس کے بغیر آپ صرف پڑوسی ملکوں پرالزام لگاتے پھریں گے، قبائلی علاقوں میں جنگی جہازوں سے بم برساتے رہیں گے مگر گلتے سڑتے معاشرے کو اس کا فائدہ نہیں پہنچے گا، اس کی سڑاند نہیں جائے گی، اس کے جنون، اس کے ہیجان میں کمی نہیں ہوگی، ان وحشی درندوں سے ہمارے بچے محفوظ نہیں رہیں گے۔
اس وقت ہمارے جذبات آسمان سے باتیں کررہے ہیں، ہم سب انتقام چاہتے ہیں، ان درندوں سے جنہوں نے سفاکانہ کھیل کھیلا، جنہوں نے ہماری خوشیاں چھین لیں، جن کی بندوقوں نے ہمارے خواب چھلنی کردیے، جن کے وحشیانہ پاگل پن نے ہمارے مستقبل کو خون میں نہلا دیا۔ اورایک بہترین اور دیرپا انتقام یہی ہوسکتاہے کہ اس سر زمین پر پھر کبھی کوئی ایسا کرنے کے بارے میں اپنی سوچ میں بھی منصوبہ نہ بنائے، اس کیلئے ضروری ہوگا کہ ہم ایسی سوچ کی اٹھان کیلئے مہیا کیے گئے نصاب کو تبدیل کردیں۔دنیا کا سب سے اعلی اور ارفع نصاب انسانیت ہے،ہم دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے ساتھ اپنی آنے والی نسلوں کیلئے امن کا یہ سلیبس بھی نافذ کردیں، اسی میں نجات ہے، یہی وقت کی آواز ہے۔
وہ لمحہ آن پہنچا ہے کہ ہم اپنا فیصلہ کرلیں۔ اس معاشرے کو اب زندہ لوگوں کی پروا ہونا شروع ہوجانی چاہیے جو صرف مرنے والوں پر آنسو بہاتا اور سوگ مناتا ہے ۔ یہ سوال پوچھنے کاوقت آگیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ ہیں یا وحشت اور درندگی کے ذریعے دہشت پھیلانے والوں سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔معاشرے کو دیرپا اور مستقل امن دینے کیلئے اوپر سے نیچے اور دائیں سے بائیں ہرجانب جراحی کی ضرورت ہے۔ ہمارے گولیوں سے چھلنی خوابوں سے ٹپکتا لہو ہم سے یہی کہہ رہا ہے کہ اب مزید دیر نہ کی جائے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-12-20

کالم نگار     :     اے وحید مراد

اے وحید مراد کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-