بند کریں
منگل دسمبر

آرمی پبلک سکول حملہ، عالمی سازش !!

یونس مجاز :

صاحبو ! دہشت گردوں کے خلاف سوات میں کامیاب آپریشن کے بعد شمالی وزیر ستان کا آپریشن ” ضربِ عضب “پاک فورسزکے لئے دوسرا بڑا امتحان ہے جس میں عالمی منصوبہ سازوں نے لانچ کروانے میں اہم کردار کیا جنھیں کل بھی پاکستانی قوم کا امتحان مقصو د تھا آج بھی ہے جوایک طر ف پاکستانی فورسز پر دہشت گردون کے خلا ف آ پریشن لانج کرنے کے لئے د باوٴ بڑھانے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں تو دوسری جانب دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹِ اسلحہ اور دیگر وسائل فراہم کرنے میں بھی پیش پیش ہیں آپریشن ضربِ عضب کے شروع ہونے کے بعدبظاہر دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی تھی اور ملک بھر میں دہشت گردی کے تسلسل سے ہونے والے خو دکش حملوں میں نمایا ں کمی کا تاثر ملا تھالیکن حالیہ واقعہ نے عندیہ دیا ہے کہ بجھتے شعلوں میں چنگاریاں باقی ہیں جنھیں عالمی سازش کار ہوا دینے کی پالیسی پر گامزن ہیں تاکہ پاکستان انتشار کا شکار رہ کر ان کا مرہونِ منت رہے ان چنگاریوں سے اٹھنے والے شعلے کا پہلا وار واہگہ بارڈر پر فلیگ اتارنے کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس لوٹنے والوں پر خو د کش حملہ تھا جس میں 60افراد جاں بحق اور 121 زخمی ہوئے تھے اس واقعہ کے فوراْ بعد سیکورٹی فورسز کے نواحی بستیوں میں سرچ آپریش کے د وران بھاری مقدار میں بارود کی برآمدگی اور گرفتار ہونے والے مشکوک افراد سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں پڑوسی ملک بھارت کی ایجنسی را کے ملوث ہونے کو رد نہیں کیا گیاتھا جبکہ پشاور آرمی پبلک سکول پر حملہ دہشت گروں کی دوسری کاروائی ہے انسانی تاریخ کے اس بڑے المیہ میں 132بچے اور پرنسپل سمیت9اسٹاف ممبر جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ تین اسٹاف ممبر سمیت 121بچے زخمی ہوئے ہیں جبکہ 960بچوں اور اسٹاف کو بچا لیا گیا ہے سات دہشت گرد بھی مارے گئے ہیں جو سکول کے عقب سے سیڑھی لگا کر داخل ہوئے سیکورٹی ریلیپس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تاہم سزائے موت کے قانون پر عمل درآمدکی پابندی جوسابق صدر آصف علی زرداری نے عائد کی تھی اور نواز حکومت نے بھی اسے بحال رکھاجس کی وجہ سے بھی دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں موجوہ حکومت کی دہشت گردی کے خلا ف اقدامات میں سنجیدگی کا یہ عالم ہے نیشنل کاوٴنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا بجٹ بڑھانے کے بجائے کم کر دیا ہے ایک طرف حکومت نے انٹیلی جنس بیورو کا بجٹ بڑھا یا ہے وہاں دوسری طرف فیلڈ میں کام کرنے والی تمام لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کے بجٹ میں کٹ لگا نے کے کیا مقاصد اور حکمت عملی ہے سمجھ سے بالا تر ہے ایک اخباری رپورٹ کے مطابق جس نیشنل انٹرنل سیکورٹی پالیسی کا ڈھول پیٹا جا رہا تھا اس پر عملدرآمد کے لئے نہ تو فنڈز فراہم کئے ہیں اور نہ ہی وزیراعظم نے ایک مرتبہ بھی نیکٹا کے اجلاس کی صدارت کی ہے نیکٹا بورڈ کے اجلاس کے لئے درخواست وزیر اعظم آفس بھیجی گئی تھی لیکن اب تک اجلاس نہیں ہوا جبکہ مارچ 2013 میں ادارے کے قیام کے بعد سے اس کے بااثر بورڈ زآف گورنر ز کا ایک بھی اجلاس منعقد نہیں ہو سکا بورڈ آ ف گورنر زکے سربراہ وزیر اعظم ہیں دیگر ارکان میں اہم سرکاری عہدیدار اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان شامل ہیں قانون کے مطابق بورڈز آف گورنرز اس بات کا پابند ہے کہ سال میں چار مرتبہ اجلاس منعقد کرے ڈ ی جی آئی ایس پی آر میجر عاصم باجوہ کے مطابق اس بات کا پتہ چل گیا ہے کہ دہشت گردکہاں سے آئے کون تھے اور کن سے ہدا یات لے رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ فورسز اپنا کام کر رہی ہیں تا ہم حکومت ،اپوزیشن اور عدلیہ کو بھی چائیے کہ وہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں یقیناْ قا بل توجہ ہے آرمی چیف جنرل راحیل نے بھی اس سلسلہ میں پشاور گورنر ہاوس میں منعقدہ قومی پارلیمانی اجلاس میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے شائد اسی کا ردعمل ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے سزائے موت پر عملدرآمد سے فوری طور پر پابندی اٹھانے کا اعلان کیا ہے جو یقیناْ قابل تحسین ہے ادھر اس واقعہ کی ذمہ داری فضل اللہ گروپ نے قبول کی ہے جس نے ملالہ پر مبینہ حملہ کیا تھا ٹیلیفون کالز اور دیگر شوائد بھی اس واقعہ کے ڈانڈے افغانستان سے ملاتے ہیں افغان طالبان نے اس حملہ کی مذمت کی ہے سوال یہ پیدا ہوتا کہ فضل اللہ جو افغانستان میں بیٹھا ہے اور وہاں ایساف کی فورسز بھی موجود ہیں افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عملداری ہے ایک طرف امریکہ پاکستان پر پریشرڈ النے میں کوئی موقع ہاتھ سے خالی جانے نہیں دیتا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے جنرل راحیل کے دورہ امریکہ کے دوران بھی اس سلسلہ میں گفتگو ہوئی تھی لیکن پاکستانی فورسزکے مطالبہ کے باوجود فضل اللہ کو حوالے کرنا تو دور کی بات پاکستان میں دہشت گردری کی کاروایوں سے بھی روکنے کی جسارت نہیں کرتا جس کا صا ف مطلب ہے کہ فضل اللہ کو امریکہ کی مکمل سپورٹ حاصل ہے امریکہ کی اس دوغلی پالیسی نے دنیا کا امن طے وبالا کیا ہوا ہے ا امریکہ آج اسی ملالہ کو پروموٹ کرنے اور نوبل امن ایوارڈ دلانے میں سب سے آگے ہے اور وہ اسے مستقبل میں پاکستان کا وزیر اعظم بنانے کی منصوبہ بندی کئے بیٹھا ہے تاکہ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی طرف بڑھ سکے ملالہ بیچاری تو معصوم ہے اس کا باپ اسے امریکہ کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے استعمال کر رہا ہے امریکہ کو ملالہ پر حملے کا کلک ہے تو وہ فضل اللہ کو انصا ف کے کٹہرے میں لا کر عبرت کا نشان کیو ں نہیں بناتا اور ملالہ کو بھی یہ مطالبہ امریکہ سے کرنا چائیے اگر نہیں تو پھر ملالہ کو یہ بات سمجھ جانی چائیے کہ اس کا باپ اور امریکہ اسلام اور پاکستان کے خلاف کتاب لکھوا کر کس ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں جبکہ افغان حکومت بھی پاکستان پر الزامات لگانے میں دیر نہیں کرتی جنرل راحیل شریف کا حالیہ دورہ افغانستان بر محل ہے وہ یقیناْ افغانستان حکومت اور ایسا ف کے چیف سے ملاقات میں ان چبتے ہوئے سوالوں کے جواب طلب کریں گے یہ بات طے ہے معصوم جانوں سے کھیلنے والوں کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں یہ نہ مسلمان ہیں نہ انسان جو درندے ہے اور بیرونی ایجنڈے پر کاربند ہیں جن کے خلاف پوری قوم کو یکسو ہو کر لڑنے کی ضرورت ہے جس کا اظہار قومی پارلیمانی اجلاس میں بھی کیا گیا ہے اور وزیر اخلہ کی سربرائی میں ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی ہے جو پلان آ ف ایکشن تیار کرے گی جسے عسکری قیادت کی مشاورت سے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا امید ہے اس پر عملد رآمد بھی ہو گاکیونکہ بقول اپنے اس شعر سے کہ
یہ آج کس مقام پہ ہم لوگ آگئے
رکنے کی ہے سبیل نہ صورت سفر کی ہے
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔
© www.UrduPoint.com
تاریخ اشاعت: 2014-12-19

کالم نگار     :     یونس مجاز

یونس مجاز کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-